سلیقہ شعاری خاتون کا زیور

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو سکون گھر میں ملتا ہے، وہ کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں بھی نصیب نہیں ہوتا۔ وقتی طور پر ہم ہوٹل یا پکنک اسپاٹ پرجاکر سکون محسوس کرتے ہیں، لیکن جلد ہی ہم اکتاجاتے ہیں اور گھر آنے پر جو اطمینان و سکون ہمیں نصیب ہوتا ہے، اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو اپنے گھروں میں سکون محسوس نہیں کرتے اور وقت گزاری کے لیے گھر سے باہر رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً جس گھر کے مکیں ایک دوسرے سے نالاں ہوتے ہیں۔شکایتیں اور اعتراضات ہوں تو انسان بے چینی محسوس کرتا ہے۔ اس کی اہم وجہ خواہشات کا حد سے بڑھ جانا ہے،جو بجٹ سے زیادہ رقم کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔ بجٹ کی کمی کی وجہ سے بعض لوگ اپنی خواہشات کو پورا نہیں کر پاتے اور جھنجلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ چیزجھگڑے کا باعث بنتی ہے ۔مزاج کا فرق اور سوچ اور رویوں کا اختلاف، غصہ، بے صبری اور ان جیسےبہت سے عوامل ہیں جو گھر کے سکون کو برباد کردیتے ہیں ۔
گھر میں کیسےسکون قائم کیا جائے؟
۱۔ صاف ستھرا گھر:صاف ستھرے گھر میں میں دل سکون محسوس کرتا ہے۔ ضرورت کی چیزیں گھر میں موجود ہوں اورہر شئے اپنی جگہ پر ہو۔ جب ضرورت پڑے تو وہ آسانی سے مل جائیں، جیسےاشیاء خوردنی کے علاوہ فسٹ ایڈ بکس،موم بتی، ماچس،ربر رومال، پینس وغیرہ۔
۲۔بجٹ کے حساب سے خریداری:مشہور قول ہے کہ’’ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا چاہیے‘‘۔اس سے معلوم ہوا کہ انسان کواپنے ذرائع آمدنی کے حساب سے گھر کا بجٹ بنا نا چاہیے۔غیر ضروری اشیاء کی خریداری سے بچنا چاہیے۔ضرورت سے زیادہ کراکری، برتن، کپڑے، بچوں کے کھلونے اور ڈیکوریشن کے سامان خریدنے سے گریز کرنا چاہیے۔
۳۔ایک دوسرے کا احترام:اہلِ خانہ کا ایک دوسرے سے مضبوط تعلق،پاس ولحاظ، دلجوئی اور ایک دوسرے کےکاموں میں مدد وغیرہ تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔
۴۔تعلق باللہ :امن کا اصل منبع ایمان ہے، جو دلوں میں انشراح وانبساط کی کیفیت پیدا کرتا ہے اور دلوں کے سکون کا باعث ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’بے شک دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے۔(المائدۃ:02)
۵۔سلام کو عام کرنا:اللہ کے رسولﷺنے فرمایا:
’’جب تم ایک دوسرے سے ملو تو سلام کیا کرو۔‘‘
سلام کا مطلب ہی سلامتی کے ہے۔ یعنی امن وسلامتی کے لیے دعا کی جائے ایک دوسرے کے لیے اس سے بہتر کیا تحفہ ہو سکتا ہے۔یہ اسلام کے امن پسند ہونے کی دلیل ہے۔
۶۔اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا:اسلام نے ایک دوسرے کے حقوق و فرائض متعین کیے ہیں،اسے پورا کریں۔ جان مال عزت آبرو کی حفاظت کریں۔اللہ کے رسول ؐنے فرمایا:
’’مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
یہ چند غور طلب باتیں تھیں، جن پر عمل کرنے سے یقیناً ہم اپنے گھروں کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔

2 Comments

  1. Sumayya Rahmatullah bagwan

    Acha hai

    Reply
  2. Sumayya Rahmatullah bagwan

    Masha Allah absolutely correct hai

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١