اقبال کی شاعری میں میں تصوّرِوجود ِزَن
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
اقبال ایک اچھے انسان ،ہر دل عزیز شاعر ،ایک فلسفی ، ایک مفکر ،ایک مقبول استاد ،اقتصادیات و معاشیات سے آگاہ ،صوفیانہ خیالات کے حامل ،حکیمانہ نظر کے مالک عظیم الشان شاعر تھے ۔ان کی شاعری ابتدا ہی سے مضبوط اور صحت مند بنیادوں کے ساتھ آگے بڑھتی رہی۔انھوں نے اپنے راستے خود بنائے اور دوسروں کے لیے بھی راہ ہموار کی ۔کہیں اضافہ کر کے توکہیں تراش خراش کے ذریعہ ،کہیں نئے خیالات ومشاہدات اور اپنے تخیلات کو صیقل کر کے، تو کہیںنیااسلوب اختیار کر کے تاکہ ایک صحت مند معاشرہ کی تشکیل ہو سکے ۔ان کی پوری شاعری کی اگر ایک لفظ میں وضاحت کی جائے تو ان کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد تھا ’ اصلاح معاشرہ ‘، جس میں وہ بہت حد تک کامیاب ہوئے ۔ان کی شاعری صرف ان کے ہی عہد میں نہیں بلکہ ہر دور کے سماج و معاشرے کو اصلاح کا پیغام دیتی ہے۔ان کی شاعری ہر عہد کی ترجمان ہے،ان کے موضوعات کبھی پرانے نہیں ہوتے، کیوں کہ انھوں نے اپنے کلام میں عالمی موضوعات کو پیش کیاہے۔
اگر بات کریں عورت کی تو’عورت ‘خداکا سب سے حسین ترین کرشمہ ہے،جو صرف حسین و جمیل ہی نہیں بلکہ خدا نے اس میں جذبات و احساسات ،محبت و شفقت،صبر و نرمی،غمگساری،ایثار و قربانی، نازک خیالی، امور خانہ داری ،نزاکت و نفاست و سلیقہ مندی جیسے اوصاف ِجوہرسے لبریز کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔ اللہ نے عورت کو جو مرتبہ عنایت کیا ہے، وہ کسی اور کو حاصل نہیں ،تاکہ عورت اپنی ازواجی زندگی کے ساتھ ساتھ سماجی زندگی کے طور پر بھی ایک بہترین معاشرے کی تعمیر و تشکیل کر سکے ۔کہا بھی جاتا ہے کہ مرد کی کامیابی کے پیچھے عورت کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔کیوں کہ عورت ہی مرد کے لیے خوشگوار اور پرُ سکون ماحول فراہم کرتی ہے اور اس کی پرچھائی بن کر اس کا ساتھ دیتی ہے۔بھلے ہی اس کی صورت مختلف مثلاً ماں، بہن ،بیوی اوربیٹی ہی کیوں نہ ہو۔وہ ہر قدم پر اس کی رہنما بن کر صداقت سے اس کا ساتھ نبھاتی ہے۔
عورت ہمیشہ سے ہی کبھی ماں ،تو کبھی بہن،بیٹی تو کبھی بیوی کی حیثیت سے ازل سے اب تک اس عالم فانی میں اپنی شفقت و محبت،ہمدردی و نرم سلوکی ،ایثار و قربانی لٹاتی آئی ہے۔لیکن ان سب کے باوجود بھی عورت ہر دور میں مردوں کے ظلم و تشدد کا شکار بنتی رہی ہے۔مردوں نے ہمیشہ عورتوں کے حقوق کی تلفی کی اور اس کا جنسی استحصال کیا ۔ان کو سماجی شکنجوں اور فرسودہ روایات میں اس قدر جکڑا کہ اس کی پوری شخصیت محدود داور سمٹ کر رہ گئی۔ اگست بیل ایک جگہ لکھتا ہے کہ
