یکم مئی
عالمی یومِ مزدور کا تاریخی پس منظر
قلمکار‎ : شیریں دلوی

بھوک کے پیاس کے خطرا ت سے ڈر جاتا ہے
مار کے اپنے ہی بچوں کو وہ مر جاتا ہے
ہر طرف اس کی ہی محنت کے مظاہر ہیں ، مگر
بھوک کے ہاتھ سے مزدور بکھر جاتا ہے
مزدوروں کے حقوق پر کچھ لکھنے سے قبل یاد دلا دوں کہ ایک حدیث ہے ،
’’ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے قبل ان کی اجرت دے دی جائے ۔ ‘‘
مزدور کے حقوق کے لیے اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے ؟
پوری دنیا میں ہر دور میں مزدوروں کا استحصال ہوتا رہا ، یہی سبب ہے کہ بہت سی تنظیموں نے اس کے لیے احتجاج کیا اور مزدوروں کے حقوق حاصل کرنے کے لیے کوشش کی ۔
کسی بھی ملک، قوم اورمعاشرے کی ترقی میں مزدور وںکا کردار بہت اہم ہوتا ہے ، مگر سب سے زیادہ حق تلفی بھی ان ہی کی، کی جاتی ہے ۔ سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے مزدور کا استحصال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور مزدور اسے اپنا مقدر سمجھ کر صبر کر لیتے ہیں ۔ ہمارے سماج میں مزدوروں کا وجود ہے ، جسے ہمیں تسلیم کرنا چاہیے ۔ مزدوری ہر کوئی کرتا ہے ، مگر سب کے درجات الگ ہوتے ہیں ۔ ہر مزدور اپنے میدان میں اپنی بساط بھر مزدوری کرتا ہے اور اجرت حاصل کرکے اپنے اہل و عیال کی کفالت کرتا ہے ۔ مزدوروں کے مفاد اور ان کے حقوق کے لیے کمیونسٹ ہمیشہ ہی سرگرم رہے، جس کے لیے انھوں نے مزدوروں کا اتحاد قائم کیا اور آواز بلند کی، یہاں سے مزدوروں کو بھی یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ ان کے وجود کی اہمیت ہے اور اگر وہ اپنی خدمات پیش نہیں کریں گے ، تو سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کا بھٹہ بیٹھ جائے گا ۔
سو جاتا ہے فٹ پاتھ پر اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتا
یکم مئی کو مزدور کا عالمی دن منایا جاتا ہے ، جسے ’’ لیبر ڈے ‘‘ کہتے ہیں ۔ یہ کیوں منایا جاتا ہے اور کب سے اس پر گفتگو کی جائے ، تو زیادہ بہتر ہوگا ۔
ماضی میں تقریباً دو سو سال قبل پوری دنیا میں مزدوروں کی حالت قابل رحم تھی ۔ مزدور کی زندگی جانور سے بد تر ہوا کرتی تھی ، مزدوروں سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ دن میں ۱۶؍ ۱۶گھنٹے کام لیا جاتااور مناسب اجرت بھی نہیں دی جاتی تھی ۔ مقررہ وقت سے زیادہ کام کروانے پربھی اضافی اجرت نہیں دی جاتی تھی ، غرض کہ ہر طرح سے مزدوروں کے ساتھ ناانصافی کی جاتی اور ان کا بھر پور استحصال کیا جاتا ۔ کام کرنے کے دوران اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کے تمام اخراجات خود مزدور کے ذمہ تھے ، ایسا کوئی قانون نہیں تھا کہ فیکٹری ، کمپنی یا مل کی طرف سے مزدور کو زخمی ہونے کی صورت میں اس کا علاج کروایا جاسکے ۔ مزدور کی ملازمت کا فیصلہ آجر کی مرضی پر ہوتا ۔ وہ جس کو چاہتا ملازمت پر رکھتا اور جس کو چاہتا ملازمت سے ہٹا دیتا۔ ہفتے میں سات دن کام کرنا پڑتا تھا اور چھٹی کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ ​
ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے امریکہ اور یورپ میں مزدوروں نے مختلف تحریکیں چلائیں ۱۸۸۴؍ میں فیڈریشن آف آرگنائزڈ ٹریڈرز اینڈ لیبریونینز نے اپنا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے ایک قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کچھ مطالبے رکھے گئےجن میں سب سے اہم مطالبہ ‘مزدوروں کےکام کرنے کے ۱۶؍ گھنٹوں کو کم کر کے۸؍ گھنٹے کیا جائے۔ مزدوروں کا کہنا تھا ۸؍ گھنٹے کام کے لیے،۸؍گھنٹے آرام کے لیے اور۸؍گھنٹے ہماری مرضی سے گزارنے کے لیے۔ اس مطالبے پر یکم مئی سے عمل کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی ،لیکن اس مطالبہ کو تمام قانونی راستوں سے منوانے کی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں یکم مئی ہی کو ہڑتال کا اعلان کیا گیا اور کہا جب تک مطالبات مانے نہیں جاتے یہ تحریک جاری رہے گی۔
۱۶؍ ۱۶؍گھنٹے کام کرنے والے مزدوروں میں۸؍گھنٹے کام کا نعرہ بہت مقبول ہوا۔ اسی وجہ سے اپریل ۱۸۸۶؍ تک تقریباً ڈھائی لاکھ سے زیادہ مزدور اس ہڑتال میں شامل ہو گئے۔ اس تحریک کا آغاز امریکہ کہ شہر ’’شگاگو‘‘سے ہوا۔ ہڑتال سے نپٹنے کے لیے جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی تعداد شہر میں بڑھا دی گئی۔ یہ اسلحہ اور دیگر سامان پولیس کو مقامی سرمایہ داروں نے مہیا کیا تھا۔تاریخ کا آغاز یکم مئی سے ہوگیا۔ پہلے روز ہڑتال بہت کامیاب رہی دوسرے دن یعنی۲؍مئی کو بھی ہڑتال بہت کامیاب اور پُر امن رہی۔ لیکن تیسرے دن ایک فیکٹری کے اندر پولیس نے پر امن اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے چار مزدور ہلاک اور بہت زخمی ہو گے۔

​اس واقعہ کے خلاف تحریک کے منتظمین نے اگلے ہی روز ۴؍ مئی کو ایک بڑے اجتجاجی جلسے کا اعلان کیا۔ جلسہ پُر امن تھا ،لیکن آخری مقرر کے خطاب کے دوران پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کردی،جس سے کئی مزدور ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ پولیس نے یہ الزام لگایا کہ مظاہرین میں سے ان پر گرینیڈ سے حملہ کیا ،جس کی وجہ سے ایک پولیس ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے، اس حملے کو بہانہ بناکر پولیس نے گھر گھر چھاپے مارے اور بائیں بازو اور مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا‘ ایک جعلی مقدمے میں آ ٹھ مز دور رہنماؤں کو سزائے موت دی گئی تھی۔
البرٹ پار سن‘ آ گسٹ سپائز ‘ایڈولف فشر اور جارج ا ینجل کو ۱۱؍ نومبر ۱۸۸۷؍ کو پھانسی دے دی گئی۔لوئیس لنگ نے جیل میں خود کشی کرلی اور باقی تینوں کو ۱۸۹۳؍میں معاف کر کے رہا کر دیا گیا۔ مئی کی اس مزدور تحریک نے آنے والے دنوں میں طبقاتی جدوجہد کے متعلق شعور میں انتہائی اضافہ کیا‘ایک نوجوان لڑکی ایما گولڈ نے کہا تھا کہ ’’ مئی۱۸۸۶؍ کے واقعات کے بعد میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے سیاسی شعور کی پیدائش اس واقعے کے بعد ہو ئی ہے‘‘۔ البرٹ پارسن کی بیوہ لوسی پارسن نے کہا’’ دنیا کے غریبوں کو چاہیے کہ اپنی نفرت کو ان طبقوں کی طرف موڑ دیں جو انکی غربت کے ذمہ دار ہیں یعنی سر ما یہ دار طبقہ‘‘۔ جب مزدوروں پر فائرنگ ہو رہی تھی تو ایک مزدور نے اپناسفید جھنڈا ایک زخمی مزدور کے خون میں سرخ کرکے ہوا میں لہرا دیا ‘اسکے بعد مزدور تحریک کا جھنڈاہمیشہ سرخ رہا۔
۱۸۸۹؍ میں ریمنڈ لیوین کی تجویز پر یکم مئی ۱۸۹۰؍ کو یومِ مئی کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔ اس دن کی تقریبات بہت کامیاب رہیں۔
اسکے بعد یہ دن ’’ عالمی یوم مزدور‘‘ کے طور پر منایا جانے لگا سوائے امریکہ‘ کینیڈا اورجنوبی افریقہ کے۔ جنوبی افریقہ میں غالباً نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد یوم مئی وہاں بھی منایا جانے لگا۔
یکم مئی پوری دنیامیں ’’یومِ مزدور‘‘ کی شکل میں منایا جانے لگا اور دھیرے دھیرے دوسرے ممالک نے بھی یکم مئی کو ’’یومِ مزدور‘‘ کے طور پر منانا شروع کر دیا۔ دیکھا جائے ہندستان میں مزدوروں کے اتحاد کو یاد کیا جائے ، تو اس کی مثال ۱۸۶۲؍میں اپریل مئی کے دوران تقریباً ۱۲۰۰؍مزدوروں کے ذریعے ہاوڑہ ریلوے اسٹیشن پر کی گئی ہڑتال ہے، اس ہڑتال میں بھی مزدوروں کا اصل مطالبہ کام کے اوقات کو گھٹا کر۸؍ گھنٹے کرنا تھا۔ یکم مئی کو ’’یومِ مزدور‘‘ کے طور پر ہندستان میں ۱۹۲۳؍ میں منایا گیا، جس کے بعد سے ہر سال یوم مزدور منایا جانے لگا اور اس موقعے پر جلسوں کا انعقاد کیا جانے لگا جس میں مزدوروں کی ترقی اور ان کے مفاد سے متعلق اقدامات کیے جانے لگے۔مزدور طبقے کی عالمی تحریک بڑی تیزی سے پھیلی اور چالیس پچاس برسوں میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی پر مزدور طبقے کا انقلابی سرخ پرچم لہرانے لگا۔
​اس تحریک اور ان کوششوں سے فیکٹری ، مل ، کارخانے اور ذرائع آمد ورفت کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے والے مزدوروں کو کسی حد تک راحت مل سکی اور انہیں ان کا حق بھی مل رہا ہے ، مگر آج بھی مزدوروں کا ایک طبقہ مشکل ترین زندگی گزار رہا ہے ۔ یہ وہ مزدور ہوتے ہیں، جو صبح ہوتے ہی مزدوری کے انتظار میں سڑک کے کنارے ، کسی نکڑ یا چوک پر کھڑے ہو کر اپنی روزی کا انتظار کرتے ہیں ، اگر مزدوری مل گئی ، تو روزی نہیں تو روزہ ۔ ایسے مزدوروں کی جانب توجہ دی جائے ، تو ہوسکتا ہے ان کی مشکل آسان ہو جائے ۔

البرٹ پار سن‘ آ گسٹ سپائز ‘ایڈولف فشر اور جارج ا ینجل کو ۱۱؍ نومبر ۱۸۸۷؍ کو پھانسی دے دی گئی۔لوئیس لنگ نے جیل میں خود کشی کرلی اور باقی تینوں کو ۱۸۹۳؍میں معاف کر کے رہا کر دیا گیا۔ مئی کی اس مزدور تحریک نے آنے والے دنوں میں طبقاتی جدوجہد کے متعلق شعور میں انتہائی اضافہ کیا۔