یہ حدود میری حفاظت کے لیے ہیں !
عائشہ اپنی سات سالہ بیٹی کو اسکول کے لیے رخصت کرتے ہوئے کہنے لگی:
’’ میری بچی! اسکول بس میں کسی لڑکے کے قریب سیٹ پر نہ بیٹھنا، لڑکی کے قریب ہی بیٹھنا اور ہاں دعا پڑھتے ہوئےجانا اور کسی اجنبی سے بات نہ کرنا۔
بیٹا! کوئی آپ سے کوئی اجنبی، حتی کہ ٹیچر بھی ہمدردی کرے، ان کے اور آپ کے درمیان کسی بھی مسئلے پر کچھ بات ہو، تب بھی مجھ کو ضرور بتانا اور ہاں کلاس میں بھی ان ہی بچیوں کے ساتھ رہنا، جو پڑھنے لکھنے سے متعلق گفتگو کرتی ہیں۔ ایسی لڑکیوں کے ساتھ ہرگز نہ بیٹھا جو ڈرامے سیریل، یا مووی کے ہیرو ہیروئین کی گفتگو کریں یا گیم کے اسکور وغیرہ پر ڈسکس کریں۔‘‘
فرماں برداری سے سرشار بیٹی نے اثبات میں سرہلا کر ماں کو مسکراتے ہوئے دیکھا اور رخصت ہوگئی۔
اس کی عادت تھی وہ اپنی بچی کو نہ صرف یہ کہ اسکول میں بلکہ رشتہ داروں کے گھر لے جاتے وقت بھی لازماً سمجھایا کرتی تھیں کہ کزن بوائز سے دوری بنائے رکھے اوراپنے رشتے داروں:جیسے چاچا، ماموں، ابو اور بھائی سے کس انداز میں رہے۔ جب سے وہ سات سال کی ہوئی تھی، انھوں نے فاصلہ بنانا، نماز کی پابندی کرنا اور لحاظ وادب کی باتوں باتوں میں بتانا شروع کیا تھا۔
وہ ایک اوسط گھرانے کی ماں تھی، ان کے علاقے میں کوئیخالص لڑکیوں کا اسکول نہیں تھا۔ مخلوط تعلیم مجبوری تھی، لیکن بحیثیت ماں اپنی بچی کی تربیت اسلامی اقدار پر کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے گاہے بہ گاہے، کبھی راست اپنی بچی کو سمجھاتی اور کبھی اپنے شوہر سے گفتگو میں اس بات کا لحاظ کرتی کہ بچے سنیں کہ کونسی باتیں ناپسندیدہ ہیں اور کونسی قابل تعریف۔
بچی اسکول بس میں سوار ہوکر’ اللہ حافظ‘ کہتے ہوئے رخصت ہوگئی۔عائشہ جانے کے لیے پلٹی ہی تھی کہ اسے اپنی پڑوسن یاسمین اور نرملا بہن دکھائی دیں، جو اس کے بالکل پیچھے کھڑی تھیں اوروہ بھی اپنی اپنی بیٹی کو اسکول بس تک رخصت کرنے آئی تھیں۔
’’ارے پتہ ہی نہیں چلا، آپ بھی آئی ہیں۔‘‘ عائشہ نے کہا۔
’’آپ کو خبر ہی کہاں ہوتی ہے۔ اپنی بیٹی کی باتوں سے فرصت توملے۔‘‘ یاسمین نے مسکرا کر کہا ۔
میں اور نرملا بہن تو بہت دیر سے تمہیں ہی دیکھ رہے تھے۔
’’ہاں یہ بھی سچ ہے، میں ہی بے خبر رہتی ہوں ۔‘‘
نرملا اور یاسمین کے ساتھ ساتھ چلنے لگیں۔
یاسمین نے کہا: عائشہ ! بچیوں کو اتنی نصیحتیں نہیں کرنی چاہیے، بچے قید محسوس کرتے ہیں۔ انہیں آزادی سے رہنے دینا چاہیے۔ پابندیوں کے لیے تو، زندگی پڑی ہے۔
نرملا بہن نے بھی تائید کی کہ اتنی چھوٹی بچی کو آزادی دینا چاہیے۔
عائشہ نے کہا :نہیں نرملا بہن! بچوں کو موقع بہ موقع کچھ باتیں سکھانا ضروری ہے۔ وقت پر نہ سکھائی جائیں تو کب سکھائی جائیں ؟
یاسمین کا خیال تھا کہ بچپن میں آزادی سے رہنے دینا چاہیے۔ اس نے یاسمین کو مخاطب کیا:
’’یاسمین! بچے جب سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز کا حکم دینا چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کی قباحتیں سمجھانے کا بھی یہی وقت ہے۔ ‘‘
نرملا نے کہا :’’یار تمہارے سماج میں تو، عورتوں پر پابندی ہی بہت ہے۔‘‘
یہ پابندیاں نہیں ہیں۔ یہ باتیں ان کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔ کیا آپ اپنی بچی کو کسی اجنبی سے فری نہ ہونے کا نہیں کہتیں؟
ہاں، وہ تو ہم کہتے ہیں۔ لیکن عائشہ اتنی چھوٹی عمر میں لڑکوں سے دور رہنے کی بات سمجھانا ضروری ہے کیا، بچے ابھی چھوٹے ہیں۔
کیا تمہیں ماحول سے خوف نہیں آتا کہ بھارت میں پانچ سال کی بچی سے لے کر پچاس سال کی عورت تک محفوظ نہیں ہے۔
ہاں وہ تو ہے۔ دونوں نے تائید کی:بات تو سچ ہے۔
ہم تینوں بچیوں کو بس اسٹاپ تک چھوڑنے کیوں آئے ہیں؟ اسی لیے تاکہ بچے راستہ نہ بھول جائیں، کتا ان پر نہ چڑھ دوڑے، اجنبی انہیں لے نہ جائے، بس میں چڑھتے ہوئے ایکسڈنٹ ہی نہ ہوجائے۔ اس طرح کے ہزار اندیشوں نے پریشان کیا اور ہم نے حفاظت کا فیصلہ کیا کہ اپنی بچیوں کو چھوڑنے جائیں گے۔ کیا یہ حفاظتی اقدام بچوں پر پابندی ہے؟
بچہ ہا یا بڑا دھوپ میں کسی کام سے جاتا ہے تو دھوپ سے بچنے کے لیے رومال کیوںدیتے ہیں؟
تا کہ دھوپ سے بچنے کے لیے اسے استعمال کیا جا سکے۔
ہاں بالکل!
ہم جنک فوڈ سے بچوں کو کیوں روکتے ہیں ؟
کیوں کہ ان کی صحت کے لیے یہ درست نہیں۔
یہ پابندیاں ہیں یا حفاظت ؟
ہم بچوں کوان کے بچپن ہی سے سکھاتے ہیں کہ آگ سے دور رہو۔ جلنے سے بچانے کے لیے آگ کو حفاظت کے ساتھ استعمال کرنا سکھاتے ہیں۔ حتی کہ وہ عادی ہوجاتے ہیں کہ آگ سے فرار نہیں، لیکن بحفاظت اس پر کھانا پکتا ہے، لیکن ہاتھ جلتا نہیں ہے۔ کیا آگ سے بچنے کے یہ گر سکھانا پابندی ہے؟
نہیں، بالکل نہیں!
گاڑی چلانے کا سلیقہ انسان سیکھتا ہے تاکہ سفر بھی ہوجائے اور ایکسی ڈینٹ نہ ہو۔ایکسی ڈینٹ سے بچنے کے لیے ہمیں دوسروں سے بچنا آنا چاہیے، یہ ہماری ذمہ داری ہے یا دوسرے کی؟
ہاں، بالکل !یہ اپنی حفاظت کے لیے ہے۔دونوں نے ہم آواز ہوکر کہا۔
عائشہ نے بات جاری رکھی۔ کیا گاڑی چلانے کی عمر اٹھارہ سال ہوجائے اور ہم بغیر سکھائے اسے چلانے دیں، یہ ممکن ہے؟ کیا بغیر کچھ سکھائے چلانے دینا آزادی ہے؟
نہیں، بالکل نہیں!
