ماحولیات کا فساد اور انسان ذمہ دار
زمرہ : ادراک

موسم کی تبدیلی ، قحط سالی ، ماحول کی آلودگی ، آلودگی کے سبب ہونے والی بیماریاں ، عالمی سطح کے مسائل ہیں۔ انسان کائنات میں تعیشات کی خواہشات لیے مادی دولت کے جمع کرنے کی ہوس میں اس قدر غلطاں ہے کہ اس نے پورے کائنات کے نظام کو درہم برہم کردیا ۔تباہی ،زوال اور بربادی انسان کے غیر متوازن رویےکی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ، اسی لیے قرآن نے صاف الفاظ میں کہاہے:
ظہر الفساد فی البر وبحر بما کسبت ایدی الناس
(خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا لوگوں کی اپنے ہاتھوں کی کمائی سے۔)
ایجادات کا تعلق انسان کی زندگی کو سہل بنانے سے ہےاور مادی وسائل پر کنٹرول بھی انسان نے اپنی زندگی کو سہل بنانے کے لیے حاصل کیا ،لیکن انسان نے ایجادات اور آلات تعیشات کو ضرورت سے زیادہ بنا کر کائنات کے توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ انسان نے پیسہ کمانے کی ہوس میں وسائل قدرت کو اتنا بے دریغ استعمال کرنا شروع کیا کہ انسانوں کی زندگی گزارنے کی زمین عذاب بن کر رہ گئی ۔موسموں کی تبدیلی ، بے وقت بارشیں، ایسڈ رین اورسورج کی حد سے زیادہ تمازت کی اصل وجہ انسانوں کا بلڈنگوں کا اگایا ہو ا جنگل ، درختوں کی کٹائی ، انڈسٹریز سے نکلنے والا دھواں اور فاضل مادےہیں،جو زمین کو بنجر بنانے کے لیےکافی ہیں ۔ گرمی سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے اے سی ، ریفریجریٹر سے نکلنے والی سی ایف سی ، کلورو فلورو کاربن اور گرین ہاوس افیکٹ کی وجہ سے بھی ہم ہی نے اپنےہاتھوں سے اوزون پرت کو متا ثر کیا ہے ۔ ہماری ماحولیات سے عدم توجہی اور قدرتی وسائل کے ساتھ عدم انصاف نے ہمارے اپنے استعمال کی ہر چیز کوآلودہ کردیا۔
ہوا کی آلودگی اور انسانی رویہ
خراب ہوا کی کیفیت صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور دل کی بیماری کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔فیکٹریز میں بڑے پیمانے پر گیس ، تیل اور کوئلہ ، گاڑیوں سے نکلنے والا آلودگی کا اخراج، تعمیراتی سرگرمیاں ، زرعی سرگرمیاں ، فضلے کو ڈسپوز کرنے والی سرگرمیاں ، موسمیاتی تبدیلی،یوٹروفیکیشن (پودے کی ضرورت سے زیادہ نشوونما) صرف زیادہ پیسہ کمانے کے لیےکی جارہی ہے۔
آتش فشاں کا پھٹنا، یہ ہوا کی آلودگی کے اثرات ہیں ، اور اس سے انسانی جان کو ہونے والے نقصان کی بھی طویل فہرست ہے ۔بہت کم عمری میں لوگ جن بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں اس کا تصور کرنا محال ہے۔ہارٹ اٹیک ، استھما ، سانس کے مسائل (دمہ، COPD)،قلبی بیماری، پھیپھڑوں کا کینسر ،بینائی کی خرابی (دھند،ا سموگ)،اعصابی نقصان(علمی خرابی، پارکنسنز)،پیدائشی نقائص اور بچوں کی اموات کا سبب بھی یہی ہے۔
ان ہی مسائل نے انسان کی زندگی میں معیشت کو بھی بری طرح متاثر کیا ۔ بیماریاں بڑھنے لگیں اور معاشی اخراجات بھی بڑھنے لگے ۔ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات، دوائیوں کے اخراجات نیزپیداواری کی صلاحیت کھو گئی۔فصل کی پیداوار میں کمی، بنیادی ڈھانچے اور عمارتوں کو نقصان، سیاحت اور تفریح پر اثرات ۔
اسی طرح پانی کی آلودگی ہے ۔آ لودہ پانی کے استعمال سے معدہ کی خرابی اور جلد کے امراض اور دوسرے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایک عام انسان کی حیثیت سے ماحولیات کا خیال رکھنے کے لیے ہم جو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر سکتے ہیں اسے لازماًاختیار کرنا چاہیے، تاکہ ہم اللہ کی زمین کو آ نے والی نسلوں کے لیے قدرتی وسائل کو باقی رکھ سکیں۔ چوں کہ قانون قدرت ہمیں یہ کہتا ہے کہ قدرتی وسائل محدود ہیں (پہاڑ، پودے، پانی ) ۔ ان ذخائر کو احتیاط اور توازن کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں ۔ ہمارا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہماری نسلوں کے لیےنقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
عملی تدابیر
-1 ہم اپنے گھر کی ضروری اشیا ءکا استعمال احتیاط کے ساتھ کریں ۔ اشیا ءکی دیکھ بھال نہ کرنے کے سبب ہمیں انھیں بار بار تبدیل کرنا ہوتا ہے ، جیسے: ریفریجریٹر، واشنگ مشین وغیرہ اشیا ءکی تبدیلی ماحول پر بار بنتی ہے ۔ استعمال شدہ چیزیں کچرےمیں اضافہ کرتی ہیں اور نئی اشیاء کی مصنوعی تیاری میں ماحول کے مادی وسائل کا استعمال بھی ماحول کو زنگ آلود کرتا ہے ۔ ایسی خواتین جو گھریلو اشیا ءکو بار بار بدلنا تفاخر کا سبب سمجھتی ہیں ،وہ کمپنیوں کے فاسٹ فیشن کو فروغ دیتی ہیں ، وہ ماحول اور انسانیت کے دشمن ہیں ، ان کی چالوں سے بھی ہمیں بچنا چاہیے ۔
-2 صحت کے حوالے سے ہمارا رویہ ماحول دوست ہونا چاہیے، جیسے گھر میں کچن گارڈن کا اہتمام ۔ گھر کے پودوں میں، آرگینیک کھاد کے ذریعہ ماحول اور اپنی صحت کے تحفظ کا اہتمام ۔ ایک مناسب طریقہ آرگینک کھاد کے لیے یہ بھی ہے کہ گھر میں استعمال شدہ سبزیوں کے ڈنٹھل اور فروٹس کے چھلکے ، چائے کی پتی ، انڈے کے چھلکے ، آپ ایک پٹ باکس میں ڈال دیں، اور اس ڈبے کو ہوا بند کرلیں، اس ٹین کے ڈبے میں صرف ایک سوراخ ہونا چاہیے جس سے آپ ایک ڈنڈا ڈال کراسے ہلا سکیں، پندرہ دن کے اندر اس میں سڑاند پیدا ہوگی اور مزید دس دن میں وہ کھاد کی میں تبدیل ہوجائے گا ، اسے گھر کی گملوں اور کیاریوں میں ڈال دیں ۔ اس سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ روزانہ کی فاضل اشیا ءکو گرینڈر میں گرینڈ کرکے سکھالیں اور سوکھنے کے بعد اسے گملوں میں ڈالیں ۔
-3 کپڑے کا بے دریغ استعمال بھی ماحولیات کے توازن کو بگاڑنے کاسبب بنتا ہے ۔ کارپوریٹ کلچر میں نفسیاتی طور پر کپڑوں کی بار بار تبدیلی کو فیشن کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے، جس سےصارفین کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے ۔ بڑھتی ڈیمانڈ کے تئیں کپڑا انڈسٹری فروغ پا رہی ہے۔ یاد رہے! کسی بھی انڈسٹری میں پروڈکٹ کے علاوہ صرف ہونے والے وسائل ساری انسانیت کا اثاثہ ہیں ۔
-4ہمارے رویے میں سب سے اہم ہمارا لائف اسٹائل ہے ۔ جس میں تعیشات کے علاوہ سواریوں کو فیشن کے مطابق تبدیل کرنا، کھانے اور غذائی اجناس کو یوز اینڈ تھرو چیزوں کی طرح استعمال کرنا، پھر اسے بے دردی کے ساتھ عوامی مقامات پر پھینک دینا ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ ہمیں اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہیے ۔
-5 پانی کی آلودگی کو بھی جہاں انڈسٹری سے نکلنے والے زہریلے مادے نقصان پہنچا رہے ہیں،وہیں ہمارے گھروں سے نکلنے والا صابن اور شیمپو کا جھاگ نقصان پہنچاتا ہے ۔’’دعوت‘‘ اخبار میں سابق امیر جماعت نے جرمنی کے سفرکی روداد بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں ایک صاحب نے بتایا کہ میرے جرمنی کے ایک دوست کی بیوی پلیٹوں کو پہلے ٹشو پیپر سے صاف کرتی ہے اس کے بعد سنک میں پلیٹ دھوتی ہے۔ میں نے تعجب سے پوچھا تو کہنے لگی کہ یہ تیل کے ذرات نالی سے بہتے ہوئے نہ جانے کتنی مچھلیوں کو مار دیں گے؟ تو میں رب کو اس عذاب کے برپا کرنے کا کیا جواب دوں گی ؟اس درجہ کی احساس ذمہ داری ہمارے اندر پیدا ہوجائے تو ہم ماحول دوست رویہ اپنا سکتے ہیں اور ہم اپنے رب سے کہہ سکیں گے کہ جہاں ہر شخص مادے کی دوڑ میں تھا ،ہم تیری زمین پر بھلائی کی غرض سے بھلے کام کررہے تھے ۔
ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے پلاسٹک کا غیر ضروری استعمال اپنے اوپر حرام کرنا ہے۔ بیک ٹو نیچر، ماحول دوست انٹر نیشنل عملی تحریک ہے، جس میں وہ آپ کو ماحول دوست کیری بیگ، حتی کے کانچ اور اسٹیل کی اسٹرا اور پیپر اور ڈسپوزیبل مٹیریل سے بنے فوڈ پیکنگ کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہمیں ایسی تحریکوں کا مستقل حصہ بن جانا چاہیے۔ یاد رہے زمیں کے توازن کوبگاڑ کر ہم پوری انسانیت کے لیے دشواریاں پیدا کر رہے ہیں۔

٭ ٭ ٭

استعمال شدہ چیزیں کچرےمیں اضافہ کرتی ہیں اور نئی اشیاء کی مصنوعی تیاری میں ماحول کے مادی وسائل کا استعمال بھی ماحول کو زنگ آلود کرتا ہے۔ ایسی خواتین جو گھریلو اشیا ءکو بار بار بدلنا تفاخر کا سبب سمجھتی ہیں ،وہ کمپنیوں کے فاسٹ فیشن کو فروغ دیتی ہیں ، وہ ماحول اور انسانیت کے دشمن ہیں ، ان کی چالوں سے بھی ہمیں بچنا چاہیے

Comments From Facebook

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے