ہیں جذبِ باہمی سے قائم نظام سارے
جماعتِ اسلامی ایک اجتماعی انقلاب کی داعی ہے،جس کا نصب العین اقامت دین ہے۔ یہ اللہ کے دین کا نفاذ چاہتی ہے،اس لیے وہ اپنے کارکنوں کو دین کی صحیح بنیاد پر مربوط کرنا چاہتی ہے۔ جماعت کے کارکنوں میں ایک اصولی رشتہ ہوتا ہے، یہ عقیدہ اور فکر کی ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور نصب العین کی یکسانیت اس کی بنیاد بنتی ہے۔ اس رشتے میں استحکام، گہرائی اور شدید محبت ہوتی ہے۔اسلام اپنے ماننے والوں کو عدل و احسان کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی ہدایت کرتا ہے،تاکہ اجتماعی نظامِ حیات اور اسلامی معاشرہ قائم ہو اور دوسری طرف وہ حقوق و فرائض پر مبنی ایک ضابطہ تجویز کرتا ہے، تاکہ ہر فرد اپنے اپنے مقام پر اس کو عمل میں لائے۔
اللہ کے دین کا غلبہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا، جب تک متحد ہو کر کوشش و جدوجہد نہ کی جائے۔ باطل کا مقابلہ پامردی سےکرنے کے لیے محض خارجی اجتماعیت کافی نہیں ہے، بلکہ ایسی اجتماعیت مطلوب ہے، جس میں عقیدہ،نظریہ،امنگوں اور تمناؤں کا اتحاد پایا جائے۔ عمارت سے اس کی تشبیہ دی جا سکتی ہے کہ ایک عمارت اس وقت مستحکم ہوسکتی ہے، جب اس کی اینٹیں آپس میں جڑی ہوں اور مضبوطی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں۔
آپؐسےیہ ارشاد منقول ہے کہ:’’ مومن ایک دوسرے کے لیے ایک دیوار کی اینٹوں کی طرح ہوتے ہیں کہ ہر ایک دوسرے سے تقویت پاتا ہے۔‘‘ اینٹوں کو جوڑنے کا کام سیمنٹ کا ہے۔ اسی طرح ایک جماعت اس وقت بنیان مرصوص بنتی ہے، جب اس کے ارکان و کارکنان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئےہوں اور دلوں کو جوڑنے والی چیز مخلصانہ نصیحت ہے۔
قرآن کریم میں صحابہ کرامؓ کی شان میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ

’ رُحَمَاء بَيْنَھُمْ

یعنی ن کا جوڑ، ان کا اتحاد اور ان کا اتفاق ایسا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرنے والے تھے۔ آپس میں ایک دوسرے سے ہمدردی اور محبت کرنے والے تھے ۔
دلوں کے جوڑنے کا کام اصلاً اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’اے نبیؐ اگر آپ کوشش کرتے کہ لوگوں کے دلوں کو جوڑ دیں تو آپ کی ذاتی کوششوں سے تدبیر سے یہ کام ہرگز نہیں ہو سکتا تھا، مگر اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا ہے۔‘‘
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دلوں کو جوڑنے کا کام خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات مناسب نہیں ہوگی کہ کوئی یہ کہے کہ اس میں ہماری کوشش کو کیا دخل؟ یہ تو اللہ کی طرف سے ہوگا ۔مگر یہ بھی کہا گیا ہے کہ

’ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ‘

جو اس کی طرف رجوع ہوتا ہے، اللہ اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ غلبۂ دین کے لیے جو اجتماعیت درکار ہے، وہ جہاں ایک طرف اشداءعلی الکفار ہو، وہیں دوسری طرف
رُحَمَاءبَيْنَھُمْ
کی عملی تصویر بھی پیش کرنے والی ہو۔
اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے دشمنی کی، اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روکے رکھا، اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔ جب انسان اللہ سے جڑتا ہے اور اللہ کی خاطر اس کی محبت اور نفرت ہوتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ سے جتنی محبت ہوگی، بندوں پر بھی اس کے اثرات پڑیں گے۔ اللہ سے مخلصانہ محبت ہے تو بندوں سے بھی اس کی محبت مخلصانہ ہو گی۔ اللہ کے نبی ؐنے فرمایا کہ’ تم اس وقت تک ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں تم محبت کرنے والے نہ بن جاؤ۔‘ باہمی اخوت اور محبت کی مثال اللہ کے رسول ؐ نے ان الفاظ میں دی کہ ’تم دیکھو گے اہل ایمان کو رحم کرنے ، محبت کرنے اور لطف و کرم میں ان کے درمیان تعلق ایک جسم کی طرح ہوتا ہے ۔ جیسے ایک جسم کے کسی حصے میں اگر کوئی تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بخار میں اور بے خوابی میں مبتلا ہوکر اس کا ساتھ دیتا ہے۔

یہ رشتہ جسے ہم

رُحَمَاءبَيْنَھُم
سے تعبیر کرتے ہیں، کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ اسلامی جماعت ایک ایسی تحریک ہے، جو اللہ کے دین کے غلبے کے لیے اٹھتی ہے، اس کے اندر اس رشتے کا، اس کیفیت کا پایا جانا ناگزیر ہیں۔ اگر یہ نہیں پایا جائے گا تو یہ تحریک چل نہیں سکتی۔ یہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان باتوں کو جانیں جن کے ذریعے ہمارے اندر باہمی اخوت پیدا ہو اور ہم متحد ہو کر اللہ کے دین کے غلبے کے لیے کوشش کر یں۔
سب سے پہلی چیز ہے خیر خواہی۔ اللہ کے رسول ؐنے فرمایا کہ ’’الدین النصیحہ۔‘‘(دین خیر خواہی کا نام ہے ۔)اس حدیث میں ایسی نصیحت اور خیر خواہی کا تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ جو ہم اپنے لیے پسند کریں،وہی اپنے مومن بھائی کے لیے بھی پسند کریں اور اس کے دکھ سکھ خوشی و غم میں شریک ہوں اور ان کے درمیان کے نزاعات ہوں تو انھیں دور کرنے کی کوشش کریں ۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اہلِ ایمان کے اندر ایثار کا مادہ ہونا چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اوپر اپنے دوسرے بھائی کو ترجیح دی جائے۔ قرآن مجید نے اہلِ ایمان کی یہ خوبی بیان کی ہے کہ اہل ایمان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ پر اپنے بھائیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ چاہے وہ خود پریشان ہو ں، مگر ایسے وقت میں بھی اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کر تے ہیں اور اپنےاوپران کو ترجیح دیتے ہیں۔
تیسری چیز ہے احسان۔ یعنی نیک برتاؤ کرنا، فیاضانہ سلوک کرنا اور دوسروں کو کچھ زیادہ دے دینا ،یہ احسان ہے ۔اللہ کےرسول ؐ کو اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ تم برائی کو بھلائی سے دفع کرنے کی کوشش کرو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کٹرسے کٹر مخالف جگری دوست بن جائے گا۔
چوتھی چیز رحمت ہے۔یعنی رحمانہ سلوک کریں، چھوٹوں سے بھی اور بڑوں سے بھی۔ اللہ کے رسول ؐنے فرمایا:’وہ شخص ہم میں سے نہیں ، جو اپنے بڑوں کے ساتھ عزت کا معاملہ نہ کرے اور اپنے چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔‘ اللہ کےنبی ؐ کی یہ خوبی یہ بتائی گئی کہ’ اے نبی! یہ خاص فضل اللہ کا ہے کہ اس نے آپ کو نرم دل بنایا ہے۔ اگر آپ سخت دل ہوتے تو جو اجتماعیت آپ کے گرد جمع ہے، چھٹ جاتی۔ ‘
جب اجتماعیت میں مختلف مزاج کے لوگ جمع ہوتے ہیں، کبھی کسی کو، کسی سے تکلیف ہوتی ہے تو کبھی نا گواری کے حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ہم
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظ
‘( غصے کو پی جانے والے)
وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ
(لوگوں کو معاف کر دینے والے) پر عمل کرنے والے بن جائیں تو یہ کیفیت بھی بڑے اچھے اثرات پیدا کرتی ہے۔
مذکورہ صفات کو اگر ہم اپنے اندر پیدا کریں تو یقینا ہماری اجتماعیت، ایک مثالی اجتماعیت بن سکتی ہےاور ہم اس کام کو بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں، جس کے کرنے کے لیے ہم جمع ہوئے ہیں۔
باطل کا مقابلہ پامردی سےکرنے کے لیے محض خارجی اجتماعیت کافی نہیں ہے، بلکہ ایسی اجتماعیت مطلوب ہے، جس میں عقیدہ،نظریہ،امنگوں اور تمناؤں کا اتحاد پایا جائے۔ عمارت سے اس کی تشبیہ دی جا سکتی ہے کہ ایک عمارت اس وقت مستحکم ہوسکتی ہے، جب اس کی اینٹیں آپس میں جڑی ہوں اور مضبوطی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر