موجودہ سیاست ملک میں بڑھا رہی ہے تاریکی
ملکی منظر نامہ:
ہندوستان میں کوئلے کی قلت کے باعث بجلی کا بحران
ملک میں جاری کوئلے کی قلت ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سنگین ہوتی جارہی ہے۔ کوئلے کی قلت کی وجہ سے بجلی کا بحران بڑھتا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک کے اٹھارہ (18) پاور پلانٹ میں کوئلہ ختم ہوچکا ہے۔جس کے سبب بہت سے پاور پلانٹ بند ہوگئے ہیں اور مزید بند ہونے والے ہیں۔ حالات کی سنگینی کے سبب دنیا بھر سے ماہرین کی طرف سے یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ آئندہ برسوں میں ہندوستان ایک بڑے بلیک آؤٹ کا سامنا کرتے ہوئے اندھیرے میں ڈوب سکتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کوئلے کی غیر معمولی پیداوار کے بعد بھی ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں، ساتھ ہی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ کوئلے کی پیداوار بڑھانے سے صورتِ حال معمول پر آجائے گی۔
ہندوستان میں ایک سو پینتیس ایسے پاور پلانٹ ہیں، جہاں کوئلے سے بجلی بنائی جاتی ہے۔ لیکن اب حکومت کا ہی کہنا ہے کہ ان میں سے اٹھارہ پاور پلانٹ ایسے ہیں جہاں کوئلہ ختم ہو چکا ہے اور صرف بیس پلانٹ ایسے ہیں جہاں سات یا اس سے زیادہ دنوں کا اسٹاک موجود ہے۔
ریاستیں بجلی کے بحران کی طرف جا رہی ہیں۔کئی ریاستوں نے خوفزدہ ہوکر انتباہ جاری کیا ہے کہ تھرمل پاور پلانٹس کو کوئلے کی فراہمی، جو گرمی کو کوئلے سے بجلی میں تبدیل کرتی ہے، خطرناک حد تک کم چل رہی ہے۔پنجاب اور راجستھان کی شمالی ریاستوں نے کوئلے کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس ہفتے کے شروع سے روزانہ تین گھنٹے لوڈ شیڈنگ شروع کر دی ہے۔ گجرات ، چھتیس گڑھ اور تمل ناڈو نے بھی بجلی گھروں میں کوئلے کی کمی کو نشان زد کیا۔
دہلی کے وزیر اعلی کیجری وال نے بھی پچھلے دنوں انتباہ دیا تھا کہ اگر فوری طور پر کوئلے کی فراہمی نہ کی گئی تو دارالحکومت دہلی اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ اس کے اسباب کیا ہیں اور کیسے اس صورتِ حال سے بچا جاسکتا تھا اور کوئلے کی قلت کو کم کیا جا سکتا تھا؟
کورونا وائرس کی تباہ کن لہر کے بعد ہندوستان کی معیشت کی بحالی کے ساتھ ، بجلی کی طلب تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ لیکن بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے مطابق عدمِ فراہمی کا مطلب یہ ہے کہ کول انڈیا کی فراہمی اب کافی نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی و عالمی سطح پر بہت سے مل کر کام کرنے والے عوامل کا ایک مجموعہ ، طلب اور رسد ، اس شدید تفاوت کا نتیجہ ہے۔ عالمی طلب میں اضافے کی وجہ سے درآمد شدہ کوئلے کی قیمت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ چین بھی توانائی کے بحران سے نبرد آزما ہے۔ جس کے سبب بھارت دنیا کے سب سے بڑے کوئلے کے صارفین چین جیسے خریداروں سے مقابلہ کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں کوئلے کی عالمی قیمتوں میں 40فیصد اضافہ ہوا اور بھارت کی درآمدات دو سال کی کم ترین سطح پر آگئیں۔
پاور فرموں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غیر ملکی کوئلے کی درآمدات میں 12فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ زیادہ قیمتوں کی وجہ سے پاور کمپنیاں گھریلو کوئلے کی طرف بھی منتقل ہوگئیں۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ستمبر میں خاص طور پر جھارکھنڈ ، اڈیشہ اور مغربی بنگال کے کوئلے سے پیدا ہونے والے علاقوں میں بھاری بارش نے اس مسئلے میں اضافہ کیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ریاستی بجلی بورڈوں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے کول انڈیا لمیٹڈ (سی آئی ایل) کے بقایا واجبات ، جو کہ ہندوستان کی کوئلے کی پیداوار کا تقریبا 80 فیصد ہے ، 2021 کے اختتام پر216.19ارب بھارتی روپے (2.48 بلین یورو) تھا۔
کول انڈیا نے کہا کہ اس نے کوئلے کی تمام آن لائن نیلامیاں بند کر دی ہیں، سوائے ان کے جو پاور سیکٹر کے لیے ہیں۔کول انڈیا کے مطابق یہ صرف ایک عارضی اقدام ہے ، جس کا مقصد بجلی گھروں میں کوئلے کے ذخیرے کی قلت جیسی صورتِ حال پر قابو پانا اور ان کو سپلائی بڑھانا ہے۔
کوئلے کی جاری قلت کے درمیان ، وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس ہفتے کے شروع میں کوئلے اور بجلی کی وزارتوں کے انچارج کابینہ کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی روزانہ کوئلے کی پیداوار کو ایک ہفتے کے اندر94.1ملین سے 20لاکھ ٹن تک بڑھا دے گی ۔
صورتِ حال سامنے آنے کے باوجود آنے والے خدشات اورصورتحال عوام پر مبہم ہے۔ ملک کی معیشت گزشتہ مالی سال سے اب تک7.3فیصد کے تاریخی گراوٹ سے نکل رہی ہے۔لیکن اگر بجلی کی بندش صنعتی پیداوار کو متاثر کرتی ہے تو بجلی کا پیدا ہونے والا بحران ہندوستان کی معاشی بحالی کو سست کر سکتا ہے۔
حکومت اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟
حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کے ساتھ ہی بجلی کی طلب بڑھ رہی ہے۔
اگست 2021میں بجلی کی طلب اگست 2019 کی کوویڈ 19 سے پہلے کی سطح سے 17 فیصد زیادہ تھی۔ بجلی ، کوئلہ اور ریلوے کی وزارتوں کے افسران تھرمل پلانٹس کو کوئلے کی فراہمی کی نگرانی کر رہے ہیں اور کوئلے کی روزانہ ترسیل کو پاور جنریٹرز تک بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ کوئلہ کے وزیر پرلہاد جوشی نے بدھ کو ٹویٹ کیا کہ تھرمل پاور پلانٹس میں کوئلے کی ترسیل 2 ملین ٹن سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ 11 ؍اکتوبر تک روزانہ1. 87 ملین ٹن کوئلے کی ضرورت ہے۔ وزارت بجلی نے مقامی کوئلے کا استعمال کرتے ہوئے پاور جنریٹرز کو بھی اجازت دی ہے کہ وہ کوئلے کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے درآمد شدہ کوئلے کے 10 فیصد تک مرکب استعمال کریں۔ کوئلے کی بین الاقوامی قیمتیں ریکارڈ بلندیوں کے قریب ہونے کے باوجود ، حکومت کا اندازہ ہے کہ درآمد شدہ کوئلے کے 10 فیصد مرکب سے بجلی کی پیداوار کی فی یونٹ (کلو واٹ گھنٹے) قیمت میں 20-22 پیسے کا اضافہ ہوگا۔ عہدیداروں نے نوٹ کیا کہ جنریٹر پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ساتھ بجلی کی خریداری کے معاہدوں کے تحت ڈسکاؤنٹ سے جو قیمت وصول کرتے ہیں، وہ بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ یہ کمپنیاں اس وقت پاور ایکسچینج پر نمایاں زیادہ نرخوں پر بجلی خرید کر بجلی کی فراہمی میں کمی کو پورا کر رہی ہیں۔
صورتِ حال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حالات شدید سنگین ہیں، جو براہ راست ہندوستانی معیشت اور عوام پر اثر انداز ہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے فوری اور صحیح اقدامات کے کے ذریعے حالات پر قابو نا پایا گیا تو ملک بڑے پیمانے پر اندھیرے میں ڈوب سکتا ہے۔
عالمی منظر نامہ
آسام کے قتل کے بعد خلیج میں ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ
ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی بڑھتی ہوئی داستانوں کے خلاف عرب ممالک میں بے چینی دیکھی گئی۔ آسام کے درنگ ضلع میں گزشتہ ہفتے دو مسلمان مظاہرین کی ہلاکت ، بشمول ان میں سے ایک کی لاش کی بے حرمتی ، نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں، خاص طور پر خلیجی ممالک میں غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ کویتی پارلیمنٹ نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مظالم کی مذمت کی ہے۔ دوسری طرف ، عمان کے مفتی اعظم نےتمام امن پسند ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس جارحیت کو روکنے کے لیے مداخلت کریں۔ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
اگرچہ نئی دہلی میں وزارت خارجہ نے ابھی تک اس پیش رفت پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے ،لیکن قطر میں ہندوستانی سفارت خانے نے منگل کو ایک ٹویٹ کے ذریعے کہاکہ : ’’یہ سب سوشل میڈیا پر بھارت کے بارے میں جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے نفرت اور انتشار پھیلانے کی بدنیتی پر مبنی کوشش ہے۔ ہم ہر ایک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ احتیاط برتیں اور جعلی ہینڈلز، پروپیگنڈا اور جعلی ویڈیوز کا شکار نہ بنیں۔ تمام ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اتحاد اور ہم آہنگی کو برقرار رکھیں۔
متحدہ عرب امارات سے مصر تک ، سوشل میڈیا صارفین نے ہندوستان میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم اور مسلم مخالف واقعات سے متعلق تصاویر شیئر کرنا شروع کردی ہیں۔ آسام کے فوٹو گرافر کی معین الحق کی لاش پر چھلانگ لگانے کی ویڈیو اور تصاویر، سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔
خلیجی ممالک میں لوگ ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس طرح فرانسیسی مصنوعات کا پیغمبر اسلام ﷺ کے کارٹونوں پر بائیکاٹ کیا گیا تھا۔
عربی میں، ایک ٹویٹ میں، عبداللہ الامادی، جوخود کو مصنف اور کالم نگار بتاتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ’’ہمارے بھائیوں کو ہندو انتہا پسند، حکومت کے تعاون سے ستارہے ہیں۔ ‘‘انھوں نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کے ہیش ٹیگ کی حمایت کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا اثر حکومتوں پر پڑتا ہے۔
خود کو اسپیس کلب کا صدر اور مصنف بتانے والے محمد بہارت نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے، لیکن ہر ادارہ اسے نظر انداز کر رہا ہے۔ جب کہ اکثریتی طبقہ اسے جائز قرار دے رہا ہے۔
مصر سے تعلق رکھنے والے محمد اساجر نے وزیراعظم نریندر مودی کی فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے گلے ملنے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے، بائیکاٹ کے ہیش ٹیگز کو ٹویٹ کیا۔عام لوگ بھی بائیکاٹ کے ہیش ٹیگز میں شامل ہوئے اور ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔جیسا کہ انہوں نے فرانس کے معاملے میں کیا تھا۔
’سناد سبی‘ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے اپنے بھائیوں کی ہندوستان میں مدد کریں۔ انہوں نے میکرون کے ساتھ پی ایم مودی کی تصاویر اور ریڈ کراس نشانات کے ساتھ بھارتی مصنوعات کا اسٹیکر بھی شیئر کیا۔
عربی میڈیا نے بھی اس رجحان کو دیکھا ہے۔ بی بی سی عربی نے رپورٹ دی ہے کہ آسام میں مسلمانوں پر تشدد روکنے کے لیے بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے۔
الجزیرہ عربی کا کہنا ہے کہ فرانس کی طرح آسام کے مسلمانوں کی حمایت کے لیے عرب دنیا میں ’’ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ‘‘کی مہم زور پکڑ رہی ہے ۔
28 ؍ستمبر کو عمان کے عظیم مفتی شیخ احمد بن حماد الخیلی نے اپنے سرکاری ہینڈل سے عربی میں ایک پوسٹ ٹویٹ کی، جس میں بین الاقوامی مداخلت کی درخواست کی گئی ہے:
’’ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں سرکاری اداروں کے تعاون سے مسلم شہریوں کے خلاف واضح جارحیت ہے،اس لیے میں انسانیت کے نام پر تمام امن پسند ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس جارحیت کو روکنے کے لیے مداخلت کریں اور میں پوری امت مسلمہ سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں متحد رہے۔‘‘

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١