اسلام میں امن اور سلامتی کا تصور
اسلام جیسا کی اس کے نام سے ہی واضح ہے کہ امن اور سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ ایک مومن بندہ جب دوسرے سے ملتا ہے تو سب سے پہلے سلامتی ہی کی دعا (السلام علیکم: تم پر سلامتی ہو، اللہ کی امان میں رہو ۔) کرتا ہے ۔ یہ وہ پہلا پیغام ہوتا ہے جس کو ایک دوسرے سے ملتے وقت پہنچایا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کو سلام کا پیغام پہنچانا ضروری ہے۔ اس کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے۔ اس ایک جملے سے یہ بات کافی حد تک واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام امن اور سلامتی کا علم بردار ہے۔ لیکن اس کے برعکس فی زمانہ اسلام کو فتنہ و فساد سے جوڑا جارہا ہے۔ اس پر کیچڑ اچھالی جارہی ہے، اسے آتنگواد پھیلانے والا مذہب قرار دیا جا رہا ہے۔ہمارے ملک میں یہ ترانہ بڑے زور و شور سے گایا جاتا ہے کہ ’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘ اور یہ بات درست بھی ہے۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اسلام ہمیشہ امن و آشتی سکون اور سلامتی، محبت و اخوت کا پیغام دیتا رہا ہے۔ اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ زمین پر فتنہ و فساد ختم ہو اور امن و سکون عدل و انصاف کا دور دورہ ہو۔
چنانچہ اسلام کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ہم یہ دیکھیں گے کہ اسلام آغاز ہی سے امن و امان اور سکون و سلامتی کا پیغام لے کر آیا ہے۔ اسلام سے قبل دور جاہلیت میں لوگ آپس میں ذرا ذرا سی بات پر لڑ پڑتے تھے، خون و خرابہ کرتے تھے، خاندانی و نسلی جنگ صدیوں تک چلتی رہتی، انتقام اور بدلہ لینے کے لیےنہ جا نے کتنی جانیں ہلاک ہوتی تھیں،انسانی جان کی کوئی قدرو قیمت نہیں تھی۔ طاقتورامیر طبقہ کمزور اور غریب کوستاتا تھا اور اس پر طرح طرح کے ظلم ڈھاتاتھا۔ آقائی اور غلامی کا چلن عام تھا۔ زمین پر ہر طرف فتنہ اور فساد برپا تھا۔ انسانوں کو خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ غرض یہ کہ انسان اپنے مقصد وجود کو بھول چکا تھا ۔ اخلاقی قدریں پامال ہو رہی تھیں۔ ایسے میں اسلام ایک امید کی کرن بن کر دنیا کے سامنے آیا اور دنیا کو وہ پیغام امن و انسانیت دے گیا جس کی مثال کہیں نہیں ملتیں۔ اسلام نے تکریم بنی آدم (یعنی انسان کو انسانوں کی قدر کرنا) سکھایا،انسانی جان کو قابل احترام بتایا اور فرمایا:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْـرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِى الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَـمِيْعًاۖ [سورہ المائدہ :32]
(جس کسی نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا ،اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔)
ایک اور مقام پر قرآن کا ارشاد اس طرح ہے:
يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ۚ اِنَّ اَكْـرَمَكُمْ عِنْدَ اللّـٰهِ اَتْقَاكُمْ ۚ اِنَّ اللہَ عَلِيْـمٌ خَبِيْـر
[سورہ الحجرات :13]
(اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں خاندانوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ۔ بے شک اللہ کے یہاں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ )
یعنی انسان کے اندر سے یہ فخر ختم کر دیا گیا کہ کوئی اونچا نیچا نہیں ہے، تم سب برابر ہو۔ لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ساری دنیا میں فتنہ و فساد رونما ہو رہا ہے۔ اسلام نے بزرگی و برتری کا پیمانہ تقوی و پرہیزگاری ، اللہ کا ڈر اور خوف کو بتایا اور یہی وہ چیز ہے، جس سے انسان بغیر دیکھے اللہ کا ڈر اور خوف دل میں رکھتا ہے اور کھلےچھپے ہر حال میں اللہ سے ڈرتا ہے ۔ جب انسان تقوی کی اس منزل کو پہنچ جاتا ہے تو اس سے کبھی کوئی گناہ اور غلط فعل سرزد نہیں ہوسکتا ۔
زمین پر امن و امان اور سلامتی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے یہ چیز بہت بڑا رول ادا کرتی ہے کہ انسان دوسرے انسان کی تکریم و تعظیم کرے، اسے قابل احترام سمجھے، اس کو نا حق نہ ستائے، اس پر ظلم و ستم نہ کرے۔یہ جذبہ جب پیدا ہو گا تو امن و امان قائم ہو سکتا ہے، ورنہ مال و دولت ،منصب و عہدہ لوگوں کے اندر تفاخرو خود سری کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے اور وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ تکبر اور غرور انسان کو اپنے رب کی یاد سے غافل کر دیتا ہے، لہٰذا اس کے نتیجے میں زمین پر فساد پھیلتا ہے۔ انسان حیوان بن جاتا ہے، ناحق قتل وغارت گری پھیلاتا ہے اور فحاشی و بدکاری کا بازار گرم ہوتا ہے ۔اسلام اسے انسانیت کے لیے نہایت خطرناک بتاتا ہے اور اخلاقی قدروں کی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ کے رسول رسولؐ نے پڑوسی اور ہمسایہ کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کا حکم دیا اور فرمایا:’’ بخدا وہ مومن نہیں ، بخدا وہ مومن نہیں، بخدا وہ مومن نہیں۔ دریافت کیا گیا کون اے اللہ کے رسول ؐ ؟ آپؐ نے فرمایا: جس کا پڑوسی اس کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ ہو۔‘‘