اب ہماری بچیاں انسانوں کو برتنے کے لیے میدانِ عمل میں ہیں۔ سب سے پہلے انہیں ہم اپنی ذات کو لحاظ میں رکھنا سکھائیں گے اور دوسرے مرحلے میں کسی کے جال میں پھنسنے سے بچنا سکھائیں گے۔ پھر کردار کو بھی ہوس ذدہ افراد کی دھوپ سے بچانے کے لیے ہمیں اپنی بچیوں کو حفاظتی تدابیر بھی سمجھانی ہوتی ہیں۔
دونوں نے سرہلا کر تائید کی۔
یہ حفاظتی تدابیر ایک ماں اپنی بچی کو سکھاتی ہے۔ ایک ڈرائیور کو ڈرائیونگ اسکول میں سکھائی جاتی ہے۔ ایک شیف کو کھانا بناتے ہوئے، آگ سے بحفاظت کام کا سلیقہ سکھانا جب پابندی نہیں تو ایک ماں کا بیٹی کو اپنی حد میں رہنا سکھانا، پابندی کیسے سے ہوا؟ اسی طرح ایک عورت کو معاشرے میں اپنے حدود میں بھی رب العالمین کا سکھانا ،کیسے پابندی ہوسکتا ہے ؟
اسلام خواتین کو حکم دیتا ہے کہ نامحرم سے لگاوٹ کی باتیں نہ کرو، قربتیں نہ بڑھاؤ، آواز میں لوچ پیدا نہ کرو، خوشبو یا غیر ساتر لباس سے دوسرے کو ہیجان یا برائی میں مبتلا نہ کرو، نگاہیں جھکا کر رکھو، تنہائی میں نہ ملو۔
سانپ کے دم پر آپ پیر نہ رکھو، ورنہ وہ پلٹ کر آپ ہی کو کاٹے گا۔ کتے کو دم کو پکڑ کر نہ کھینچو، ورنہ وہ کاٹ لے گا۔خود کسی کو برائی میں مبتلا کرنے کی ابتداء نہ کرو، ورنہ خسارا خود ہی اٹھاؤگے،یہ باتیں سمجھانا کیا قید لگانا ہے؟
نرملا بہن اور یاسمین آپ دونوں بتائیے، کیا یہ عورت کی حفاظت کے لیے ہے یا پابندی؟ مردوں کو بھی ان کی حفاظت کا حکم ہے کہ نگاہیں جھکا کر رکھیں، بری نظر نہ ڈالیں، نامحرم سے قربت نہ بڑھائیں۔ کسی نامحرم خاتون کے ساتھ بلا ضرورت تنہائی میں بات نہ کریں۔ لحاظ کے ساتھ لباس زیب تن کریں اور خواتین کو ہراساں نہ کریں۔
دونوں عائشہ کی باتوں سے صد فی صد متفق تھیں۔ گھر آچکا تھا۔
عائشہ نے آخری جملہ کہا:
’’یہ احکامات ہماری حفاظت کے لیے ہیں۔ ہمارے لیے قید نہیں ہیں، عقل سے سوچیں تب۔‘‘
وہ ایک اوسط گھرانےکی ماں تھی، ان کے علاقے میںکوئی خالص لڑکیوں کا اسکول نہیں تھا۔ مخلوط تعلیم مجبوری تھی، لیکن بحیثیت ماں اپنی بچی کی تربیت اسلامی اقدار پر کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے گاہے بہ گاہے، کبھی راست اپنی بچی کو سمجھاتی اور کبھی اپنے شوہر سے گفتگو میں اس بات کا لحاظ کرتی کہ بچے سنیں کہ کونسی باتیں ناپسندیدہ ہیں اور کونسی قابل تعریف۔

7 Comments

    • خان مبشرہ فردوس

      شکراًجزیلا

      Reply
  1. Naziya rajawat

    Bahut Achi tahreer

    Reply
    • خان مبشرہ فردوس

      شکر گزار

      Reply
  2. Naila waseem k

    Beautifully explained

    Reply
  3. Sameera

    Ma sha Allah bhot hi kam ko bat hai

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر