امراض دان

غیر ضروری بوجھ راستے کو دشوار اور بوجھل کردیتے ہیں۔ منزل تک بہ سہولت پہنچنے کے لیے غیر ضروری سامان ،کچرا اور بےکار اشیاء سے نجات پانا ضروری ہوتا ہے۔
زندگی کے راستے میں بھی دل کو ہلکا پھلکا آلودگیوںسےپاک رکھاجائےتو منزل تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے۔ نفرت ،حسد، غصہ ،جہالت دل کو آلودہ اور بوجھل کردیتے ہیں اور افضل ترین مقام تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتے ہیں،بڑا مقام پانا ہو تو ظرف بھی بڑا رکھنا ہوگا، دل صاف اور آلودگیوں سے پاک رکھنا ہوگا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مر تبہ سوال کیا گیا کہ افضل شخص کون ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایاکہ جو دل کا اور زبان کا سچا ہو اور جو صاف دل ہو۔
پوچھا گیا کہ صاف دل سے کیا مراد؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:
’’ جو گناہ اور بغاوت سے پاک ہو اور جس دل میں کینہ ،نفرت اور حسد نہ ہو۔‘‘
نفرت، غصہ پھر دشمنی، تعصب چاہے افراد کے درمیان ہو یا اقوام کے، انتہائی نقصان دہ ہیں۔یہ منفی جذبات تعمیر و ترقی کے لیے سد راہ ہیں ،سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کرتے ہیں، منفی غصہ اور نفرت اور کدورت کے جذبات جسمُ میں ایسے کیمیکلز پیدا کرتے ہیں جو انسان کی قوت مدافعت کو متاثر کرتے ہیں، کئی نفسیاتی و جسمانی عارضے لاحق ہوجاتے ہیں۔ نفرت اور غصہ میں مبتلاء شخص سامنے والے سے زیادہ خود کو نقصان پہنچاتا ہے۔چڑچڑا پن ،غصہ، نفرت کی وجہ سے دوسروں کا برا چاہنا، حسد؛ آدمی کے اندرون کو کھوکھلا کردیتا ہے، سخت تناؤ والا ماحول پیدا کرتا ہے اور یہ کیفیتیں صرف اس فرد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اس کےکام کی جگہ، اس کے گھر اور خاندان کو بھی مکدر کرتی ہیں۔ اس کے پرتناؤ رویے کے شکار بیوی بچے بھی ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ بھی ایسے ہی مزاج کے حامل بن جاتے ہیں۔
امام غزالی کے مطابق غصہ فطرت انسانی کا ضروری جز ہے، لیکن اس میں افراط وتفریط سے بچا جائے۔ تفریط یہ ہے کہ جہاں غصہ آنا چاہیے وہاں بھی نہ آئے، جس برائی سے نفرت ہونی چاہیے وہاں بھی بے حسی کا مظاہرہ ہو تو یہ بے غیرتی ،بےحمیتی، دنائت اور ذلت پرستی ہے، اور افراط یہ ہےکہ غصےکا شدید اظہار چہرہ سے ،حرکات وسکنات سے ظاہر ہو۔ لوگوں سے نفرت ،ان کا ہمیشہ برا چاہنے کا خیال حاوی ہو ،
نفرت جہالت کی حد تک پہنچ جائے تو ایسی نفرت فرد اور معاشرہ دونوں کے لیے مہلک ہے۔
افراط وتفریط سے بچنے کا نام اعتدال ہے، اور یہ معتدل مزاجی ہی مفید ہوتی ہے ،جن کے مقاصد اعلیٰ ہوں، جنھوں نے اونچے اہداف متعین کیےہوں وہ سطحی سوچوں سے بلند ہوتے ہیں، مقصد اونچا ہو تو کردار بھی بلند ہوتا ہے، صبر وبرداشت بھی آتا ہے، لوگوں سے نفرت کے بجائے محبت اور ہم دردی پیدا ہوتی ہے، ان کی اصلاح کی خواہش پیدا ہوتی ہےاور کم ظرف و بدنیت اور جاہل لوگوں سے الجھنے کے بجائے ان سے اعراض کرتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔
اگر چھوٹی سوچ دنیاوی خواہشات جاہ ومنصب کے پیچھے رہیں تو لوگوں سے ٹکراؤ ہوتا رہے گا۔ لوگ نچلی سطح پر سوچتے رہیں اور ہم فکر وخیال کےاعتبار سے بلندی پر پرواز کریں تو ٹکراؤ، غصہ اور نفرتوں کے چنگل ہی سے نکل جائیں۔

٭ ٭ ٭

Comments From Facebook

1 Comment

  1. سیدہ سلمیٰ

    ماشاءاللہ
    مختصر اور جامع تحریر
    خصوصاً آخری جملہ نئی سوچ عطا کرتا ہے.
    مجھے ہر ماہ بولتی تصویروں کی تحریر کا انتظار ہوتا ہے.

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے