احمد کی حاضر دماغی

ہر دن کی طرح آج بھی کلاس ٹیچر کمرۂ جماعت میں داخل ہوئے۔ بچوں نے سلام کیا اور سب اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ پیریڈ کے اختتام پر کلاس ٹیچر نے ایک اہم اناؤنسمنٹ کیا۔ اناؤنسمنٹ پکنک کی تھی، جسے سن کر سبھی بچے بہت خوش ہوئے۔معلمہ نوٹس پڑھ کر بچوں کو کہتی ہیں کہ10 دسمبر کو آپ سب کی اسکول پکنک کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جو اسٹو ڈنٹس اس پکنک پر جانا چاہتے ہیں وہ جلد از جلد فیس اور والدین سے اجازت نامہ سائن کروا کر جمع کروا دیں۔ کلاس ٹیچر کے جانے کے بعد تمام اسٹوڈنٹس ’’پکنک‘‘کا موضوع ہی لے کر بیٹھ گئے۔ سب اپنی اپنی پلاننگ کرنے میں مشغول تھے۔
10 دسمبر کو صبح 8بجے پکنک کے لیے روانگی تھی،تمام اسٹوڈنٹس وقت پر اسکول پہنچ گئے۔
بس اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی، تمام بچے بہت خوش نظر آرہے تھے، گویا وہ ماؤنٹ ایورسٹ پر جا رہے ہوں۔ کچھ شریر بچے اس موقع پر خوب ہلچل کر رہے تھے تو کچھ خاموش طبع بچے اپنے ہی دنیا میں مگن تھے اور اپنی خاموشی کو انجوائے کر رہے تھے ،وہ اس طرح کہ انھیں کھڑکی کے قریب والی سیٹ مل گئی تھی۔ سب اپنی اپنی دھن میں مگن تھے کہ اچانک بس رک گئی، تمام طلبہ خاموش ہو گئے۔ کچھ بچوں کے منہ بن گئے تو کچھ پریشان نظر آرہے تھے۔ ڈرائیور نے کہا کہ آپ سب پریشان نہ ہوں، بس میں کچھ خرابی کچھ دیر انتظار کرنا پڑے گا، پھر ہم روانہ ہو جائیں گے۔
اسی بس میں احمد،عادل اور عمران بھی سوار تھے۔ وہ تینوں بس سے اتر کر باہر آگئے اور آس پاس ایسے ہی چہل قدمی کرنے لگے ۔چلتے چلتے وہ کچھ آگے نکل گئے ،انھیں خبر ہی نہیں ہوئی کہ ان کی بس تو جا چکی ہے۔ جب انھیں خیال آیا اور آ کر دیکھا تو بس جا چکی تھی۔ سنسان جگہ میں وہ تینوں اکیلے تھے۔ پاس ہی جنگل بھی تھا،ان کے پاس کوئی فون بھی نہیں تھا کہ کال ہی کر لیں، نہ ہی آس پاس کوئی PCO ۔ابھی وہ کچھ آگے آئے ہی تھے کہ انھیںشیر کی دہاڑ سنائی دی۔ تینوں اب ڈر گئے، سمجھ نہیں آرہا تھا کہ جائیں تو کہاں جائیں؟ گھبراہٹ میں اسی طرف چل دیے جہاں شیر تھا۔ احمد نے کہا کہ ڈرو نہیں، میں جانتا ہوں یہ شیر کیسے بھاگے گا؟
عادل اور عمران حیرت سے احمد کا منہ تکنے لگے۔ دونوں نےجھنجھلاتے ہوئے کہا:
’’یار! یہ مذاق کا وقت نہیں ہے ،کہاں ہم اور کہاں شیر؟‘‘
احمد نے کہا:
’’بھول گئے؟ کچھ دنوں پہلے ہی تو سر نے بتایا تھا کہ شیر کی کیا کم زوری ہوتی ہے۔‘‘
’’اچھا! کیا کم زوری ہوتی ہے؟ ہمیں بھی بتاؤ ذرا۔‘‘
’’تم بس دیکھتے جاؤ۔‘‘احمد نے کہا۔
اسی اثنا میں احمد کی نظر کچھ دور پر سوکھی جھاڑیوں پر پڑی ۔اس نے فوراً انھیں اکٹھا کرنا شروع کر دیا،اور دوستوں کو بھی جمع کرنے کے لیے کہا۔جب جھاڑیاں اکٹھی ہو گئیں تو انھیں ایک رسی میں باندھ لیا اور چھپ کر شیر کو دیکھنے لگے۔جیسے ہی شیر کچھ قریب آیا،احمد نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئےجھاڑیوں کو جلا کر شیر کے سامنے پھینک دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے شیر نودوگیارہ ہو گیا۔ اتنے میں اسکول کی بس بھی آ گئی، جسے دیکھ کر تینوں کی جان میں جان آئی، وہ فوراً بس کی طرف بھاگے اور اس میں سوار ہو گئے۔
جب عادل اور عمران کی زبانی ان کے سر نے واقعہ سنا، تو انھیں بہت خوشی ہوئی کہ ان کے اسٹوڈنٹس ان کی بتائی ہوئی باتوں کو نہ صرف غور سے سنتے ہیں، بلکہ ضرورت پڑنے پر انھیں بروئے کار بھی لاتے ہیں۔ احمد کی بہادری پرسر نے اسے بہت ساری شاباشی دی۔

٭ ٭ ٭

ویڈیو :

Comments From Facebook

1 Comment

  1. Amtul haseeb

    Mashallaha bahut khoob..Ahmed ki hazir jawabi ne sher ko bhaga diya…bacho k ley dilchasp kahani hai..

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے