خواتین اوربزنس
خواتین کے لیے کے لیے باعزت روزگار کے مواقع کبھی بھی محدود نہیں رہے۔مائیکروفائنانس کی لسٹ طویل ہے، تاہم جو بات محسوس کی جاتی ہے وہ یہ کہ ہمارے سماج کی خواتین میں بزنس کے تئیں ہمت اور حوصلے کا فقدان ہے۔ جب کہ ایک مرتبہ انہیں صحیح رخ مل جائے تو وہ باعزت روزگار یا معیشت کے لیے بہترین اقدامات کرسکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انہیں اسٹارٹ کرنا سکھائیں۔اسٹارٹ اپ کے لیے ذیل میں آسان زبان میں کچھ طریقے بتائےجارہے ہیں:
پہلا:
ہم نے جس کاروبار یعنی چھوٹے پیمانے کی صنعت کو درجہ بندی میں پہلے نمبر پر رکھا ہے، ہر خاتون بہ آسانی اس بزنس سے استفادہ کرسکتی ہے۔آپ کسی بھی چھوٹے بڑے کرانہ اسٹور پہ جائیں گے تو آپ کو چھوٹے چھوٹے انواع واقسام کے پیکٹس دکھائی دیں گے ،جیسے:سونف، لونگ، دالیں، تل، گرم مسالہ جات وغیرہ۔ اور یہ محض پانچ سے دس روپے کی قیمت میں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوتے ہیں۔
بازار ہوں یاہول سیل شاپس، آپ کو یہ پیکٹس ضرور مل جائیں گے۔چھوٹے پیکٹس پیکنگ کے لیے اور تھوک میں قدرے کم قیمت پر اشیاء خریدیں۔ ایک بڑا سٹیپلر اورموسم کے لحاظ سے مطلوبہ چیزیں لے لیں۔
ابتدا میں سو روپے کی سبز الائچی، ساگو دانہ دوسو کا،کالا نمک پچاس روپے کا، ساوگی دوسو روپے کی، بھنے چنے اچھی کوالٹی کے، سوروپے کے مکھانے اورسونف سو روپے کی۔ہول سیل میں اگر مناسب ریٹ میں درمیانے بادام مل جائیں تو آپ انھیں بھی لے سکتے ہیں۔اسی طرح کالی مرچ دوسو روپے کی،پچاس روپے کا لیمن گراس۔ابتدا میں اسے خرید لیں،لیکن بعد میں اس کے پودے خرید لیں۔ اس کے بعد پودے دو اڑھائی سو کے مل جاتے ہیں، انھیں صحن یا چھت پر لگائیں۔ انھیں کاٹتے جائیں، سکھاتے جائیں۔ چار پودے بہت کافی ہیں۔
یہ سامان ان لفافوں میں رکھتے جائیں، سٹیپل کریں، بیس گتہ آپ کواسٹیشنری کی دکان سے بھی مل سکتا ہے۔کچھ لوگ ڈسپنسریوں، ہاسپٹل کے دوائیوں کے کارڈزپر بھی چسپاں کر دیتے۔آپ بڑی ہول سیل شاپ پہ انہیں فروخت کریں،یہ ہاتھوں ہاتھ بکتے ہیں۔ تجربہ اور خود اعتمادی بڑھے تو شاپس سے خود آرڈر لے کر بیچیں۔ زیادہ بچت اس وقت ممکن ہے ، جب کہ بڑی دکانیں آپ کو آڈرز پر پیکنگ کا کام بھی دینے لگیں ۔یا آپ اسی کام کو آڈر پر لیں اور بے روزگار خواتین کی مدد سے چھوٹی سی پیکنگ کمپنی ہی بنالیں ۔
دوسرا :
