درس حدیث
زمرہ : النور
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ إِلَّا قَالَ: لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ(رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ)
حضرت انسؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے (اپنے خطبوں میں) ایسا کم ہی خطاب کیا ہوگا ،جس میں یہ نہ فرمایا ہو:
’’اس شخص میں ایمان نہیں، جس میں امانت داری نہیں اور وہ شخص بے دین ہے، جو عہد کا پابند نہیں۔‘‘
ایفائے عہد کا تعلق اللہ سے بھی ہے اوربندوں سے بھی۔ یہ وہ عمل ہے جو ایمان کا جز ہے اور اللہ کی صفت بھی۔ سورۂ بنی اسرائیل میں ایفائے عہدکرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے۔ نبی کریم ؐ کی سیرت ،ایفائے عہد کی ترجمان ہے۔ آپؐ نے عہد کی پاسداری کے متعلق فرمایا:’’مومن کا وعدہ ایسا ہے گویا ہاتھ پکڑ لینا ۔‘‘
ایک صحابی عبداللہ بن ابی الحمساؓ نبوت سے قبل کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کا حضور ؐ سےخرید و فروخت کا معاملہ طے ہوا۔ انھوںنے کچھ رقم ادا کی اور باقی کے لیے کہا کہ آپ یہاں ٹھہریں، میں ابھی آتا ہوں۔ اتفاق سے وہ یہ بات بھول گئے۔ تین روز بعدجب ان کااس جگہ سے گزر ہوا تو آپؐ کو اسی جگہ منتظر پایا۔ لیکن ان کی اس وعدہ خلافی سے حضورؐ کی پیشانی پر شل تک نہ تھا۔آپؐ نے بس اتنا فرمایا: کہاں تھے؟ میں اس مقام پر تمہارا منتظر رہا۔ (ابو داؤد: 334/2)
اللہ کے رسول ؐ نےوعدہ کی پاس داری اس حال میں بھی کی جب ابو جندلؓ بیڑیوں میں جکڑے ابتر حالت میں پناہ لینے آتے ہیں۔ ابھی آپؐنے مشرکین سے صلح مدینہ کی شرطوں پر دستخط بھی نہیںکیے تھے، لیکن صرف زبانی وعدہ کے مطابق بادل ناخواستہ ابو جندل ؓ کو واپس کردیا۔
دور نبوی سے مربوط ایک اور واقعہ تو گویا ایفائے عہد کا سنگ میل ہے۔ ایک شخص سے قتل کا عمل سرزد ہوگیا۔ قصاص میں اس پر قتل کا مقدمہ قائم ہوگیا۔ وہ تین دن کی مہلت طلب کرتا ہے کہ اپنے اہل ِخانہ سے آخری ملاقات کرلے۔ صحابی رسول حضرت ابوذرؓ اس کی ضمانت لے لیتے ہیں۔ معاملہ یہ طے ہوتا ہے کہ اگر ملزم وقت مقررہ پر نہیں پہنچے گا تو ضامن کو قتل کیا جائے گا۔ تاریخ نے دیکھا کہ ملزم اپنے وعدے کے مطابق وقت مقررہ پر واپس آجاتا ہے۔
اس واقعے سےالوالعزمی اور ایفائے عہد کی ایسی زندہ مثال قائم ہو گئی ہے کہ زمین ایسے ضامن اور ملزم پر فخر اور انسانیت رشک کرتی ہے۔ دونوں سعید روحوں کو دیکھ کر مقتول کے اہلِ خانہ بھی قصاص معاف کردیتے ہیں۔
ایک مشہور حدیث میں چار خصلتوں کا ذکر ہے کہ اگر یہ چاروں کسی میں جمع ہوجائیں تو وہ منافق ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک بد عہدی ہے۔ جب کسی فرد یا قوم میں بدعہدی کی بیماری فروغ پاتی ہے تو اس کا ایمان رخصت ہوجاتا ہے۔ اگر وہ ان خصلتوں سے اجتناب کرے اور توبہ کرلے تو خیر ہے، ورنہ اس کا خاتمہ نفاق پر ہوگا۔
عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایفائے عہد کا تعلق لین دین اور تجارت سے ہے۔ حالاں کہ اس کا تعلق زندگی کے تمام ہی شعبہ جات سے ہے۔ بالخصوص ایک مومن کی زندگی کا جو خاص مقصد ہے، یعنی اعلائے کلمۃ اللہ، اس کا تعلق ایفائے عہد ہی سے ہے۔ یعنی یہ وعدہ ہم نے اپنے رب سے کیا ہے۔ بھلا کسی فرد یا قوم سے کسی اعلیٰ مقصد کے حصول کی توقع کیوں کر کی جاسکتی ہے، جب کہ بنیادی اخلاقی حس اس میں نہ ہو۔ بد عہدی کو دنیا کی ہر قوم انسانیت کے مقام سے فروتر جانتی ہے، گرچہ وہ خود عہد کی پاسداری نہ کریں۔
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب امت مسلمہ میں جھوٹ ، بد دیانتی، بد زبانی اور بد عہدی عام ہوگئی ہے۔ شریعت میں اس کے خلاف سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ قرآن مجید میں عہد کے تعلق سے فرمایا گیا کہ اس کے متعلق باز پرس ہوگی۔ بد عہدی کا خاصہ یہ بھی ہے کہ اس کا صدور بعض افراد کرتے ہیں، لیکن پوری قوم کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔
ہم گرگئے سرکارؐ زمانے کی نظر سے
کردار اگر ہوتو زمانے میں بھرم ہو

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١