ہندستان میں احیاء اسلام کی تحریک کو درپش علمی چیلنجز

سیاسی بے وزنی، معاشی خستہ حالی اور تعلیمی پس ماندگی جیسی اصطلاحیں ایک مدتِ دراز سے ملت اسلامیہ ہند کے ساتھ کبھی سابقے اور کبھی لاحقے کے طور پر استعمال ہو تی رہی ہیں۔یہ بات محض خام خیالی یا جذباتی بیانیہ نہیں ہے بلکہ مسلمانان ہند کی مجموعی صورت حال کی حقیقی عکاسی ہے جس کی پشت پر گوناگوں اعداد و شمار اور متعدد سروے رپورٹس موجود ہیں۔
پس ماندگی کے اس مکڑی جال سے نکلنے، امت کے ہر فرد کی عظمت کا تحفظ کرنے، اجتماعی سطح پر امت کے تشخص کو بحال کرنے اور ایک نظریۂ حیات کے طور پراسلام کو غالب کرنے کی جدوجہد کا نام ہی احیائے اسلام ہے۔ جس کی خواہش اور آرزو سے ہر اہل ایمان کا دل معمور ہوتا ہے۔
احیائے اسلام کے لیے جہد وعمل بحیثیتِ فرد ہمارا فرض بھی ہے اور بحیثیتِ امت ہمارا مشن بھی۔ انفرادی طور پر احیائے اسلام ہماری ذمہ داری بھی ہے اور بحیثیت ملت مسلمانوں کا نصب العین بھی۔

احیائے اسلام کا وسیع و متنوع مفہوم
احیاء عربی زبان کے لفظ حیی سے ہے جس کے معنی ہیں زندہ رہنا ‘ مصدر احیاء جس کے معنی ہیں ’’ جلا بخشنا یا دوبارہ زندہ کرنا‘‘۔ بحوالہ القاموس عربی یہ لفظ جب اسلام کی عظمت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں اسلام کو زندہ کرنا۔ بظاہر یہ محسوس ہوگا کہ اسلام تو اللہ تعالی کی طرف سے بھیجا گیا مکمل دین اورنظام زندگی ہے جو حیاتِ انسانی کی ہمہ گیر رہنمائی اور ہمہ جہت تزکیہ کا کام کرتا ہے تو پھر اُسے کسی احیاء کی یعنی زندہ کرنے کا کیا معنی ہے؟ نعوذ باللہ اللہ کے دین میں ایسا کیا نقص واقع ہوگیا کہ جس سے اللہ کے دین کو پاک کرنا اہل اسلام پر لازم ہو جاتا ہے؟ یہ چند شبہات ہیں جو ایک عام ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، جن کا ازالہ کیے بغیر احیائے اسلام کے تصور کو سمجھنا ناممکن ہے۔
دراصل جب اسلام کا لفظ احیاء کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے یعنی ’’احیاء اسلام‘‘ تو اس سے مراد مندرجہ ذیل تین باتیں ہیں
1:۔ پہلے مفہوم میں احیاءِ اسلام سے مراد یہ ہے کہ جب اسلام کے ماننے والے اسلام کی تعلیمات کو ترک، تبدیل یا مسخ کر رہے ہوں تو پھر ان تعلیمات کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش اور جدوجہد احیائے اسلام کی تحریک کہلاتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
’’ان الله یبعث لہذہ الامۃ علی راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لہا دینہا
(ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی کے سر پرکوئی ایسا شخص پیدا کرتا رہے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا‘‘۔ (ابوداؤد، السنن، 4:109، الرقم:4291)
گویا ہر صدی کے آخر میں کوئی ایک فرد یا گروہ ایسا آتا رہے گا جو دین اسلام کے چہرۂ اقدس سے بے علم و بدعمل علماء، نام نہاد مشائخ، سرمایہ داروں اور فاسق حکمرانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے آنے والے گرد و غبار کو جھاڑ کر اس کے اصل نورانی چہرے کو دنیا کے سامنے رکھے گا۔
احیاءِ اسلام کا یہ عمل اور تحریک دراصل اللہ تعالی کی مخصوص پلاننگ اور اس کی آفاقی اسکیم کے تحت عمل میں آتا ہے۔ دنیا کے افق پر لاتعداد مذاہب اور طریقہ ہائے عبادت نے جنم لیا ہے مگر گردشِ لیل و نہار کے ساتھ ہی ان کی اصل حیثیت کو مسخ کردیا گیا۔ ان کے اصل ماننے والوں نے ان کی تعلیمات میں قیل وقال، تحریف و تنقیص اور غلو کا عمل شروع کر دیا اور وہ انسانوں کے لیے راحتِ جاں بننے کے بجائے وبال جان بن گئے جس کے نتیجے میں مخلوقِ خدا گھٹن کی زندگی جینے پر مجبور ہوگئی۔

القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبۃ – آیت نمبر 19 ا ٔجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجٌِ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَجَاہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ لاَ یَسْتَوٗنَ عِندَ اللّہِ وَاللّهُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ
ترجمہ:کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھیرا لیا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روز آخر پر اور جس نے جانفشانی کی اللہ کی راہ میں؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا۔
القرآن – سورۃ نمبر 2 البقرۃ – آیت نمبر 249 ا َٔعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم، ِفَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللّہَ مُبْتَلِیْکُم بِنَہَرٍ فَمَن شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْْسَ مِنِّیْ وَمَن لَّمْ یَطْعَمْہُ فَإِنَّہُ مِنِّیْ إِلاَّ مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃً بِیَدِہِ فَشَرِبُواْ مِنْہُ إِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ھُوَ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ مَعَہُ قَالُواْ لاَ طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنودِہِ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّونَ أَنَّہُم مُّلاَقُوااللّہِ کَم مِّن فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِإِذْنِ اللّہِ وَاللّہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ

ترجمہ:پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا، تو اُس نے کہا: ’’ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے جواس کا پانی پیے گا، وہ میرا ساتھی نہیں میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے، ہاں ایک آدھ چلو کوئی پی لے، تو پی لے، مگر ایک گروہِ قلیل کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے، تو اُنہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے، انہوں نے کہا: ’’بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے۔‘‘
عیسائیت ،یہودیت یا ہندو مت اور بدھ مت کی مسخ شدہ مثالیں صفحۂ تاریخ پر جلی حروف میں نمایاں ہیں۔ تاویل کی یہ ساری کوششیں خود نصوصِ اسلام کی تشریحات میں بھی نظر آتی ہیں۔لیکن الله تعالی ہر دور میں ایسے جلیل القدر، عظیم الشان اور مجتہدانہ بصیرت رکھنے والے مجددینِ دین پیدا کرتا ہے جو گرد آلود تعلیمات اور تحریف شدہ احکام پر سے جاہلیت کی پرتیں صاف کرتے ہیں۔اصول و ضوابط کی اصل الٰہی و قرآنی حیثیت میں تشریح اور تعبیر کرتے ہیں۔ چشمۂ شریعت کے شراب کہن سے تصفیہ کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ علم کو ایک نسل سے دوسری نسل میں ایسے لوگ حاصل کریں گے جو اسے غلو کرنے والوں کی تحریفات، باطل پرور لوگوں کی من گھڑت باتوں اور جاہلوں کی تاویلات سے پاک رکھیں گے۔عن ابراہیم بن عبدالرحمن العذری قال رسول اللہﷺ ’’یحمل ھذا العلم من کل خلف عدولہ، ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین و تاویل الجاہلین‘‘ (رواہ البیھقی)
