ریشمہ نیلوفر ناہا دنیا کی پہلی ریور پائلٹ خاتون
ریشمہ نیلوفر ناہا ایک ایسی شخصیت کا نام ہے، جسے سمندر کی تیز لہریں بھی جہاز پر سوار ہونے سے نہیں روک پائیں۔ ریشمہ کے حوصلے اور عزم نے اسے دنیا کی پہلی خاتون ریور پائلٹ بنا دیا ہے۔
چنئی سے تعلق رکھنے والی ریشمہ نے اپنی اسکولی تعلیم مکمل کی اور چنئی سے اکیڈمی آف میری ٹائم ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (AMET)، سمندری ٹیکنالوجی (marine technology) میں پیشہ ورانہ کورس کیا۔ کورس مکمل کرنے کے بعد وہ مسافر جہازوں اور کنٹینر جہازوں، دونوں پر دنیا بھر میں سفر کرتی رہیں۔انھوں نے تقریبا ساڑھے چھ سال تکKolkata Port Trustمیں ٹریننگ حاصل کی اور اسی سال 2018 میں اسی بندرگاہ پر مستقل بحری پائلٹ کے طور پر تعینات کر دیا گیا۔
بحیثیت ریور پائلٹ انھوں نے کہا:
’’میرین پائلٹ(marine pilot) کا کردار بندرگاہ کے اندر اور باہر بحری جہاز کی بحفاظت رہنمائی کرنا ہے۔ اس ذمہ داری کے کام کو کرنے کے لیے زبردست جسمانی اور ذہنی طاقت درکار ہوتی ہے۔ کوئی کارنامہ سرانجام دینا آسان نہیں ہوتا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا :’’لوگوں کو عورت سے توقع نہیں ہوتی کہ وہ پائلٹ بن پائے گی۔ لوگ سوچتے تھے کہ میں چند مہینوں میں دنیا سے انتقال کر جاؤںگی، لیکن میں اب بھی یہاں ہوں ، اب بھی اپنا کام کر رہی ہوں۔‘‘
انھوں نے اعتراف کیا کہ بطور ریور پائلٹ ان کا سفر آسان نہیں تھا ۔ خاص طور پر جب آپ کوئی کارنامہ انجام دینے والے ’پہلے‘ ہو۔ انہوں نے اپنی نوکری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا: ’’ہم ایک مخصوص بندرگاہ سے منسلک مقامی ماہر جہاز ران ہیں۔ ہم جہاز کو اتنی گہرائی تک جانتے ہیں، جتنا کہ ہم اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو جانتے ہیں۔ ہم بندرگاہ کے اندرون اور باہر کو جانتے ہیں تاکہ جہاز آسانی سے سمندر میں داخل کیا جائے اور باہر نکل سکیں۔ انھوں نے مزید وضاحت کی کہ:’’جہاز کا کپتان ہر بندرگاہ کا ماہر نہیں ہوسکتا ، یہی وجہ ہے کہ میرین پائلٹ کا کام ایک اہم ذمہ داری بن جاتا ہے۔‘‘
دریا کے پائلٹ کو درپیش کچھ چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: ’’دریا بہت تنگ ہوتے ہیں اور اس میں کئی ریت کے بار اور موڑ ہوتے ہیں اور کرنٹ بھی جو مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ آپ کو ذہنی طور پر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے اور فوری ایکشن لینے کے قابل ہونا چاہیے۔ کیوں کہ جہاز چلاتے وقت ہر سیکنڈ اہم ہے اور تاخیر سے بچنے کے لیے جو تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ ‘‘
اچھی جسمانی تندرستی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ، انہوں نے کہا:’’ ہم ایک چھوٹے پائلٹ لانچر یا کشتی کے پائلٹ کے ذریعے جہاز پر سوار ہوتے ہیں ، پھر ہم ایک عمودی رسی کی سیڑھی کا استعمال کرکے جہاز پر اوپر اور نیچے چڑھنے میں کرتے ہیں ، جس کے لیے تندرستی اور اچھی صحت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
بہت سے لوگوں کا دل جیتنے والی ، ناری شکتی پرسکار وصول کرنے والی ریشمہ اپنے فرائض کو پوری لگن کے ساتھ انجام دے رہی ہیں ۔ اپنوں سے دور رہنا ، سمندر میں گھومنا اور دیر تک کام کرنے کے اوقات نے انھیں اپنے کام کو صحیح طریقے سے انجام دینے کے لیے مضبوط اور حوصلہ مند بنا دیا ہے اور بہت سے لوگوں کا رجحان اس کام کو کرنے کی جانب بڑھایا ہے ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١