سہیل بشیر کار (بارہمولا، کشمیر)
پرزینٹیشن بہت ہی اعلیٰ ہے۔ مواد تو بہترین ہے ہی، لیکن عملی بھی ماہِ اکتوبر کا شمارہ بچیوں کا عالمی دن (حقوق، تحفظ اور ترقی) ہے۔ اس شمارے کی خاص بات یہ ہے کہ لکھنے والوں کی اکثریت خواتین کی ہے۔ اس شمارے میں، میگزین کی ایڈیٹر خان مبشرہ فردوس لکھتی ہیں:
’’بیماری کے بعد اس سے بچاؤ کے لیے دوا کھانا تو لازمی ہے، تاہم تحفظ کے اقدام سے پہلے بھی ایک مرحلہ ہے اور وہ ہے احتیاط کا۔ احتیاطی تدابیر وہ لوگ کرتے ہیں جو دور رس نگاہ رکھتے ہیں، جنہیں نتائج کا اندازہ وقت سے بہت پہلے ہوجاتا ہے۔ پینڈمک کے اس دور میں ہر شخص دل سے اس بات کا قائل ہے کہ احتیاطی تدبیر، علاج سے بہتر ہے۔‘‘
سمیہ عنایت اللہ سبحانی نے درس قرآن کے تحت سورہ النساء آیت 4 کے تحت ‘مہر کی وضاحت کی ہے، وہ لکھتی ہیں :’’ عورتوں کو ان کے مہر دے دو۔ ’ان کے مہر‘ سے مراد ہے کہ یہ ان کی قیمت نہیں کہ جب دل چاہے دے دینا اور یہ بھی نہیں کہا کہ دے دیا تو اچھا ہوگا،بلکہ فرمایا ہے کہ’ دے دو‘۔ پھر مزید وضاحت ہے کہ ’نِحْلَۃً‘،یعنی دل کی آمادگی، خوشی اور محبت سے دو اور اس میں زبردستی یا مجبوری والی کیفیت نہ ہو۔ عموماً سماج میں یہ مزاج عام ہے کہ مہر کی قیمت کا کئی گنا جہیز لے کر بھی لوگ مہر ادانہیں کرتے۔‘‘
خان سعدیہ نے مسلم شریف کی حدیث:’جس شخص نے جمع خوری کی، وہ خطا کار ہے‘ کے تحت بہترین وضاحت کی ہے،وہ لکھتی ہیں:’’ اسلام نے معاشی حقوق کے جو ضابطے بنائے ہیں، ان میں ذخیرہ اندوزی ممنوع ہے، چاہے تاجر کرے یا صنعت کار۔ شریعت نے عوام الناس کو نقصان پہنچا کر اشیائے ضرورت کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرنے سے منع کیا ہے۔ فقہ کی اصطلاح میں ا سے ’احتکار‘ کہا جاتا ہے۔‘‘
شائستہ رفعت نے ’بچیوں کا عالمی دن حقوق۔ تحفّظ اور ترقی‘ پر بہترین مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں ہر پہلو کا جائزہ لیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں:
’’ صنفی امتیازات کا شکار ، تعلیم اور مساوی مواقع سے محروم ، ان چاہی اور بوجھ سمجھی جانے والی یہ لڑکیاں جو غیر محفوظ ماحول میں ڈری سہمی ہوئی ہیں، یہ ہمارے خوابوں کی تعبیر کیسے دے سکیں گی۔ ایک دن بیٹی کے نام کر کے کیا ہم ان کو تحفظ دے پائیں گے؟ کیا کچھ نعرے بلندکر کے ہم ان کے حقوق کی پاسبانی کا فریضہ انجام دے سکیں گے؟ سماج کی ذہنیت ایک ڈے منانے سے نہیں بدلی جاسکتی۔‘‘
حال ہی میں ہندوستان کی مشہور یونیورسٹی جے این یو کے نصاب میں اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی اس حوالے سے’انڈیا ٹو مارو‘ کے ایڈیٹر سعید خلیق نے ایک مضمون لکھا ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’جواہر لال نہرو یونیورسٹی،وہ واحد یونیورسٹی ہے، جس نے اپنے تعلیمی کورس میں اسلام کے نام کو دہشت گردی سے باضابطہ جوڑ دیا ہے۔ یونیورسٹی میں ڈیزائن کیے گئے دہشت گردی کے خلاف تعلیمی کورس کے ذریعے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کا کام کیا ہے ، جسے یونیورسٹی کی اکیڈمک اور ایگزیکٹو کونسل نے منظور کیا ہے۔‘‘