مولانا جرجیس کریمی اپنی کتاب ’’احیاء اسلام مفہوم ،مسائل اور تقاضے‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’۔۔۔یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جب کبھی اسلام کے لیے کوئی فتنہ نمودار ہوا اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی تو اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کے ذریعے اس کا قلع قمع کر دیا۔ چنانچہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے دور کے بعد جب اسلام کی بعض تعلیمات مٹنے لگی تھیں تو اللہ تعالی نے کئی شخصیات پیدا کردیں۔ان میں عمر بن عبد العزیزؒ، حسن بصریؒ، فقہاء و محدثین کی جماعت خاص طور سے قابلِ ذکر ہے۔ پھر معتزلہ نے دین میں تحریف کے لیے عقلی دلائل کا طوفان کھڑا کیا تو اس کے مقابلے کے لیے اللہ تعالی نے امام احمد بن حنبلؒ، ابو الحسن اشعری ؒاور امام غزالیؒ کو پیدا کیا۔دین کی دوسری تعلیمات پر جمود و تعطل کا رنگ چڑھنے لگا تو اس کے ازالے کے لیے شیخ عبدالقادر جیلانی ؒاور علامہ ابن الجوزیؒ کی شخصیات نمودار ہوئیں‘‘(صفحہ 11)
2۔ دوسرے مفہوم میں احیاء اسلام سے مراد اسلام اوراسلامی فکر و تہذیب کا بول بالا ہوتا ہے۔سماج میں اسلامی نظامِ حیات کے جاری و ساری ہونے کی ہر کوشش احیاء اسلام کی تحریک ہوتی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

ھُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ
(سورہ توبہ ، آیت نمبر ۔33) ترجمہ:’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘ القرآن – سورۃ نمبر 48 الفتح – آیت نمبر 28
هُوَ الَّـذِىٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـهٝ بِالْـهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٝ عَلَى الـدِّيْنِ كُلِّـهٖ ۚ وَكَفٰى بِاللّـٰهِ شَهِيْدًا
ترجمہ:’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اُس کو پوری جنسِ دین پر غالب کر دے اور اِس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔‘‘ القرآن – سورۃ نمبر 61 الصف – آیت نمبر 9
هُوَ الَّـذِىٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـهٝ بِالْـهُـدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٝ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّـهٖۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُـوْنَ
ترجمہ:وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ان آیات کی روشنی میں یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ اسلام کی جامعیت اور کمال کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ پیہم جاری و ساری ہو۔مختلف شعبہ ہائے زندگی پر اس کی حکمرانی قائم ہو۔اس کے نتیجے میں بہتر نظامِ سیاست وجود میں آئے۔ بہتر قانون میسر آئے۔انصاف کا بول بالا ہو۔ معیشت میں اصلاح ہو۔ سماجی تفاوت کا خاتمہ ہو۔ 3۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ امت مسلمہ کو خوابِ خرگوش سے بیدار کرنے اور اسے اپنے فرض منصبی کی یاد دہانی کراتے ہوئے امت کے اندر ایک نئی روح پھونکنے اور نئی توانائی پیدا کرنے کا کام احیاء اسلام ہے۔ فکری جمود اور نظریاتی تعطل محض فکر کا جمود نہیں رہتا بلکہ وہ بتدریج عملی پژمردگی، تساہل اور بے راہ روی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات سے بیزاری، سماجی معاملات میں لاپرواہی، قرآن و سنت سے دوری، مقصدِ زندگی سے لا تعلقی اور خواہشات نفس کی پیروی ملت اسلامیہ کا ناپسندیدہ کردار بن جاتا ہے۔ قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے ایسے حالات میں اگرکوئی فرد یا افراد کا مجموعہ سوئی ہوئی امت کو بیدار کرنے کا فریضہ انجام دیتا ہے، تو یہ کوشش بھی احیاء اسلام کی کوشش کہلاتی ہے۔
من جملہ احیاء اسلام کے ان تینوں مفاہیم کو قرآنی اصطلاح میں’اقامت دین‘کی تحریک بھی کہا جا سکتا ہے۔ جس میں گرد آلود تعلیمات کی تجزیہ و تنقیح بھی، نظام اسلامی کا غلبہ بھی اور امت کی بیداری اور اس نشات ثانیہ بھی شامل ہے۔ القرآن – سورۃ نمبر 42 الشوری – آیت نمبر13
۞شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحٗا وَٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهِۦٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓۖ أَنۡ أَقِيمُواْ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُواْ فِيهِۚ كَبُرَ عَلَى ٱلۡمُشۡرِكِينَ مَا تَدۡعُوهُمۡ إِلَيۡهِۚ ٱللَّهُ يَجۡتَبِيٓ إِلَيۡهِ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِيٓ إِلَيۡهِ مَن يُنِيب
ترجمہ:اُس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اُس نے نوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدؐ) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو دے چکے ہیں، اِس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اِس دین کو اور اُس میں متفرق نہ ہوجاؤ۔ یہی بات اِن مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف اے محمدؐ تم انہیں دعوت دے رہے ہو۔ اللہ جسے چاہتا ہے کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔ احیائے اسلام کی تحریک اور ہندوستان کا مخصوص سیاسی و سماجی پس منظر احیاء کی کوئی بھی تحریک اپنے سیاق و سباق، مخصوص سماجی و سیاسی پس منظر اور حالات و ظروف سے نہ بے نیاز رہتی ہے اور نہ رہنی چاہیے۔ اسلامی تاریخ میں تمام انبیاء کرام کا نقطۂ دعوت مشترک ہونے کے باوجود ان کی حکمت ہائے عملی اور دعوتی ترجیحات میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ کسی نبی کی ترجیح اپنی قوم کو ظلم و جبر کی بیڑیوں سے آزادکرانا ہے تو کسی کے پیش نظر قوم کی اخلاقی اصلاح و تربیت۔کسی کے نزدیک معاملات میں کوتاہی بنیادی مسئلہ ہے توکسی کے یہاں شرک کی بداعمالیوں سے معاشرے کو پاک کرنااولین فریضہ ہے۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی قوم میں انبیاء کی بعثت اسی قوم کے افراد میں سے ’’رسولاً منھم‘‘ہوتی تھی اور دعوت و تبلیغ کے لیے’’ بلسان قومھم‘‘ کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس کے پس پشت یہی حکمت کار فرما تھی کہ نبی کو جس قوم میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دینا ہے ، لازم ہے کہ وہ اس قوم کی زبان، رسم ورواج ،عقائد و اخلاق،تاریخی روایات اور سیاسی اور سماجی پس منظر سے بہ خوبی واقف ہو۔ القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراہیم – آیت نمبر 4
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِـيُبَيِّنَ لَـهُـمْ ۖ فَيُضِلُّ اللّـٰهُ مَنْ يَّشَآءُ وَيَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْـمُ
ترجمہ:’ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے، اُس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے، وہ بالا دست اور حکیم ہے۔‘‘ قرآن فریضۂ دعوتِ دین کے تذکرہ کے ساتھ ’’حکمت‘‘ کا ذکر بھی کرتا ہے،اور حکمت میں سیاسی اور سماجی پس منظر کا اعتبار داخل ہے : القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل – آیت نمبر 125124)
ادْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ھِیَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّکَ ھُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَھُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ(125)

ترجمہ:اے نبیؐ، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو، حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔ تمہارا رب ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہ راست پر ہے۔