”Women is not a subject. She is an object, Which man uses and abuses as a Thing is used and abused.” (Agust Bell:Women in the past,Present,and (Future, NBT, ND-1976 P.No.11
اس عبارت سے واضح ہو جاتا ہے کہ مردوں کے نزدیک عورت نہایت ذلیل اور بے معنی اشیاء کے مانند ہے۔جن کی ان کے نزدیک نہ تو عزت ہے اور نہ کوئی اہمیت اور وہ ان کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کر سکتے ہیں۔یہ صرف آج یا کل کی یا کسی ایک خطے کی بات نہیں ،بلکہ دنیا کی تقریباًہر قوم نے عورت کے وجود کو نیست و نابوت کرنے کی پر زور کوشش کی ہے ۔مردوں کی نظر میں ہمیشہ عورت کی اہمیت ایک جنسی حوس ،صنف نازک، محبوبہ، لونڈی اور طوائف کی رہی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ مرد کی تخلیق عورت کی تخلیق سے پہلےہوئی، لیکن ’خلد‘سے نکلنے کے بعد مرد اور عورت اس روئے زمین پر ازل سے ایک ساتھ ہی رہتے آئے ہیں۔مرد اور عورت کے بیچ اس قربت،موانست اور رفاقت کی بنیادی وجہ دونوں کے بیچ حیاتیاتیBiological تفریق تھی۔
اسی تفریق کی بنا پر عورت قرنہا قرن اور جنسی و تولیدی عمل سے گزرتی رہی۔جسمانی اعتبار سے بھی عورت مرد کے مقابلے کمزور، نازک و ناتواں سمجھی جاتی ہے ،جذباتی طور پر بھی ایک عورت زیادہ حساس اور نم دیدہ واقع ہوئی ۔ جب کہ ایک مرد کو عورت کے مقابلے زیادہ مضبوط،عقل مند ،ذہین اور تفکر پسندی جیسے اوصاف سے نوازا گیا ۔اس پر یہ کہ عورتوں کو مردوں نے ناقص العقل اور مجہول قرار دیا۔ تاریخ اس بات کی گواہ رہی ہے کہ مردوں نے اپنے من مطابق عورتوں کا استحصال و استعمال کیا ۔عورت کو ہمیشہ سماجی و معاشرتی زیادتیوں، ناانصافیوں اور جینڈر تفریق کے کرب سے دوچار ہونا پڑا۔اس کے علاوہ بعض ایسے حقوق ہیں ،جو صرف مردوں کو حاصل ہیں،عورتوں کو ان سے محروم رکھا گیا۔مثلاًووٹ ڈالنے کا حق آج بھی کئی ملکوں میں عورتوں کو حاصل نہیں ہے۔ادب اور آرٹ میں عورتوں کو ’سامان یا کموڈٹی ‘کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اجنتا ،ایلورااور کھجوراہوں کے غاروں کے سنگ تراشی کے نمونے ہوں، یا دنیا کے عظیم مصوروں کے فنی شاہکار یا عالمی ادب کے شعری متون ،ہر سطح پر عورت کے جنسی پیکر و تمثال اور جنسی حوالے موجود ہیں ۔سنسکرت کی’ شرنگار رس‘کا تو مقصد ہی یہی ہے کہ عورت کے ان تما م صورتوں کا بیان۔
