ذ ہنی صحت اور اسلام
ذہنی سے مراد ہماری جزباتی ، نفسیاتی اور سماجی صحت ہے۔ ہماری ذہنی صحت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ہم کس انداز میں سوچتے ہیں؟ کیا محسوس کرتے ہیں ؟اور کیسے عمل کرتے ہیں؟ زندگی میں پیش آنے والے چیلنجز اور تناؤ کو کیسے سنبھالنا ہے، نیز کیا اور کیسے انتخاب کرنا ہے، یہ طے کرنے میں ہماری ذہنی صحت کا اہم کردار ہوتا ہے۔
ذہنی صحت کے مسائل بنیادی طور پر تین وجہ سے ہوتے ہیں:
1۔ بایولوجیکل وجوہات (جینیاتی وجوہات)
2۔ تجرباتِ زندگی (حادثے وغیرہ)
3۔ خاندان میں ذہنی صحت کے مسائل کی تاریخ
ان ذہنی مسائل کی وجہ سےانسان کی سوچ ، مزاج اور رویہ، سب کچھ متاثر ہو جا تا ہے۔اس لیے جس طرح ہم اپنی جسمانی صحت کا خیال رکھتے ہیں، اسی طرح ذہنی صحت پر توجہ دینا اور اس کی تندرستی کے لیے کاوش کرنا ضروری ہے۔
دین اسلام چونکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس لیے اسلام نے انسانی زندگی کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا، بلکہ ایسے مفید اور قیمتی اصول دیے، جس کو اپنا کر فرد کے مکمل ارتقاء اوراس کی بہترین ذہنی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسلام – امید و یقین کا سہارا :
ناامیدی اور مایوسی انسان کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ ڈپریشن کے مسائل سے دوچار افراد اپنے اطراف پھیلے مایوس اندھیروں میں امید کی کوئی کرن نہیں پاتے۔ لیکن اسلام نے اس کے سدباب کے لیے اپنے ماننے والوں کے لیے یہ لازم کردیا ہے کہ ہر حال میں خدائے تعالیٰ پر توکل اور ایمان مضبوط رہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:
’’ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔‘‘ (سورۂ یوسف۸:۷)
اس طرح اللہ اپنے بندوں کی رہنمائی کرتا ہے کہ ہمیشہ پر امید رہیں۔ اگر چہ آپ کا ماضی گناہوں کی تاریکی میں ہی گزرا ہو ، توبہ کا راستہ آپ کے لیے کھلا ہے۔ چاہے آپ کی زندگی میں کتنی ہی بڑی مشکلات کیوں نہ آئیں، اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔
ڈپریشن کی بڑی وجوہات زندگی میں پیش آنے والے منفی واقعات و حادثات ہیں۔ اسلام ان حالات سے نمٹنے کے لیے انسان کی رہ نمائی کرتا ہے، جو ڈپریشن کی روک تھام اور علاج دونوں میں بہت مددگار ہے۔اسلام کہتا ہے کہ منفی جزبات کا مقابلہ مثبت خیالات اور اعمال سے کریں ۔
’’تو ، بے شک ، ہر مشکل کے ساتھ ، راحت ہے۔بے شک ، ہر مشکل کے ساتھ راحت ہے۔‘‘ (الشرح5-6)
خدمت خلق اور مدد خدا :
نفسیات کے ماہرین اس بات کے قائل ہیں کہ دوسروں کی مدد کرنے سے سچی خوشی و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اسلام میں خدمت خلق کا نظریہ بھی یہی ہے۔ حدیث نبوی ؐ ہے :
’’جو شخص کسی مومن کو دنیا کی تکلیف دہ پریشانیوں سے نجات دلائے گا، اللہ اسے آخرت کی مشکلات سے بچائے گا۔ جو شخص کسی مشکل حالت میں اس کی حالت کو دور کرے، جو اس کا قرض ادا نہیں کر سکتا، اللہ اس کی دنیا اور آخرت دونوں میں آسانی کر دے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کے عیب چھپائے گا ، اللہ اس کے عیب دنیا اور آخرت میں چھپائے گا۔ (مسلم)
صالح اجتماعیت سے جڑنا :

