پیغامِ عمل
ابو ! میں آپ کے سائے میں چل رہا ہوں۔ دھیان سے، سامنے آنے والی مصیبت کو میں نہیں جانتا ۔اگر آپ گریں گے تو میں بھی گرجاؤں گا۔ اس لیے آپ احتیاط سے قدم بڑھائیے۔
میرے پیارے ابا! میں آپ کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، تو میں اس سے سبق سیکھتا ہوں ۔ آپ کی انسانیت نوازی اور لب و لہجے میں بھی میرے لیے سبق ہے ۔ آپ کا عدل و انصاف ، حلیم الطبعی اور وقار و شرافت میرے لیے راہِ عمل ہے ۔میں آخری منزل تک آپ کے نقش قدم پر ہوں ۔
ہر بیٹا دانستہ و نا دانستہ اپنے والد کے نقشِ قدم پرچلتا ہے ۔والد سوشل ہیں تو بیٹا بھی سوشل ہوتا ہے ۔والد کی ذات خوفِ خدا سے مزین ہو تو بیٹا بھی قدم قدم پر اس احساس سے مزین ملے گا ۔
خدا کا خوف زندگی کے ہر شعبے میں ہونا چاہیے۔ عبادات میں،معاملات میں، حلال کمائی کمانے میں، بہنوں کو قرآن کے مطابق وراثت تقسیم کرنے میں، زکوٰۃ کی ادائیگی میں ، رشتہ داروں کےساتھ صلہ رحمی میں ، خدمت خلق میں، نیکی کے کاموں میں سبقت لے جانے میں، عائلی زندگی میں، لوگوں کے معاملات کا تصفیہ کرانے میں اور انسانیت کی بہی خواہی میں ۔
بیٹے نے کہا:ابا جان !
جس راہ پر آپ مجھے چھوڑیں گے، قیامت کے دن اسی راہ پر میں آپ سے ملوں گا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١