گوشہ ٔمطالعہ میں رضوانہ بیگم نے مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی کی مشہور کتاب ’اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات‘ کا جامع اور پر مغز تبصرہ کیا ہے۔ زارا زبیر نے دو خواتین کی جدوجہد کی کہانی بیان کی ہے۔ ان دو خواتین میں نغمہ محمد ملک ہیں، جو’آئی ایف ایس‘ بنیں اور اب پولینڈ کی سفیر ہیں۔اور بینائی سے محروم بریل کی کہانی ہے جس نے ہمت نہیں ہاری۔
ثمرین یوسف نے عورتوں کا تحفظ کے تحت چونکا دینے والے اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ موصوفہ لکھتی ہے:’’بھارت میں خواتین کےخلاف عصمت دری چوتھا عام جرم ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں عصمت دری کے 32033 مقدمات درج ہوئے ہیں ، جن میں اوسطاً 88کیس روزانہ درج کیے گئے۔‘‘ وہ مشورہ دیتی ہے:مظلوم بچیاں بدل رہی ہیں، مجرموں کے منحوس چہرے بدل رہے ہیں، لیکن حادثات سب سے ساتھ یکساں ہیں۔ اسی لیے اپنے گھر، محلے، گاؤں اور شہر کی عورتوں کی عزت کے ساتھ حفاظت کیجیے۔ ان کی ایک باغیچے کے خوبصورت پھول کی طرح نگہبانی کیجیے اور انھیں اس سیاہ دنیا کے حادثات سے بچائیے، کیوں کہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔‘‘
خواتین کی معاشرتی الجھنیں اور رہنمائی کے تحت ’کیسے بنے ساس بہو میں تال میل؟‘ کا جواب ویڈیو میں نزہت رضوی دیتی ہے۔ میگزین میں نزہہ ندیم صاحبہ نے سماجی رابطے کی سائٹ’ ٹوئٹر کیا ہے؟‘ پر اچھی جان کاری دی ہے۔
والدین کے حوالے سے اگرچہ بہت سی ذمہ داریاں ہمارے دین میں بتائی گئ ہیں، لیکن عملاً ہم نے والدین کو مشین سمجھا ہے۔ اس سلسلے جاویدہ بیگم ورنگلی لکھتی ہیں: ’’وہ والدہ محترمہ، جس کو زندگی میں ضروریات پوری کرنے کی مشین سے زیادہ اہمیت نہ دی گئی ہو، اس مشین کو دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعداس قدر اہمیت کیوں دی جا رہی ہے؟ یہ ایک سوال ہے، جو مسلسل سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ غور و فکر کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ ماں باپ کے چلے جانے کے بعد بھی اس کی ذات سے فائدہ اٹھانا ہے۔‘‘
ہمارے معاشرے میں اکثر مخلوط نظام تعلیم ہے۔ ایسے میں ایک چیز پائی گئی ہے، وہ ہے نوعمرلڑکیوں میں عشق کا مرض۔ اس مضمون کی دوسری قسط میں ڈاکٹر نازنین سعادت رہنمائی کرتی ہوئی لکھتی ہیں :’’بعض والدین کو بہت اعتماد ہوتا ہے کہ ان کی بیٹی کوئی غلط کام نہیں کرسکتی۔ یہ اعتماد ضرور ہونا چاہیے،لیکن اس اعتماد کی وجہ سے کھلی چھوٹ دے دینا بھی نہایت غلط بات ہے۔ شیطان بڑے سے بڑے پارسا کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اختلاط مردوزن سے متعلق اسلامی احکام سب کے لیے ہیں۔ تربیت یافتہ پارساؤں کے لیے بھی ان احکام کی پابندی ضروری ہے۔‘‘