بہر حال اگر بات کریں اقبال کی تو جدید اردو شاعری میں حالیؔ اور اقبالؔ ایسے شاعر ہیں، جن کے یہاں عورت کو خاص مقام حاصل ہے۔ ان کے کلام میںعورت کو ادب و احترام اورباعث عزت واہمیت کے پیش کیا گیا ۔جب کہ اردو شاعری کی تاریخ گواہ رہی ہے کہ پوری اردو شاعری خصوصاً غزلوں میں صنفی آلودگی ،عریانیت اور سطحیت کی بھرمار ہے ۔عور ت کے جسم کے ہر اعضاء کو غزلوں کے شیشے میں اتارا گیا ۔کلام اقبال کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کو ان کے کلام میں یوں تو بہت زیادہ پیش نہیں کیا گیا، البتہ ان کے اردو و فارسی کلام میں بعض مقامات پر عورت کو بھی مخاطب کیا گیا ہے ۔لیکن تعداد کلام سے قطع نظر اقبال نے جس طرح اپنی شاعری میں ’وجود زن ‘ کو پیش کیا، اس سے ان کی سوچ اور عورت کا ان کے نزدیک کیا تصور ہے ؟ اس سے بخوبی واقفیت حاصل ہوتی ہے۔
اقبال نے عورت کی مدح سرائی نہیں کی، بلکہ اس موضوع پر غور و فکر کیا ہے۔انھوں نے پایا کہ ساری دنیا کے شاعروں خصوصاً ہندستانی شعرا و فنکاروں نے عورت کی ناز و ادا،اس کے حسن و جمال ،اس کے عشوہ و ناز وا داکو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔جس کے سحر میں وہ پوری طرح گرفتار ہو چکے ہیں ،ایسی صورت حال کو اقبال نے قریب سے محسوس کیا اور کہا:
چشم آدم سے چھپاتے ہیں مقامات بلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ بدن کو بیدار
ہند کے شاعر و صورت گرو افسانہ نویس
آہ بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار
قبال کو ایسے تمام فنکاروں سے شکایت تھی،جو عورت کے نام کو غلط استعمال کر ادب کی پاکیزگی اور اس کے اصل مقصد کو ٹھیس پہنچا تے ہیں۔ اس سلسلے میں منشی عبد الرحمن خان لکھتے ہیں :’’حفیظ ہو شیار پوری مرحوم نے حضرت علامہ کے ’مثنوی پس چہ باید کرد‘ کے ان اشعار کی طرف اشارہ کیا ہے
دختران اوبزلف خود اسیر
شوخ چشم و خود نما و خردہ گیر
ساختہ پر داختہ ، دل باختہ
ابرواں مثل دو تیغ آختہ
اقبال کے اردو مجمو عۂ کلام ’بانگ درا‘(۱۹۲۴ء میں شائع)میں اقبال نے فاطمہ بنت عبد اللہ اور والدہ مرحومہ کی یاد میں دو نظمیں لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ ظریفانہ میں عورت کے موضوع سے تین رباعیاں موجود ہیں ۔’ضرب کلیم ‘ میں عورت کے عنوان سے ایک پورا باب موجود ہے جو نو(۹) نظموں پر مشتمل ہے۔ ’ارمغان حجاز ‘(فارسی) میں دختران ملت کے زیر عنوان آٹھ رباعیات ملتی ہیں ۔’رموز بیخودی ‘میں تین عنوانات اسی پر مشتمل ہیں ۔’مثنوی پس چہ باید کرد میں فصل پنجم (حکمت فرعونی ) میں اس موضوع پر اقبال نے روشنی ڈالی ہے ۔اس کے علاوہ ’جاوید نامہ ‘میں افلاک کی سیر کے دوران مختلف انداز اور طریقوں سے عورت کا تصور پیش کیا ہیں۔ان کی نظم ’پھول کا تحفہ عطا ہونے پر ‘کا آغاز ملاحظہ فرمائیں :
وہ مست ناز جو گلشن میں جا نکلتی ہے
کلی کلی کی زباں سے دعا نکلتی ہے
الٰہی پھولوں میں وہ انتخاب مجھ کو کرے!
کلی سے رشک گل انتخاب مجھ کو کرے
پھر شاعر پھولوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے :
تجھے وہ شاخ سے توڑیں زہے نصیب ترے
تڑپتے رہ گئے گلزار میں رقیب ترے
اٹھا کے صدمہ فرقت و وصال تک پہنچا
تیری حیات کا جوہر کمال تک پہنچا
اس کے بعد شاعر خود کو پھول کے مقابل کھڑا کرکے کہتا ہے :
مرا کنول کہ تصدق ہیں جس پہ اہل نظر
مرے شباب کے گلشن کو ناز ہے جس پر
کبھی یہ پھول ہم آغوش مدعا نہ ہوا
کس کے دامن رنگین سے آشنا نہ ہوا
شگفتہ کر نہ سکے گی کبھی بہار اسے
افسردہ رکھتا ہے گلچیں کا انتظار اسے
یہ اقبال کی ابتدائی نظموں میں سے ہے ۔اس نظم میں عورت کا تصور محض جمالیاتی زاویۂ نگاہ تک محدود ہے ۔لندن (۱۹۰۸) میں لوٹنے کے بعد ان کی شاعری میں انقلاب دیکھا جاتا ہے ۔ان کی شاعری میں مقصدیت پوشیدہ تھا۔ان کے عمیق مطالعہ نے ان کی شاعری کو بھی وسعت بخشی ۔اقبال کو عورت کی عظمت اس کی اہمیت کا بخوبی علم تھا ،اسی لیے انھوں نے ہر عورت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ اشعار کہے جو آج ہر اردو والے کی زباں پر ہے۔عورت کا جب بھی کہیں ذکر آتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر ہونٹوں پر خود بخود مچل جاتا ہے، وہ کہتے ہیں :
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف سے بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی، لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں
علامہ اقبال نے عورت کو اسلامی تاریخ اس کے احکامات کے مطابق اپنی شاعری میں پیش کیا۔ عورت اور اس کا پردہ اسلام میں ایک اہم موضوع ہے ۔عورت کے پردے سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں ،ملاحظہ فرمائیں :
’پردہ ‘
بہت رنگ بدلے سپہر بریں نے
خدایا یہ دنیا جہاں تھی، وہیں ہے
تفاوت نہ دیکھا زن و شو میں میں نے
وہ خلوت نشیں ہے، یہ خلوت نشیں ہے
ابھی تک ہے پردے میں اولاد آدم
کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے
اقبال نے عورت کے تصور اس سے متعلق اپنے خیالات کے اظہار میں عورت کی حفاظت سے متعلق بھی اشعار لکھے،ملاحظہ فرمائیں :
’عورت کی حفاظت‘
اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور
کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد
نے پردہ، نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیت زن کا نگہباں ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد
کسی بھی عورت کی ترقی اور اس کی اصلاح بھی تب تک ممکن نہیں جب تک وہ تعلیم سے بہرہ مند نہیں ہوں گی ۔اور ان پر ظلم ستم کا سلسلہ بھی تب تک نہیں تھم سکتا جب تک ہر ایک لڑکی کو تعلیم نہیں مل جاتی۔کیوںکہ عورت کی تعلیم کے بناء نہ تو ایک خوشگوار سماج اور گھر کا تصور ممکن ہے اور نہ ہی آگے آنے والی نسلوں کی تربیت صحیح طریقے سے ممکن ہے۔ لہٰذا ایک عورت کے لیے تعلیم ہر حال میں لازمی ہے ۔بھلے وہ گھر ہی میں کیوں نہ ہو، لیکن اس کے لیے اپنے بچوں کی صحیح تربیت اور پرورش کے لیے بھی تعلیم ضروری ہے۔ اس کے علاوہ زندگی کے ہر موڑ، ہر قدم پر عورتوں کا تعلیم یافتہ اور باشعور ہونا لازمی ہے۔ ورنہ سماج ہو یا معاشرہ، تہذیب و معاشرت ہو یا ادب ،گھر ہو یا باہرکی زندگی، اس کی مکمل ترقی ممکن نہیں ہو سکتی ۔لہٰذا اس طرح تعلیم عورت کے ساتھ مردوں کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے،جتناکہ کھانا،کپڑا اور مکان۔ ایک عورت اپنی تعلیم سے صرف خود تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اس سے متا ثر کرتی ہیں ۔۱۸۹۹ء میں کلکتہ میں ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ہوا ،اس میں جسٹس سید امیر علی نے اپنی تقریر میں کہا :
’’میری رائے میں لڑکیوں کی تعلیم لڑکوں کے متوازی چلنا چاہئے تاکہ سوسائٹی پر اس کا سود مند اثر پڑے ۔جب تک ترقی کے دونوں جز برابر تناسب سے نہ ہوں گے کوئی عمدہ نتیجہ نہیں ہو سکتا ۔‘‘(مسلم خواتین کی تعلیم ،ص۔۱۰۲)
لیکن اس کے باوجود بھی دیگر حقوق کی طرح عورتوں کے ساتھ یہاں بھی زیادتی کی گئی۔ عورتوں کو ہمیشہ کی طرح اس دولت سے محروم رکھنے کی بھر پور کوشش کی گئی،اس کی زندگی کا پہلا حق حصول تعلیم کوبھی اس سے چھیننے کی ہمیشہ کوشش کی گئی ۔اس طرح لا علمی کے باعث بھی عورتوں کا ایک طویل عرصے سے استحصال کیا گیا ۔جبکہ مذہب ِاسلام میں عورت کی تعلیم پر زور دیا گیا ۔اقبال بھی عورت کی تعلیم کو اہم مانتے ہیں، جس کا ذکر ان کی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں :
’عورت اور تعلیم‘
تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت
ہے حضرت انساں کے لیے اس کا ثمر موت
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن
ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت
بانگ درا کی طویل نظموں میں’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘ایک امتیازی نظم شمار کی جاتی ہے ۔اقبال کے کلام میں چوں کہ عورت ماں جیسی عظیم ہستی بن کر ابھری ہے، اس لیے اس ماں میں فاطمۃ الزہرا کی حیات طیبہ عبارت ہے۔ اقبال وجود زن کی عظمت، اولاد کی تربیت میں مضمر سمجھتے ہیں ۔اپنی اس نظم میں اقبال کہتے ہیں :
تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا
گھر میرے اجداد کا سرمایہ عزت ہوا
دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات
علامہ اقبال عورتوں کو فاطمۃ الزہرا کے کردار کو اپنانے اور ان کی تربیت کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں ۔آج کے زمانے کی عورتیں فاطمۃ الزہرہ جیسی مثالی ازواج مطہرات کی زندگی کو اپنانے کی بجائے بے شرمی ،بے پردگی اور مردوں کو بہلانے والی ناز وانداز اداؤں کو اپنا زیور سمجھتی ہے ۔اپنی بے غیرتی کو فیشن سمجھنے والی عورتوں کو اقبال اپنی نظم ’غلام قادر رہیلہ ‘میں یوں خطاب کرتے ہیں :
دیا اہل حرم کو رقص کا فرمان ستم گرنے
یہ انداز ستم کچھ کم نہ تھا آثار محشر سے
یو نہیں کچھ دیر تک محو نظر آنکھیں رہیں اس کی
کیا گھبرا کے پھر آزاد سر کو بار مغفر سے
رکھا خنجر کو آگے ،اور پھر کچھ سوچ کر لیٹا
تقاضا کر رہی تھی نیند گویا چشم احمر سے
بجھائے خواب کے پانی نے اخگر اس کی آنکھوں کے
کلام اقبال میں مختصر ہی سہی لیکن اقبال نے تعلیم نسواں،تربیت نسواں،تصور نسواں جیسے اہم موضوعات کو اپنی شاعری میں پیش کیا ۔مختصر یہ کہ اقبال کے نزدیک عورت کا حقیقی مقام ،جس سے امت اسلامیہ کی تعمیر وو ترقی کی امیدیں وابستہ رکھی جا سکتی ہیں نہ تو اندھی تقلید کے تحت عورت کو جہالت میں مقید رکھنا ہے اور نہ عورت کا تہذیب کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانا،بلکہ حقیقی مقصد شرف نسوانیت ہے ۔قدرت نے عورت کو نوع بقا کا ضامن بنایا ہے ۔اس کے وجود سے دنیا قائم ہے ۔اقبال بھی عورت کی اس مسلمہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں ۔میں انھیں کلمات کے ساتھ اپنی باتوں کا اختتام اقبال کے اس پیغام کے ساتھ کرنا چاہوں گی :
کوئی پوچھے حکیم یورپ سے
ہندو یاناں ہیں جس کے حلقہ بگوش
کیا یہی ہے معاشرت کا کمال
مرد بے کار وزن تہی آغوش
ان کی پوری شاعری کی اگر ایک لفظ میں وضاحت کی جائے تو ان کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد تھا ’ اصلاح معاشرہ ‘، جس میں وہ بہت حد تک کامیاب ہوئے ۔ان کی شاعری صرف ان کے ہی عہد میں نہیں بلکہ ہر دور کے سماج و معاشرے کو اصلاح کا پیغام دیتی ہے۔ان کی شاعری ہر عہد کی ترجمان ہے،ان کے موضوعات کبھی پرانے نہیں ہوتے، کیوں کہ انھوں نے اپنے کلام میں عالمی موضوعات کو پیش کیاہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١