نظم

ہمارا تو ہونا یہی ہے کہ خود کو تمہارے جلو سے الگ دیکھتے ہیں
جوازِ ہنر ہے سبھی اپنا چلنا زمانے کی رو سے الگ دیکھتے ہیں

بہت ہےہمیں رفتگاں کی روایت کے نقشِ قدم پر قدم رکھ کے چلنا
یہ آئینِ فن ہے سو ہم اپنی رہ عہد کے طرزِ نو سے الگ دیکھتے ہیں

جہاں کے سبھی کو ر و کر جمع ہو کر الگ دیکھنے پر بہ حجت مصر تھے
جتن کر رہے تھے کہ اب زندگی آب و دانے کی لو سے الگ دیکھتے ہیں

عباد اپنا مشرب نہیں ہے عبث اور لوگوں کی تکذیب و تنقیص کرنا
مگر دیکھتے ہیں بیانات کو متن کے گو مگو سے الگ دیکھتے ہیں

1 Comment

  1. نازیہ بیگم

    جہاں بھیڑ گناہوں میں ملوث نظر آئے اس بھیڑ سے الگ رہنا بہتر ہے چاہےلوگ کتنا ہی ناراض کیوں نہ ہو جائیں، اکیلے نہیں ہوجائیں گے، اللہ تعالٰی تنہا نہیں چھوڑےگا، اور جہاں لگے کہ وہ گروہ اللہ کی رضامندی کے کاموں میں مصروف ہے، اپنے آپ کو بھی اس کا حصہ بنا لینا چاہیئے۔

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١