سوال : ایک بہن
جواب:ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس
سوال(گمنام بہن)
السلام علیکم!
خوشی ہوئی کہ آپ نے نفسیاتی الجھن کا کالم شروع کیا۔مجھے یوں لگا جیسے میرے دل کی اللہ نے سن لی باجی!
ہماری فیملی ایک خوشحال فیملی ہے میرے دو بیٹے ہیں 12ا ور 13سال کے اور ایک چھوٹی بیٹی کی عمر 4 سال ہے۔
میرے شوہر اچھی پوسٹ پر ہیں کوئی معاشی دشواری ہے نہ کبھی ہم لوگوں کے درمیان جھگڑا ہوتا ہے ۔ ایک خوشحال خوش مزاج گھرانے میں شمار ہوتا ہے۔ ہاں ایک بات یہ کہ میرے شوہر اور بچوں کا مزاج میرے کام میں ہاتھ بٹانے کا بالکل بھی نہیں ہے، قطعا نہیں ہے۔ ابتداء سے اس بات کی جانب میرے رشتے دار و بزرگ خواتین توجہ دلاتی رہی ہیں کہ یہ عادت اچھی نہیں ہے اور میں ہنس کر ٹال دیتی کیونکہ مجھے کبھی یہ بات بری نہیں لگی اور نہ میں کام سے تھکتی ہوں۔ ہاؤس وائف ہوں اور ہمیشہ گھر کی خوشیاں دیکھ کر یہی محسوس کیا کہ فطرت ہوتی ہے اپنی اپنی۔ سخت ترین پریشانی میں بھی بچے اور شوہر باہر ہوٹل سے کھانا لاکر دینا آسان سمجھتے ہیں کسی کام کے مقابلے میں۔ اگر بیمار ہوجاؤں تو کوشش یہ ہوتی ہے کہ میں کسی طرح بھی اٹھ جاؤں اور کام کرنے لگوں۔ دودھ یا دوائی دے کر سب اپنی اپنی جگہ بیٹھ جاتے ہیں کہ مما ہی اٹھ کر کچھ بنا کر دیں گی۔
یہ بات ابتداء میں تو ٹھیک ہی لگی کہ انہیں بنانا نہیں آتا اس لیے ایسا کرتے ہیں۔لیکن اب کچھ دنوں سے طبیعت بہت حساس ہورہی ہے۔ صبح کبھی تیز بخار سے بھی اٹھ نہ پاؤں تو شوہر اور بچوں کے رویہ میں مجھے بے حسی لگتی ہے۔ دل چاہتا ہے شوہر قریب آکر درد پوچھیں لیکن ان کا رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے بس بہت ہوا اب اٹھ جاؤ سب نارمل ہے۔ جب کہ مجھ کو واقعی درد ہورہا ہوتا ہے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ آرام کرلو۔
شادی کو 16 سال ہوگئے ہر تجربے سے لگتا ہے کہ انہیں میری میں ہمدردی کے دو جملے بھی نہیں کہے جاتے۔ جب کہ یہ وائرل بخار پر رویہ ہے۔ آگے زندگی میں کوئی بیماری ہوجائے خدا نخواستہ تو اوور تھنکنگ کرنے لگی ہوں۔ تنہائی میں رونے لگتی ہوں ۔بیماری سے اٹھ کر احساس دلاؤں کہ آپ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں تو ایزی لے کر کہتے ہیں اچھی ہوگئی ہونا اب کیا مسئلہ ہے ۔
اب تو اچھی حالت میں بھی جھنجھلاہٹ ہوتی ہے۔ روتی ہوں ،تنہا محسوس کرتی ہوں ،نفسیاتی مریض بن چکی ہوں۔ اب شوہر کی جانب دل مائل ہی نہیں ہوتا کہ یہ تکلیف کے وقت کے اچھے ساتھی نہیں ہیں۔ آپ کی تقریر میں سنا تھا کہ شوہر کے لیے بنو سنورو۔ پہلے عادت تھی باجی۔ اب تو شوہر کی بے حسی پر دیکھنے کابھی دل نہیں کرتا۔ جب سے میں دس دن کے وائرل بخار سے اٹھی تو اٹھ اٹھ کر خود ہی کچھ نہ کچھ بنانا پڑا ورنہ سب بیٹھے ہوتے تھے۔ حالانکہ بیٹوں کو بھی کھانا بنانا سکھایا لیکن کوئی کچھ بھی نہیں کرتا۔ آپ ہی جو کرنا ہے وہ کریں۔
اندیشوں نے مجھکو مریض بنادیا ہے آپ حل بتائیےکیا کروں۔ لگتا ہے اب شوہر کو مجھ سے محبت ہے نہ پہلے تھی ۔کبھی کبھی تو گھر چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتی ہوں کسی گمنام جگہ پر اور کبھی چاہتی ہوں موت آجائے۔

جواب(خان مبشره فردوس)

مسئلے کی رہنمائی کے لیے ویڈیو کلک کریں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ۲۰۲۱