زاویہء نظر بدلو تصویر بدلے گی
اے ایمان والو! مرد دوسرے مرد کا مذاق نہ اڑائیں، ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ،ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔[سورہ الحجرات :11]
اس تصویر سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ کوئی مرد اور کوئی عورت کسی کو اپنے سے حقیر نہ سمجھے،ہوسکتا ہے کسی فرد کا ظاہراً تو گناہ ِصغیرہ کا مرتکب ہو یا نوافل وسنت کا پابند نہ ہو،لیکن اللہ کی نظر میں وہ معزز ہو۔ آپؐ نے فرمایا:’’گناہ سے نفرت کرو،گناہ گار سے نہیں۔‘‘
دوسری طرف وہ شخص جو بظاہر تو حکم خداوندی کا پابند ہواوردنیا کی نظر میں اس کے اعمال خوش نما ہوں، جیسےشکل ( ۱) میں بتایا گیا ہے۔
مگر اللہ کی بارگاہ میں اس کا کوئی عمل مقبولیت کی حیثیت نہ رکھتا ہو۔کیا ہمارے اعمال اللہ کی بارگاہ میں بھی اتنے ہی خوبصورت ہیں جتنے کے دنیا والوں کی نظر میں ہیں؟یا وہ ضعیف، کمزور اور بد نما ہیں۔
جیسے شکل (2)میں بتایا گیا ہے۔جس کی اللہ کو کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
جس عمل پر ہم لوگوں سے تعریف قبول کرتے ہیں، چاہے وہ فیشن کی کوئی چیز اختیار کرنے پر ہو یا مہنگی اور برانڈیڈ چیزیں خریدنے پر، (جس کا آج فیشن چل رہا ہے) کیا اللہ کی بارگاہ میں بھی وہ عمل اتنا ہی محبوب ہے؟یا موجبِ ہلاکت ؟ایک لمحہ رک کر غور کرتے ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١