پڑوسی مسلم ہوں یا غیر مسلم یا کسی اورمذہب کے ماننے والے، تمام پڑوسی کہلائیں گے۔ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا، ان کے دکھ سکھ میں شامل ہونا ضروری ہے۔ اب آپ دیکھیں کہ انسانیت اخوت و محبت کی یہ مثال امن و سکون کی فضا کو قائم رکھنے کے لیے کتنی ضروری ہے۔
جنگ کے موقع پر بھی اسلام نے کمزور، نہتے، بوڑھے افراد،خواتین اور بچوں پر ہاتھ اٹھانے سے منع فرمایا ہے، یہاں تک کہ ہری بھری کھیتی کو تباہ کرنے سے روکا گیا ہے۔ دشمنوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرنے، یہاں تک کہ قیدی کے تعلق سے بھی یہ حکم دیا کہ ان پر بھی زیادتی نہ کرو۔ فتح و کامیابی ملنے کے بعد لوگوں پر اپنی دھاک بٹھانا، لوگوں کو دبانا، ڈرانا، اسلام کی شان نہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر اللہ کے رسول اللہؐنے تمام دشمنوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا اور تمام انسانوں کو یہ درس دیا کہ اسلام امن و سلامتی کا پیغام لے کر آیا ہے ۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا تو یہ بات بالکل غلط ہے ۔اسلام تو اخلاق و محبت سے دلوں میں جگہ کرنے والا مذہب ہے۔
محسن انسانیت اور پیغمبر اسلام نے دشمنوں کے دلوں کو بھی اپنے اخلاق سے جیت لیا تھا ۔چنانچہ اس بڑھیا کا مشہور واقعہ جو کہ آپ ؐ پر کوڑا کرکٹ پھینکتی تھی، جب وہ بیمار پڑگئی تو آپؐ اس کی مزاج پر سی کے لیےاس کےگھر گئے۔ جس سے متأثر ہو کر اس نے اسلام کی آغوش میں پناہ لے لی۔
ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دشمن نے اچانک ایک دن آپ کی تلوار لے لی اور کہنے لگا :من یمنعک منی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ۔ یہ سنتے ہی اتلوار ہاتھ سے گر گئی ۔آپؐ نے تلوار اٹھا لی اور یہی سوال دہرایا۔ مگر آپؐ نے اس پر وار نہیں کیا، بلکہ اسے آزاد چھوڑ دیا۔
اسی طرح بہت سے مسلم حکمرانوں نے فتح کے موقع پر نہ لوگوں کی عبادت گاہیں منہدم کیں، نہ ہی قتل و غارت گری کی۔ بلکہ اگر ہم دیکھیں تو ہندوستان کے تمام مسلم حکمرانوں نے یہاں کے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ ایسا اچھا سلوک کیا کہ محبت و اخوت، سکون اور سلامتی کی ایک بہترین مثال سامنے آئی۔ اسلام نے رحم کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا :’’ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔‘‘دوسری جگہ فرمایا:’’ رحم اور درگزر کرنے والوں پر خدا بھی رحم کرتا ہے۔ لہٰذا تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘
ان تمام تعلیمات کے پیش نظر ہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو امن اور سلامتی کا پیغام پہنچانے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس نے انسان کو جینے کا وہ راستہ دکھایا کہ اسے تمام مخلوق سے اشرف المخلوقات بنا کر کھڑا کر دیا۔ اس کے رتبے کو بلند کیا۔ انسانیت کو اس اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا، جہاں اس کا مقام فرشتوں سے بھی بلند ہو جاتا ہے۔چنانچہ انسان نے جب بھی اس کے اصل منصب پر قائم رہتے ہوئے اپنا کام کیا، اس زمین پر نیک اور اچھے لوگوں کے ذریعے ایک بہترین تاریخ رقم ہوئی۔ لیکن جب انسان اپنے مقام اور منصب و مقصد سے ہٹا، زمین پر فساد پھیلا۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام ہمیشہ امن اور سلامتی کی تعلیم دیتا ہے اور زمین کو فتنہ وفساد سے پاک کرنا چاہتا ہے۔ لیکن افسوس آج اسے آتنگواد اور فساد سے جوڑ کر اس کی تصویر بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں غلط تصویریں ابھاری جا رہی ہیں۔ لہٰذا اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کی اصل تعلیم کو عام کیا جائے اورامن و سلامتی کےاس پیغام کو لوگوں تک پہنچایا جائے ۔یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور ہما را فریضہ بھی۔
زمین پر امن و امان اور سلامتی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے یہ چیز بہت بڑا رول ادا کرتی ہے کہ انسان دوسرے انسان کی تکریم و تعظیم کرے، اسے قابل احترام سمجھے، اس کو نا حق نہ ستائے، اس پر ظلم و ستم نہ کرے۔یہ جذبہ جب پیدا ہو گا تو امن و امان قائم ہو سکتا ہے، ورنہ مال و دولت ،منصب و عہدہ لوگوں کے اندر تفاخرو خود سری کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے اور وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتے ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١