میس چلانے کا کاروبار خواتین بہترین طور پرکر سکتی ہیں ۔پچھلے دنوں اخبار میں گراؤنڈ رپورٹ پڑھی تھی کہ دلی کے فٹ پاتھ پر ایک خاتون نے بریانی فروخت کرنے کا کاروبار شروع کیا تھا اور وہ بہترین چل پڑا ۔ابتداء میں دوکلو بریانی بناکر برقع پوش خاتون نے بیچنا شروع کیا تھا، اب وہ دن بھر میں ایک کوئنٹل بریانی بنالیتی ہے اور ساری بک جاتی ہے ۔کھانا بناکر خواتین فروخت کرنے لگیں یا دوسرے شہر سے آنے والے طلبہ کو کھانے کے ٹفن بنواکر دیں تو یہ اچھی انکم کا ذریعہ ہے ۔پنجاب کی ایک خاتون تندوری روٹی کا بزنس بہت کامیابی سے چلاتی ہیں۔
تیسرا:

آپ چھت پہ مرغبانی کریں۔ بڑے ڈربے بنائیں جائیں اور چاہیں تو دیسی مرغ پالیں۔ یا آپ پوئٹری بھی چلا سکتی ہیں ۔دیسی مرغ پالیں تو مرغیاں رکھیں۔ ان کے گوشت اور انڈوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ انڈوں کا کاروبار بھی کریں۔ کچھ خواتین کہتی ہیں کہ اس سے بدبو کا سامنا ہوتاہے۔ آپ مناسب ہوا کا انتظام کریں، صفائی کا بندوبست کریں تو کوئی بدبو نہیں ہوگی ۔پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ سہولت تکلیف بعد ہی ہوتی ہے۔

چوتھا:
موسم سرما کی آمد آمد ہے۔ خواتین اپنی جلد اور بالوں کے لیے متفکر نظر آتی ہیں۔آنا بھی چاہیے اور اپنا خیال بھی رکھنا چاہیے ۔آپ یوٹیوب چینلز سے دیسی طریقے سے بہت سی کریمیں بناکر بھی سیل کر سکتی ہیں۔ اللہ کا رزق پہنچانا مقصود ہوتو خریدار وہ بھیج ہی دیتا ہے ۔
پانچواں:
آپ نے بڑے بڑے مال میں فش کے ذریعہ پیروں کے ڈیڈ سیل فش کو کھلانے والا پلانٹ دیکھا ہوگا ،جس میں گاہک اپنے پیر پانی میں ڈال کر بیٹھا ہوتا ہے اور مچھلیاں پیروں کے ڈیڈ سیل کھا کر اپنا پیٹ بھرتی ہیں۔ لیکن پیر باہر نکالیں تو ایڑھیاں جگ مگ کرتی ہیں ۔یہ قدیم یونانی طریقہ ہے اور یہ کام مخصوص نسل کی مچھلیوں سے لیا جاتا ہے۔اس پلانٹ میں دس منٹ پیر ڈالنے کےچارجز آپ کو دوسو روپیے دینے ہوتے ہیں۔ موسم سرما میں خواتین اپنی ایڑھیوں کو لے کر فکر مند رہتی ہیں ۔ون ٹائم پیسہ خرچ کرتے ہوئے آپ ایک بڑا سا فِش پاٹ لے کر یہ پلانٹ گھر میں لگواکر یہ بزنس شروع کرسکتی ہیں ۔
چھٹا:
گر آپ کو تھوڑی بہت سلائی آتی ہے تو اچھے ٹیلرز سے جوڑے اٹھائیے اور بٹن کاج کیجیے۔ محض ایک قمیض کے بٹن وغیرہ لگانے کے چارجز پندرہ روپے ہیں۔ یا آپ بٹن لگوانے اور ماسک سلنے کا کونٹریکٹ بھی لے سکتی ہیں ۔
ساتواں:
شادی ہالز،پرائیویٹ ہاسپٹلز،مختلف آفسز کی کیٹرنگز اور کپڑوں کی دھلائی اور استری کا کام بھی بہت نفع بخش ہے۔ اس میں گر شادی ہال کا کونٹریکٹ مل جائے تو وارے نیارے۔اس میں بڑے پیس کی دھلائی سو سے دوسو کے درمیان ہوتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ وہ لوگ آپ کی دہلیز پر کپڑے دے کر جائیں گے اور رسیو بھی کریں گے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١