حکمت در اصل ایک گہری اور وسیع المفہوم اصطلاح ہے۔ حکمت کے مفاہیم میں سے ایک مفہوم یہ ہے کہ ’ حکمت نام ہے پس منظر اور موقع و محل کے ادراک کا۔حکمت اصول و ضوابط کو عملی طور پر نافذ کرنے میں اختیار کیے جانے والے مخصوص اور مناسب طریقہ کار کو کہتے ہیں۔‘جس میں حالات اور ظروف کا خصوصی خیال رکھا گیا ہو۔ حکمت نصوص (text) پس منظر (context)کے مابین حسن تطبیق کا نام ہے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ احیائے اسلام سے متعلق مختلف جہات پر گفتگو سے قبل ’’ مخصوص سیاق‘‘کو سمجھا جائے۔
جب ’ہندوستان میں احیاءِ اسلام اور طلبہ و نوجوانوں کے کردار‘ پر گفتگو کی جائے تو ہندوستان کے مخصوص سماجی اور سیاسی پس منظر کو سمجھنا اور اس کے موجودہ رجحانات کو سمجھنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ اس رخ(Orientation) کو سمجھنے سے اور اس کے خد و خال پر بحث کرنے سے احیاء اسلام کی تحریک کے سامنے در پیش چلینج کو واضح کرنا آسان ہو گا۔طلبہ و نوجوانوں کے کردار کو متعین کرنابھی سہل تر ہوگا۔
برطانوی استعمار کے پنجۂ استبداد سے آزاد ہونے کے بعد جب ہندوستان ایک خود مختار ریاست کے طور پر وجود پزیر ہوا تو سیاسی طور پر ایک ایسے سیکولر ،سوشلسٹ ،جمہوری ریاست کی بنا ڈالی گئی جس کی بنیاد ملک کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے افکار و خیالات کی روشنی میں تیار کردہ آئین تھا۔ دستور کی تدوین اور سیاسی نظام کی تعمیر میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ ریاست ملک کے تمام اقلیتی طبقات کے حقوق کی محافظ بنے گی اور تمام اقلیتوں کو سماجی،سیاسی، معاشی اور تعلیمی طور پر پھلنے پھولنے اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے گی۔ لیکن آزادی کے بعد اگر ہندوستان کے سیاسی رخ کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چاہے اس ملک کی باگ ڈور اور زمام کار کسی بھی نظریے کی حامل پارٹی کے ہاتھوں میں رہی ہو، ملک کے اقلیتی طبقات ، بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ تحفظ اور ترقی کا وعدہ نباہ نہیں ہو سکا۔ مسلمان منصوبہ بند طور پر مستقل تعلیمی، معاشی و سیاسی پسماندگی کی طرف دھکیلے جاتے رہے۔ اس کے پیچھے اصل وجہ یہی ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس ہو، بائیں محاذ کی سیاسی جماعتیں ہوں یا بھارتیہ جنتا پارٹی ، سب کی قیادت ’اعلی ذات‘ سے تعلق رکھنے والے افراد کرتے رہے ہیں اور اس قیادت کی نفسیات میں اسلام سے عداوت، مسلمانوں کے تئیں تعصب اور اسلاموفوبیا شامل ہے۔
ہندوستان میں اس برہمن وادی حکمراں طبقہ
(Ruling Class)کے تسلط کے لیے اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے نفرت بہت بڑا ہتھیار ہے۔ اسی راستے سے نسل پرستی کے خوابوں کا محل تعمیر ہو سکتا ہے۔ ہندتووادی ایجنڈوں میں ہندوؤں کو متحد کرنے کے لیے ’مسلمانوں سے نفرت اور اسلام سے دشمنی‘ کا سبق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کے تئیں نفرت و عداوت پیدا کرنے کے لیے بلاشبہ مسلمانوں کے انفرادی کردار، اجتماعی رویوں اور اسلام سے متعلق بھی نیا بیانیہ گھڑنا پڑتا ہے۔ نئے سوالات تراشنے پڑتے ہیں۔ نئے اسٹیریو ٹائپ تخلیق کرنے پڑتے ہیں۔ میڈیا اور رابطہ عامہ کے دیگر ذرائع کے ذریعے پروپیگنڈا کرتے ہوئے انہیں رائے عامہ میں تبدیل کرنا پڑتا ہے۔آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ان ہتھکنڈوں کو سیاسی طاقتوں نے شاطرانہ چابک دستی سے استعمال کیا ہے۔ جس میں انہیں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے اور اسی بنیاد پر آج ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔
اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے یہ نظریہ اور بیانیہ محض کسی ایک پیٹرن سے وجود میں نہیں آتا ہے بلکہ مختلف حوالوں سے اور مختلف نظریات کے حامل افراد کی جانب سے آتا رہتا ہے۔انہیں مندرجہ ذیل چار بڑے خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
پہلا طبقہ وہ ہے جو سرے سے اسلام ہی کو ملک کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس طبقے کا ماننا ہے کہ اسلام کو نیست و نابود کیے بغیر ہندوستان کی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔دوسرا طبقہ بائیں محاذ کے آزاد خیالوں(Left Librals) کا ہے جو اس بات کو تو تسلیم کرتا ہے کہ مسلمانوں کو بحیثیت ایک سماجی قوم(Social Community) تمام دستوری حقوق حاصل ہونے چاہئیں تاہم وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ مسلمان بحیثیت مذہبی قوم(Religious Community) اپنے تشخص اور اپنی identity پر اصرار (Assert) کرے۔ رام چندر گوہا جیسابڑا تاریخ نگاراور دانش وَر اس کی بہترین مثال ہے جسے ترشول اور برقع میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ تیسرا طبقہ وہ ہے جو اسلام کو بطور مذہب اور بطور روحانی تحریک بھی اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔چوتھا طبقہ وہ ہے جو عین نفس ِمذہب ہی کو انسانیت کے لیے نقصان دہ اور پسماندگی کی اصل وجہ تصور کرتے ہیں۔
ان چاروں طبقات سے وابستہ افراد ہندوستان میں بہ کثرت موجود ہیں، اور آئے دن اپنے عزائم کا اظہار مختلف پلیٹ فارم اور ذرائع سے کرتے رہتے ہیں۔
ہندوستان کا مخصوص تناظر اور احیاءِ اسلام کی تحریک کو درپیش چیلینجز
مندرجہ بالا گفتگو میں ہم نے ہندوستان کے مخصوص سیاسی اور سماجی پس منظراور اسکے بنیادی خدو خال کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اسی تناظر میں احیاء اسلام کی تحریک کو پیش قدمی کرنی ہے۔ لہذا اس بحث کے بعد یہ جاننا اہم ہو جاتا ہے کہ آخر اس سیاق سے احیاء اسلام کی تحریک کے سامنے کیا چیلنجز کھڑے ہو سکتے ہیں؟ وہ درپیش علمی معرکہ کیا ہے جس کا سامنا تحریکِ احیاءِ اسلام کو کرنا ہے؟ ان سوالات کو ہم مندرجہ ذیل نکات کی شکل میں بیان کر سکتے ہیں
۱:۔اسلاموفوبیا کا تدارک:ایڈڈکشنری کے مطابق
“intense dislike or fear of Islam, especially as a political force;hostility or prejudice against Muslims” اسلام سے متعلق گہری ناپسندیدگی او ر اس سے خوف ، خصوصی طور پر اسلام بحیثیت ایک سیاسی طاقت ، اور مسلمانوں سے دشمنی اور عداوت ‘ کو اسلاموفوبیا کہتے ہیں۔ فوبیا لفظی طور پر غیر منطقی یا غیر عقلی ڈر یا خوف کو کہتے ہیں ۔ جب اسلام کے ساتھ اس کی اضافت کر دی جائے تو کہا جائیگا ’ اسلام سے متعلق غیر حقیقی اور غیر منطقی ڈر۔عملاً تو مغرب میں اسلاموفوبیا کی تحریک کی ابتدا تو نائن الیون سے قبل ہی ہو گئی تھی لیکن نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا کی یہ تحریک پوری دنیا میں زور پکڑنے لگی۔اور دیکھتے ہی دیکھتے کرۂ ارض کا بڑا حصہ اسلاموفوبیا سے متاثر ہونے لگا۔
برطانیہ کا ایک تحقیقی ادارہ رنیمینڈ ٹرسٹ ایک مرکز دانش ( (Think Tankہے ،جس نے ۱۹۹۷ میں Islamophobia: A Challange for us all کے عنوان کے تحت ایک دستاویز جاری کیا تھا۔ اس میں اسلاموفوبیا سے متاثر افراد کے تصورات بیان گئے ہیں
۱۔اسلام ایک جامد اور ناقابل تغیر مذہب ہے۔
۲۔ اسلام ایک منفرد مذہب ہے جس میں دیگر مذاہب سے مختلف اقدار موجود ہیں۔