  مثبت اور نیک صحبت بھی انسان کی ذہنی و سماجی صحت کی آبیاری کا کام کرتی ہے۔ آپ اچھے ساتھیوں کی صحبت میں رہ کر ایسے کام کر گزرتے ہیں، جو نہ صرف سماج کے لیے مفید ہوتے ہیں بلکہ خود آپ کی ذات کے لیے سکون و اطمینان کی تازگی لاتے ہیں۔
مثبت ذہنی صحت کو برقرار ر کھنے کے لیے ہمارا جسمانی طور پر متحرک رہنا بھی بہت اہم ہے۔ روزانہ کی ہلکی پھلکی ورزش کو اپنے معمول میں ضرور شامل کریں۔ یہ خاص طور پر ذہنی تناؤ کو دور کرنے میں بہت معاون ثابت ہو تی ہے۔ ساتھ ہی بھرپور نیند لینا بھی تناؤ سے بچنے یا نمٹنے میں کارگر ہے۔ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر آپ کو ضرورت ہو تو پیشہ ورانہ مدد ضرور حاصل کریں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا :
’’ طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔ جب کہ خیر دونوں میں ( موجود ) ہے ۔ جس چیز سے تمہیں ( حقیقی )نفع پہنچے، اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو( مایوس ہو کر نہ بیٹھ) جاؤ ۔
اگر تمہیں کوئی ( نقصان ) پہنچے تو یہ نہ کہو :
کاش! میں ( اس طرح ) کرتا تو ایسا ایسا ہوتا ،
بلکہ یہ کہو :
( یہ ) اللہ کی تقدیر ہے ، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔
اس لیے کہ ( حشرت کرتے ہوئے ) کاش (کہنا ) شیطان کے عمل
( کے دروازے ) کو کھول دیتا ہے ۔‘‘
مقصدِ حیات کا واضح علم ہونا بھی ذہن کو منتشر ہونے سے بچاتا ہے۔ ذہنی صحت متاثرین کا اکثر یہ کہنا ہوتا ہے کہ انہیں ان کی زندگی بے مقصد لگتی ہے۔انھیں ہر صبح بستر سے نکلنے میں ہچکچاہٹ ہوتی ہے، کیوں کہ ان کی نزدیک اس دن کا کوئی مقصد ہی نہیں ہوتا۔ ایسے افراد یوں اپنے روز وہ شب گزارتے ہیں گویا بس زندگی سے بھاگنا چاہتے ہیں۔
حسن البنا شہیدؒ کے یہ الفاظ ہمارے لیے ایک تحریک ہیں اور مشعل راہ کا کام کرتے ہیں: ’’ہم میں سے ہر ایک کو ایک مقصد کے لیے جینا ہے۔ ہر وقت اسی کی فکر کرنی چاہیے اور صرف اسی کے خواب دیکھنا چاہیے۔ اپنی آرزؤں کو بلند رکھیے اور چیز کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ کامیابی کا آغاز انسان کے اندر سے ہوتا ہے۔ اس لیے ہمارے سامنے ایسا واضح نصب العین ہونا چاہیے، جس کی خاطر ہر صبح کا آغاز کیا جا سکے ۔
جذبات کی ہیجان انگیزیوں کو عقل کی لگام دیےرکھو اور عقل کی خاموش چنگاریوں کو جذبات کی آگ سےبھڑکاؤ۔ تخیل کو حقیقت کا پابند بناؤ اور تابناک تخیل کی روشنی میں دیکھو۔ کسی ایک سمت میں اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری سمت سے بالکل غافل ہو جاؤ۔ قوانین فطرت سے ٹکراؤ نہیں ،انھیں مغلوب کرلو۔ان سے فائدہ اٹھاؤ اور ان کے بہاؤ کی سمت کو بدل دواور ہر مشکل اور پریشانی کے باوجود اس ربانی فتح و نصرت کی امید رکھو جو تم سے زیادہ دور نہیں۔ حق کے راستے میں فنا ہونا عین بقاہے۔‘‘                 ( حسن البنا شہید)

ناامیدی اور مایوسی انسان کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ ڈپریشن کے مسائل سے دوچار افراد اپنے اطراف پھیلے مایوس اندھیروں میں امید کی کوئی کرن نہیں پاتے۔ لیکن اسلام نے اس کے سدباب کے لیے اپنے ماننے والوں کے لیے یہ لازم کردیا ہےکہ ہر حال میں خدائے تعالیٰ پر توکل اور ایمان مضبوط رہے۔

1 Comment

  1. آصف خانasifkhan

    عمدہ تحریر ہے۔

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١