نو عمر لڑکیوں میں عشق کا مرض(آخری قسط)
نوجوانی، بغاوت کی عمر ہوتی ہے۔ ماں باپ کی جانب سے مخالفت کی شدت، بغاوت کے جذبے کو اور پختہ کرتی ہے۔ ماں باپ کے جذباتی ہیجان سے لڑکی یہ تأثر لیتی ہے کہ وہ اپنی انا یا عزت کی خاطر اس کی خواہشات کا گلا گھونٹا چاہتے ہیں۔ چنانچہ گھر میں برپا ہونے والا شور و ہنگامہ اس کے ارادے کو پختہ کرتا جاتا ہے۔
ماں باپ کو چاہیے کہ اس معاملے کو نہایت سمجھ داری اور ٹھنڈے دل سے ڈیل کریں۔ اپنے جذبات اور غم و غصے پر قابو رکھیں۔ ایک دو دن معاملے کو ٹالیں۔ جب دونوں طرف جذبات کی شدت کم ہوجائے تو ٹھنڈے ماحول میں لڑکی کو سنجیدگی سے سمجھانے کی کوشش کریں۔ بہتر ہے کہ وہ لوگ بات کریں جن سے لڑکی زیادہ بے تکلف ہو۔ لڑکی کی ماں، یا بھائی، بہن یا کوئی رشتے دار، جن سے بھی لڑکی زیادہ بے تکلفی اور قربت ہو، وہ سمجھائے۔
دوسرے مرحلے میں خاندان کے کسی بزرگ یا کسی قابلِ اعتماد فرد کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ دینی تعلیمات کی پابندی کرنے والے کسی کونسلر کی بھی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
زندگی لڑکی کی ہی ہے۔ اپنے اعمال کے لیے بھی اصلاً وہی جواب دہ ہے۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس کا اچھا برا، ٹھنڈے ماحول میں اس پر اچھی طرح واضح ہوجائے۔ اور وہ ’جذبات کے طوفان سے پرے‘ ٹھنڈے دماغ سے معاملے کے تمام پہلوؤں کو سمجھ لے۔
اگر آپ نے لڑکی کے اندر دین کے تعلق سے حساسیت پیدا کی ہے تو دین کے حوالے سے اس سے گفتگو کی جاسکتی ہے۔ اسے بتایا جاسکتا ہے کہ شوہر کے انتخاب سے متعلق اسلام کی تعلیمات کیا ہیں؟ اسے سمجھایا جاسکتا ہے کہ میاں بیوی کے رشتے کے مقاصد کیا ہیں؟ جس لڑکے کو اس نے منتخب کیا ہے، اس میں کیا خرابیاں ہیں؟ کیسے اس کے ساتھ، اس کا مستقبل محفوظ نہیں ہے؟
والدین کی اسٹریڈجی یہ ہونی چاہیے کہ ٹھنڈے اور تناؤ سے پاک ماحول میں کچھ وقت گزر جائے اور اچھے ماحول میں وقتاً فوقتاً سنجیدہ بات چیت ہو۔ ایسے جذبات کی شدت کا دورانیہ کم ہوتا ہے۔ ماں باپ سمجھ داری سے کام لیں تو چند دنوں میں لڑکی خود معقول طریقے سے سوچنے کے لائق ہوجاتی ہے اور اسے آپ کی بات سمجھ میں آنے لگتی ہے۔ اس کے بر خلاف نا سمجھ ماں باپ،اپنی ضد اور ہیجانی ماحول کے ذریعہ اس کے جذبات کو چنگاری دیتے رہتے ہیں۔ گھر میں شور شرابہ ہنگامہ ہو تو دوسرے لوگوں کو بھی معاملے کی بھنک لگ جاتی ہے۔ وہ بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں اور ماحول کو گرم رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اگر ماحول ٹھنڈا رکھنے میں آپ کامیاب ہوئے تو ان شاء اللہ چند روز میں مسئلہ حل ہوجائے گا اور لڑکی اپنی ضد پر نادم ہوکر آپ کے مشورے کو قبول کرلے گی۔
اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوسکے تو کیا کیا جائے؟
ہماری لڑکی کو نیک سیرت اور اس سے جوڑ رکھنے والا، شریف خاندان کا ایسا شوہر ملے، جس کے ساتھ اس کی زندگی خوش گوار ہو،یہ ہر ماں باپ کی آرزو ہوتی ہے۔ یہ خواہش بالکل مناسب خواہش ہے۔شریعت بھی اس کو اہمیت دیتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ سب سے زیادہ اہمیت دین کو دینی چاہیے اور اس کے ساتھ اس کا کفو یعنی ہم پلہ شوہر تلاش کرنا چاہیے۔لیکن ہمیشہ یہ آئیڈیل حاصل نہیں ہوتا۔ کبھی حالات ہم کو کمپرومائز کے لیے مجبور کرتے ہیں اور کبھی لڑکی کے جذبات بھی مجبور کرسکتے ہیں۔ ماں باپ کی سب بڑی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ لڑکی کو گناہ سے بچایا جائے۔ اگر سمجھانے بجھانے اور تمام تر کوششوں کے باوجود لڑکی کہیں اور شادی کے لیے راضی نہ ہو، دباؤ کی صورت میں اندیشہ ہو کہ وہ کوئی گناہ کر بیٹھے گی، تو بہتر ہے کہ دوسرے معاملات میں کمپرومائز کیا جائے اور نکاح کے ذریعے اس کے رشتے کو جائز و حلال رشتہ بنایا جائے۔ بے شک آپ کو اندازہ ہے کہ لڑکی کی زندگی خوشگوار نہیں ہوگی، لیکن بہر حال یہ گناہ کی زندگی سے بہتر ہے۔ آپ کا یہ گمان بھی درست ہوسکتا ہے کہ رشتہ پائیدار نہیں ہوگا۔ لیکن پائیداری کی ضمانت تو اس رشتے میں بھی نہیں ہے جو آپ پسند کریں گے۔ ناپائیدار جائز رشتہ، حرام تعلق سے بہتر ہے۔ بدنامی کا امکان بھی ہے، لیکن گناہ کی صورت میں زیادہ شدید بدنامی ہوگی۔ اس لیے معقولیت کا تقاضہ یہی ہے کہ تمام کوششیں ناکام ہوجائیں تو لڑکی کو گناہ کی دلدل میں ڈھکیلنے کے بجائے اس کی پسند کو قبول کرلیا جائے۔
لڑکی کو سمجھانے بجھانے کے ساتھ ایک مرحلے میں لڑکے ، یعنی لڑکی کے عاشق سے بھی ملاقات مفید ہوسکتی ہے۔ اس ملاقات میں اس کے اخلاق و کردار،سوچ وغیرہ کا جائزہ لینے کے ساتھ،اس کی وفاداری کا بھی اندازہ ہوگا۔ لا ابالی لڑکے،شادی کے لانگ ٹرم کمٹمنٹ کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ محض ہوس ہوتی ہے۔ مختصر وقت کے لیے وہ گرل فرینڈ بنائے رکھتے ہیں اور جب دل بھر جائے تو چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لیے شادی کی سنجیدہ بات چھیڑتے ہی ایسے رشتے ختم ہوجاتے ہیں۔ لڑکی کو بھی آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہ کتنا غیر سنجیدہ اور بے ہودہ تعلق تھا، جس کے پیچھے وہ پاگل ہوئی جارہی تھی۔
لڑکی کا عشق آپ کے علم میں آنے کے بعد اب اور زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ لڑکے سے شادی کا آپشن پر غور کیا جاسکتا ہے (اس پر ہم اوپر روشنی ڈال چکے ہیں) لیکن شادی سے پہلے یا اس کے بغیر اس سے ملاقاتوں یا روابط کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ایسے لڑکے شادی کی لانگ ٹرم کمٹمنٹ کے لیے ہی تیار نہیں ہوتے۔
ملاقاتوں و روابط کی تحدید کے معاملے میں شدید ردعمل، اکثر معاملے کو بگاڑ دیتا ہے۔ اپنی برسوں کی غلطیوں یا لاپرواہی کو آپ ایک لمحے میں درست نہیں کرسکتے۔ ٹھنڈے ماحول میں سمجھا کر اور بتدریج دباؤ بڑھاکر لڑکی کو ایسی ملاقاتوں کے روکنا چاہیے۔
ہماری آخری تجویز دعا ہے۔ ہر چھوٹےبڑے مسئلے میں ایک بندۂ مومن کے لیے حل کا طریقہ یہی ہے کہ پہلے وہ تمام تدابیر اختیار کرے، پھر اللہ سے رجوع کرے۔ ماں باپ گڑگڑاکر اللہ سے مدد طلب کریں۔ اپنی کوتاہیوں پر استغفار کریں۔ لڑکی کو بہتر راستہ دکھانے کی دعا کریں۔ ان دعاؤں میں بڑی تاثیر ہوتی ہے۔اسی طرح لڑکی کو بھی متوجہ کریں کہ وہ زندگی کے اس نہایت اہم معاملے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اللہ سے مدد مانگے۔ درست فیصلے تک پہنچنے کی توفیق و صلاحیت طلب کرے۔ استخارہ کرے۔ جو دل اللہ کی طرف متوجہ و مائل ہو،اس پر شیطانی جذبات کے اثرات دھیرے دھیرے ختم ہوجاتے ہیں۔
نوجوانی، بغاوت کی عمر ہوتی ہے۔ ماں باپ کی جانب سے مخالفت کی شدت، بغاوت کے جذبے کو اور پختہ کرتی ہے۔ ماں باپ کے جذباتی ہیجان سے لڑکی یہ تأثر لیتی ہے کہ وہ اپنی انا یا عزت کی خاطر اس کی خواہشات کا گلا گھونٹا چاہتے ہیں۔ چنانچہ گھر میں برپا ہونے والا شور و ہنگامہ اس کے ارادے کو پختہ کرتا جاتا ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

  1. MahmoodFALAHI

    Good article

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١