۳۔ یہ غیر معقول اور قدامت پرست ہے۔ جنسیت پر مبنی ، تشدد کا حامی اور خطرناک ہے۔ دہشت گردی کو فروغ دینے والا اور تہذیبی تصادم کا علمبردار ہے۔
۴۔مغربی فکرو تہذیب سے کمتر ہے۔
۵۔اسلام محض سیاسی نظریہ ہے۔
۶۔اسلام مغربی افکار و اقدار پر شدید تنقید کرتا ہے۔
۷۔ان باتوں کی بنا پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا ہے۔
۸۔ چنانچہ مسلم دشمنی فطری ہے۔
پھر ایک ایسا وقت آیا کہ ہندوستان بھی اس رویے کی زد میں آیا۔اور یہاں کی آبادی کو بھی متاثر کرنے لگا۔ برہمن وادی تسلط میں پہلے سے ہی مسلم دشمنی اور بغض شامل تھا، اس تحریک نے اس آگ میں مزید گھی کا کام کردیا۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت، جھوٹ اور پروپیگنڈے کا سہارا لے کر اسلام مخالف اور مسلم مخالف ماحول کو خوب پروان چڑھایا گیا۔احیاءِ اسلام کی تحریک کے سامنے اب یہ چیلنج ابھر کر سامنے آتا ہے کہ وہ کیسے اس مسخ شدہ تصور اور جھوٹ پر مبنی بیانیہ کا مقابلہ کرے؟اس زہر کے لئے کون سا تریاق استعمال کرے؟علمی میدان میں کن سوالات پر قلم اٹھائے؟اور عملی میدان میں اسلاموفوبیا کو ختم کرنے کی کیا تدابیر اختیار کرے؟
اسلامی بیانیے کی تشکیل
جیسے جیسے ہندوستان میں اسلاموفوبیا کی لہر بڑھتی جائیگی ، اسلام اور مسلمان مخالف ماحول پروان چڑھے گا ، اسلام سے متعلق پروپیگنڈے کو ہوا دی جائیگی، اسلام کے ایک نئے تعارف اور نئے بیانیہ کی تشکیل کی اشد ضرورت محسوس ہوگی۔آزادی سے قبل اس طرح کے سوالات نے جب جنم لیا تھا تب اسلامی مفکرین نے ان سوالات کے مدلل اور معقول جوابات دئیے تھے۔ احیاء اسلام کی تحریک کو آج پھر نئے چیلینجز درپیش ہیں ۔
عالمی افق پر سرمایادارانہ استعمار کا عروج، نو آبادیاتی تصور علم کی اشاعت ،مابعد جدید طرز زندگی کا دور دورہ ، ما بعد جدید ادب کے حامیان کی بڑھتی ہوئی قوت اور گلوبلائزڈ سماج نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔احیاء اسلام کی تحریک کو ہندوستان میں بھی ان سوالات کا سامنا درپیش ہے۔پرانے جوابات آج بھی کام آسکتے ہیں لیکن وہ ناکافی ہیں۔اسلامی اصول سیاست، اسلامی روحانیت ، اسلام میں عورت کا مقام اور خواتین کے حقوق ، ماحولیات کے سلسلے میں اسلامی رہنمائی، تصورِخدا اور نئے نفسیاتی مسائل، یہ اور اس طرح کے دیگر موضوعات پر نئی زبان اور جدید لہجے میں مدلل اور منطقی گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔
ہندوستان کے پس منظر میں مخصوص سوالات
احیاء اسلام کی تحریک کے سامنے بعض سوالات وہ ہیں جو خصوصی طور پر صرف ہندوستان کے مخصوص سماجی اور سیاسی پس منظر سے پیدا ہوتے ہیں۔ مندرجہ ذیل سوالات پر ہندوستان میں اپنے موقف کا اظہار کئے بغیر کوئی بھی تحریک اپنے اثرات مرتب نہیں کر سکتی ہے۔
۱۔ ذات پات کا نظام :
ذات پات کا نظام ہندوستان کے سماجی سیاسی ڈسکورس میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ صدیوں سے رائج ذات کے نظام نے ہندوستان میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا ہے اور ہنوز اسکے اثرات جاری و ساری ہیں۔یہ نظام ہندوؤں کو ’کرما‘ اور ’دھرما‘ کے مطابق چار مختلف خانوں میں تقسیم کرتا ہے۔
۱۔ براہمن ۲۔ شتریہ ۳۔ویشیہ ۴۔ شودرا
براہمہ کے سر سے پیدا ہونے والے براہمن کہلائے۔ جن کا بنیادی کام دماغی ورزش یعنی علم و تعلیم کی نگرانی اور اس پر اجارہ داری قائم کرنا تھا۔ہاتھوں سے پیدا ہونے والے شترئیے کہلائے۔ انکا بنیادی کام طاقت کا ارتکاز تھا۔جنگ و جدل میں شرکت انکی ذمہ داری تھی۔ ویشیوں کی بنیادی ذمہ داری معاش اور اقتصاد تھا۔ مال و دولت کے مسائل دیکھنا انکا پیشہ تھا۔سب سے آخر میں شودرا تھے جنکا کام ان سب کی خدمت اور صفائی ستھرائی کا انتظام کرنا تھا۔اس نظام نے ہندوستان کے سماج، سیاست، اخلاقیات، اقتصاد سب کو بہت گہرائی سے متاثر کیا ہے۔
ایسے میں اسلام کے احیاء کی تحریک کا اس سوال سے نبرد آزما ہونا بہت ضروری ہے کہ اسلام ذات پات کے نظام کو کس چشمے سے دیکھتا ہے؟ اسلام میں تصور مساوات کے خدو خال کیا ہیں؟اسلام قوموں اور قبیلوں کو کس آئینے سے دیکھتا ہے؟ سماجی انصاف سے کیا مراد ہے؟ اسلام میں سماجی انصاف کن اصولوں پر قائم ہوتا ہے؟ ریزرویشن کا نظام برحق ہے؟ اسلام اس کے بالمقابل کمزور طبقات کو کیا تحفظات دیتا ہے؟
۲۔ مسئلۂ قومیت:
ہندوستان میں ہندو احیاء پرست اور جارح قوم پرستی کے رجحانات پر مبنی تحریک کی سیاسی کامیابی کے بعد ’نظریۂ قومیت ‘ ایک بار پھر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ عالمی سطح پر نسلی تفاخر اور قومی بالا دستی کے تئیں بڑھتے رویوں نے بھی اس بحث کو از سر نو زندہ کردیا ہے۔ ایسے میں اسلام کے غلبے اور احیاء کی تحریک کے سامنے بھی یہ سوال پیدا ہوگا کہ وہ نظریۂ قومیت کے متعلق کیا رائے رکھتی ہے؟ قومیت اور جارح قومیت میں واقعتاً کوئی فرق ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کن بنیادوں پر ہے اور نہیں تو اسکی کیا دلیلیں ہیں؟ اسلام قومیت سے بالاتر کونسا تصور وضع کرتا ہے؟ اور کیسے وہ انسانیت کو ‘جارح قومیت‘ کے تباہ کن اثرات سے نجات دلا سکتا ہے؟
سیاست شناخت Identity Politics:
قوموں اور گروہوں کو سیاسی بے وزنی سے نکالنے، خستہ حالی سے بر سرِپیکار ہونے، پس ماندگی سے پیچھا چھڑانے، پستی سے ابھرنے اور مظلومیت سے باہر نکالنے کی کشمکش جہاں اس بات کی ہوتی ہے کہ گروہ معاشی, سیاسی اور تعلیمی لحاظ سے مضبوط اور طاقتور بنیں وہی اس بات کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں وہی مرتبہ، عزت اور شرف حاصل ہو جو انسان ہونے کے ناطے سب انسانوں کو ملا ہے۔
پہلی لڑائی انصاف کی لڑائی کہلاتی ہے اور دوسری لڑائی کو قومیں اپنے تشخص کے ASSERTION سے تعبیر کرتی ہیں۔
تشخیص کا ASSERTION دھیرے دھیرے ایک مرحلے میں پہنچ کر دفاعی سانچے سے نکل کر اقدامی رنگ اختیار کرنے لگتا ہے۔ جسے بعض لوگ ‘شناخت پر مبنی سیاست یعنی Identity Politics’ سے تعبیر کرتے ہیں۔ جہاں قومیں یا گروہ زندگی کے تقریباً تمام پہلوؤں میں اس بات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ آیا یہ مسٔلہ ہمارے مفاد سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں؟دنیا میں انکے پاس دوسروں کے لئے کوئی مثبت ایجنڈا یا لائحۂ عمل نہیں ہوتا ہے۔انکے نزدیک اپنی قوم کی مظلومیت، اپنے مسائل، اپنے مفاد زیادہ عزیز ہوتے جاتے ہیں۔
بتدریج یہ جدوجہد قومی کشمکش کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اس طرح کا رویہ اور رد عمل ہر ’مظلوم ‘قوم کا اپنی موجودہ صورتحال سے نکلنے اور ’’آزادی‘‘ کی مانگ کرنے کے دوران سامنے آجاتا ہے۔
موجودہ ہندوستان میں احیاءِ اسلام کی تحریک کے سامنے یہ سوال بھی در پیش آتا ہے کہ سیاستِ شناخت سے متعلق اسکا موقف کیا ہے؟ کیا آئیڈنٹیٹی پولٹکس قوم پرستانہ رجحانات کو فروغ دیتی ہے؟ کیا آدینٹیٹی پولیٹکس سماج کو ایک قومی کشمکش میں مبتلا کرتی ہے؟ کیا ہندوستان میں آڈینٹیٹی پولٹکس کی لڑائی پورے ملک کے لئے دور رس خطرات کا باعث بن سکتی ہے؟ اسلام سیاستِ شناخت کو کس نقطہء نظر سے دیکھتا ہے؟
ان سارے سوالات پر گفتگو کرنا اس وقت احیاء اسلام کی تحریک کی بڑی ترجیح ہونی چاہئے۔

اپریل ۲۰۲۱