درس قرآن
زمرہ : النور
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَالضُّحَى ۔ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى۔ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى۔ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَى۔ وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى۔ أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى۔ وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى۔ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَى۔ فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ۔ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ۔ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۔ (الضحیٰ 1 تا 11)

’’قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جب کہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے۔ (اے نبیؐ) تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔یقیناً تمہارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے اورعنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔ کیا اس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانا فراہم کیا؟ اور تمہیں ناواقفِ راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا۔ لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو اور سائل کو نہ جھڑکو اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو۔‘‘

 ماہ ربیع الاول کی آمد آمد ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہ وہ ماہ مبارک ہے، جس میں ہادیٔ اعظمؐ، انقلاب ربانی کے عظیم ترین علم بردار، رحمت اللعالمین حضرت محمدؐ اس دنیا میں تشریف لائے اور اسی ماہ میں آپ کا وصال ہوا۔
آپ تمام بنی نوع انسانوں کے لیے پیغمبر اور ہادی بنا کر بھیجے گئے تھے اور آپ ہی کی مکمل اتباع، یعنی پیروی میں نہ صرف ہماری بلکہ تمام انسانیت کی فلاح و نجات ہے۔ آ پ رہتی دنیا تک تمام انسانوں اور ان کی زندگیوں کے ہر ہر شعبہ کے لیے مشعلِ ہدایت اور خضر راہ بن کر تشریف لائے تھے ۔ دینی و دنیوی نقطۂ نگاہ سے آپ کے تمام پہلومکمل تھے ۔ آپ صرف داعی نہ تھے کہ صرف تبلیغ پر اکتفا کرتے، نہ صرف عابد، زاہد اور صوفی تھے کہ جنگل یا پہا ڑ کے کسی کوہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتے۔ نہ کوئی دنیا دار شخص تھے کہ زندگی کے جا ہ و جلال اورلذ توں میںگم ہو جاتے۔ آپ تو رہبرِ کامل، محسنِ انسانیت تھے اور وہ مشن اوروہ پیغام لے کر آئے تھے، جس کے ضمن میں آپ کو پوری انسانیت کی رہنمائی کرنی تھی تاکہ زن و مرد، شاہ و گدا، امیرو غریب، ادنیٰ و اعلیٰ، غرض ہر حیثیت کے لوگ آپ سے فیض یاب ہوسکیں اور مثالی انسانی معاشرہ وجود میں آئے۔
آپ نے جس اعلیٰ تہذیب و تمدن کی دعوت دی تھی، اس کے لیے بھی لازمی تھا کہ ایک پاکیزہ معاشرہ تعمیر ہو، جس کے لیے لازمی تھا کہ لوگوں کو زندگی گزار نے،مثلاً کمانے و خرچ کر نے اور نظمِ مملکت وغیرہ کے طریقے بتاد یے جائیں۔ نیز لوگوں میں آپسی تال میل،محبت اور ہمدردی کی فضا ہموار کرنے کے لیے والدین، اولاد، شوہر، بیوی، رشتہ دارا ور پڑوسی وغیرہ، تمام لوگوں کے آپسی حقوق و اختیارات اور فرائض و ذمہ داریاں متعین کر دی جائیں۔جسے آپؐ نے اللہ کی مدد اور توفیق سے بحسن و خوبی انجام دیا ۔
یہ بات بھی ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر کس و ناس کو اتنی اہم ذمہ داری نہیں سونپ سکتااور نہ ہی اس کے ذریعے ایسا عظیم انقلاب بر پا کروا دیتا ۔ اسی مناسبت سے جب ہم ہادی اعظم اورمحسن انسانیت کی نبوت سے قبل کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آپؐ پوری انسانیت کا درد اپنے اندر سموئے ہوتے تھے۔ آپ اچھی طرح دیکھ رہے تھے کہ یہ انسانیت کس طرح بگاڑ کی طرف جا رہی ہے اور جہالت، اخلاقی پستی اور سخت پسماندگی میں مبتلا ہے ۔ لوگ ایک دوسرے کے تئیں محبت و قربانی کے جذبے سے خالی اور ایک دوسرے کے خون کے پیا سے بنے ہوئے ہیں ۔ عفو و درگزر، محبت و ہمدردی ان کو چھوکر نہیں گئی تھی۔ کفر و شرک اور بت پرستی میں پوری دنیا ہی ڈوبی ہوئی تھی۔زنا و بے حیائی اپنے عروج پر تھی ۔ لوگ ننگے ہو کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے ۔ عورتیں تک ننگا ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی تھیں ۔ جب کہ ان ساری برائیوں سے آپ کی فطرت بچپن ہی سے ابا کرتی تھی ۔ سارے خدائی ادیان میں بگاڑ آ گیا تھا۔ آپ مشرکین عرب ، نصاریٰ، یہود، اورمجوس تمام مذاہب کو غلط سمجھتے تھے اور اس حنیفیت پر بھی مطمئن نہیں تھے، جو عرب کے بعض قائلین توحید میں پائی جاتی تھی۔ یہ ایک مبہم عقیدہ تھا، جس میں راہِ راست کی کوئی تفصیل نہ تھی۔
لیکن آپ خود بھی یہ نہیں جانتے تھے کہ راہِ ہدایت کیا ہے؟ جس کے سبب آپ سخت الجھن اور پریشانی میں تھے ۔آپؐ دنیاوی عیش و آرام سے دور بس اسی فکر و پریشانی میں کئی کئی روز غارِ حِرا میں جاتے اور معاشرت کی اسی جہالت و پسماندگی، ظلم و ناانصافی کو دور کرنے کی کوشش میں  لگےرہتے۔ مگر اس بگاڑ کو دور کرنے کی کوئی صورت آپ کو نظر نہ آتی۔یہ موضوع تفصيل طلب ہے، جو فی الوقت ناممکن ہے۔ قرآن کی یہ آیت آپ کی اس حالت کی بہترین عکاسی کرتی ہے، جسے پڑھتے ہی آپؐکے قبل نبوت کے خلجان اور پریشانی کا پورا نقشہ ہمارےذہنوں میں اجاگر ہو جاتا ہے:

أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ۔ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ۔ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ (الشرح 1 تا 3)
’’اے نبی کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لیے کھول نہیں دیا ؟ اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ اتار نہیں دیا جو تمہا ری کمر توڑے ڈال رہا تھا۔‘‘
یعنی پہلے تو آپ کو راہِ راست کا علم نہ تھا ۔ دنیا سے جہالت و بگاڑ دور کرنے کی کوئی راہ آپ کی سمجھ میں نہ آ رہی تھی، لہٰذاہم نے تمہیں نبوت عطا کر کے اس خلجان کو دور کردیا اور وہ راہِ راست عطا کر دی، جس سے آپ کوکا مل اطمینانِ قلب حاصل ہو گیا ۔ ساتھ ہی آپ کو وہ حوصلہ، ہمت ، اولوالعزمی اور وسعتِ قلبی عطا کر دی، جو اس عظیم منصب کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے درکار تھی ۔
غور کرو اس آیت پر کہ ہم نے تم پر سے وہ بھاری بوجھ اتار دیا جو تمہاری کمر توڑ رہا تھا۔تمہیں لامذہبیت اور انسانیت کے بگاڑ کی پریشانی تھی، ہم نے اس کی اصلاح کا طریقہ تمہیں سجھادیا ۔
اس بات پر غور کیجیے کہ کیا آج تک کسی انسان کو بچپن ہی سے یہ پریشانی لاحق ہوئی ہے ؟ اتنی زیادہ کہ آپ کی کمر ٹوٹے جا رہی تھی ۔ کیا یہ پریشانی دنیا طلبی اور اس کے عیش وآرام حاصل کرنے کے لیے تھی ؟ ہر گز نہیں۔پھر ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا سے منفرد ایسے فرد کو یہ عظیم ذمہ داری عطا نہ کرتا تو اور کسے کرتا ؟
اور پھر یہ کہ یکا یک آپ کو پیغمبر بنا دیا جانا اور نزولِ وحی کا سلسلہ شروع ہو جانا، جس کاآپ کو گمان بھی نہ تھا، نہ کبھی آپ نے اس بابت خواب میں ہی سوچا تھا۔ ظاہر ہے آپ کے اعصاب پر یہ بارگراں متحمل نہ ہو پاتا۔ لہٰذا کچھ عرصہ تک نزولِ وحی کا سلسلہ روک دیا گیا، تا کہ آپ کو سکون حاصل ہو جائے ۔ لیکن نزولِ وحی کا کچھ عرصہ بند رہنا، آپ کو پریشانی میں مبتلا کر گیا۔ آپ سخت غمگین ہوگئے۔ جب بھی کوئی سورت نازل ہوتی تو آپ لوگوں کوسناتے تھے۔ لیکن کچھ عرصہ سے مشرکین نے جب دیکھا کہ آپ کچھ سنا نہیں رہے ہیں تو کہنا شروع کر دیا کہ محمد کو ان کے رب نے چھوڑ دیا۔ ان کا رب ان سے ناراض ہو گیا۔ ابولہب کی بیوی ام جمیل نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ معلوم ہوتا ہے تمہارے شیطان نے نہیں چھوڑ دیا۔( نعوذ باللہ) اس صورتِ حال سے حضورؐ شدید رنج میں مبتلا ہوگئے۔ آپ کو بار با ر یہ خیال ہو رہا تھا کہ کہیں مجھ سے کوئی قصور تو سر زد نہیں ہو گیا کہ میرا رب مجھ سے ناراض ہو گیا اور اس نے مجھے اس حق و باطل کی لڑائی میں تنہا چھوڑ دیا۔
اس پر خداوند کریم فرماتا ہے :’’ قسم ہے روزِ روشن اور رات کی جب کہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے۔ (اے نبی!) تمہارے رب نے تم کو ہر گز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔‘‘ (الضحیٰ: آیت اتا۳) (جاری)
غور کرو اس آیت پر کہ ہم نے تم پر سے وہ بھاری بوجھ اتار دیا جو تمہاری کمر توڑ رہا تھا۔تمہیں لامذہبیت اور انسانیت کے بگاڑ کی پریشانی تھی، ہم نے اس کی اصلاح کا طریقہ تمہیں سجھادیا ۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١