نمرہ شکیل

غزل

کیا تشفی بوند سے ہو گی سمندر دیکھ کر کشمکش میں پڑ گئے ہم چشم و ساغر دیکھ کر بت پرستی عین کعبے میں...

نظم

چراغوں کی ہوا بھی چارہ گر ہے یہی تو امتزاج خیر و شر ہے ہم اپنے وقت سے پیچھے رہے ہیں ہمیں درپیش...