یوم حقوق برائےمسلم خواتین
ایک طمانچہ
امسال، یکم اگست 2021 ءسے مودی حکومت نے تین طلاق قانون کی برسی کو ’’یوم حقوق برائے مسلم خواتین ‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی فیصلوں پر نکتہ چینی اور سیاست تو خیر عام بات ہے، لیکن تین طلاق قانون پر سیاست کچھ زیادہ گرما جاتی ہے۔ چونکہ یہ امت مسلمہ کا مسئلہ ہے، تو اول روز سے ہی مسلم اداروں، تنظیموں و ملی رہنماؤں کی جانب سے اس مسئلہ پر سیاست ہوتی آئی ہے، پھر چاہے وہ تین طلاق کے مسئلہ پر عدالتی کارروائی ہو یا اس کے بعد کا عمل۔ لیکن اس پورے مسئلہ کی مرکزی کردار یعنی مسلم خواتین پورے منظر سے عنقاء ہیں۔ مسلم خواتین اس مسئلے کے تعلق سے کیا سوچتی ہیں؟ اس بارے میں جاننے کی فکر حکومت کو تو خیر کیا ہونی تھی، خود مسلم پرسنل لا بورڈ کو بھی نہیں ہے۔ مسلم معاشرہ میں خواتین کا پس منظر میں رہنا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ مسلم امت پر طاری جمود نے خواتین کو ان کے حقوق سے نہ صرف محروم کیا ہے، بلکہ محروم کرنے کے اس رویہ کو معتبر بھی بنا دیا ہے۔ اگر معاشرہ میں نکاح اور طلاق کے عمل کو ہی دیکھا جائے تو بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ اسلام جہاں نکاح کے معاملے میں لڑکی کی مرضی کو ضروری گردانتا ہے، وہیں مسلم معاشرہ میں یہ ذمہ داری لڑکی کے خانوادہ کو حاصل ہے۔ مسلم معاشرہ کی اکثریت بشمول دینی علوم کے ماہر کہے جانے والے گھرانوں میں بھی نہ صرف یہ کہ لڑکی کی مرضی کو غیر ضروری گردانا جاتا ہے، بلکہ اپنے اس حق کے لیے آواز اٹھانے والی لڑکی کو غیر مہذب ، باغی، بدکردار جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ طلاق کا عمل لڑکی کے لیے تکلیف دہ بنا دیا گیا ہے۔ اگر شوہر طلاق دینا چاہے تو بنا بات چیت کے مرحلے سے گزرے ، لڑکی کے ہاتھ میں طلاق نامہ تھما دیا جاتاہے۔ اگر لڑکی خلع لینا چاہے تو اس کے لیے اسے کم از کم اپنی آدھی زندگی تو برباد کرنی ہی پڑتی ہے۔ خواتین کے تعلق سے یہ سماجی رویہ یوں ہی نہیں بن گیا ہے، اس رویہ کو بنانے اور پروان چڑھانے میں خود خواتین بھی شامل ہیں۔ ’’ اسلام خواتین کو حقوقِ کامل عطا کرتا ہے۔‘‘ اس حقیقت کو نشر کرنے میں ملی رہنماؤں کے ساتھ خواتین اتنا محو ہوئیں کہ وہ اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھیں کہ ’’صفحات پر درج حقوق تب ہی حقوق بنتے ہیں، جب انہیں استعمال کیا جاتا ہے اور انہیں استعمال کرنے کی آزادی ہو۔‘‘ مسلم خواتین کا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا تو دور، افسوس یہ ہے کہ وہ اپنے حقوق سے ہی انجان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والی لڑکی کو سب سے زیادہ مخالفت خواتین کی ہی جانب سے آتی ہے۔ اپنے حقوق سے دستبرداری کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج غیر ہماری بے بسی سے روٹیاں سینک رہے ہیں، اپنے فرمانوں کو حقوق بتا کر جشن منا رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہم اس غصب حقوق قانون پر اپنا نقطۂ نظر چیخ کر دنیا کو نہیں سنا سکے، لیکن ان کے پاس ہمارے نام پر جشن منانے والی خواتین ہیں۔ یومِ حقوق برائے مسلم خواتین ایک طمانچہ ہے۔ کیا آپ نے یہ طمانچہ محسوس کیا ہے؟ اگر محسوس کرتی ہیں تو سوچیے، آواز اٹھائیے، اپنے حقوق کے لیے لڑیے، تاکہ اسلام کے عطا کردہ حقوق صرف نعروں اور تقریروں میں نہیں بلکہ عملاً اسلامی معاشرہ میں نظر آئیں۔
۲۰۲۱ ستمبر