عرشیہ شکیل شخصیت کے بناؤ و بگاڑ پر صحبت کے اثرات کے تحت لکھتی ہیں: ’’اچھی غذا،اچھی صحت کی ضامن ہے،اسی طرح اچھے دوست اور اچھی کتابیں، اچھی شخصیت کی ضامن ہو تی ہیں ۔اچھے دوست کی مثال اس عطر فروش کی سی ہے، جس کے پاس بیٹھنے سے خوشبو آتی ہے۔ برےدوست کی مثال اس لوہار کی طرح ہے، جس کے پاس بیٹھنے سے کپڑے کالے ہوتے ہیں۔‘‘
زہرہ فاطمہ تعلیم و روز گار کے تحت فائیورFiverrگھر بیٹھے کمانے کا ذریعہ کا تعارف کراتی ہوئی لکھتی ہیں:’’ اس ویب سائٹ کے ذریعے آپ ایک دن میں جتنا چاہیں کام کرسکتے ہیں۔ یہاں کام کرنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ، اگر آپ بہت سارے کاموں میں ماہر ہیں، تو آپ ان تمام کاموں کو یہاں انجام دے کر اچھی کمائی کرسکتے ہیں۔‘‘
سیاسی منظر نامہ کے تحت شیخ فرحین نے اقوام متحدہ کے جنرل اجلاس اور آسام کی موجودہ صورتحال پر اچھی جانکاری فراہم کی ہے۔
عالم اسلام کے قرآنی محقق ڈاکٹر محی الدین غازی نے قرآنی آیات اور عورت کا رتبہ پر تحقیقی مضمون لکھ کر بہت سی غلط فہمیوں کو دور کیا ہے۔ اس شمارے میں مذکورہ مضمون کی پہلی قسط ہے، لکھتے ہیں:
’’قرآن مجید میں کہیں بھی مرد کو عورت سے افضل یا عورت کو مرد سے کم تر قرار نہیں دیا گیا ہے۔ لیکن غیر اسلامی فلسفوں اور رواجوں سے متاثر ہوکر مرد کے افضل اور عورت کے کم تر ہونے کا تصور مسلم ذہنوں اور سماجوں میں بھی در آیا۔ چناں چہ قرآن مجید کی بعض آیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے کچھ مفسرین نے اس تصور کو قرآن کی آیتوں سے جوڑ کر پیش کیا اور یہ تاثر دیا کہ قرآن مجید بھی اس کی تائید کرتا ہے اور اسے جواز کی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔‘‘
رسالے میں ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ مولانا رضی الاسلام ندوی صاحب فقہ میں بہترین رہنمائی کر رہے ہیں۔ ان کے جوابات سے کوئی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ سماج کے اکثر مکتبۂ فکر ان سے رابطہ کرتے رہتے ہیں۔ ھادیہ کے قارئین کے لیے وہ مسلسل لکھتے ہیں۔ اس بار بھی خواتین کے حوالے سے دو اہم مسائل کا مفصل جواب دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بولتی تصویریں ، شاعری و ادب کے حوالے سے بھی مضامین ہیں۔ مزیدبرآں بہت سے مضامین کا آڈیو اور ویڈیو بھی بنایا گیا ہے۔ اگر کسی کو مضامین پڑھنے کا موقع نہ ملے تو وہ چلتے چلتے یا کام کرتے کرتے بھی مضامین سن سکتا ہے۔ یہ میگزین ’بچیوں کا عالمی دن‘پر بہترین تحفہ ہے۔
وعلیکم السلام
آپ کا مراسلہ موصول ہوا۔ ھادیہ کو اتنے انہماک سے پڑھنے اور طویل تبصرے کے لیے ھادیہ ٹیم ممنون ہے ۔امید واثق ہے کہ آپ اپنے دیگر احباب کو بھی ھادیہ سے متعارف کرارہے ہوں گے ۔آپ کی ہمت افزائی ہی ہمارا تعاون ہے ۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
ایڈیٹر ھادیہ ای۔میگزین

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١