بیوی ہم درد،ہم سفر،ہم نوا

زمانۂ جاہلیت میں جو طریقہ عام تھا اس میں بے سہارا عورتیںا وریتیم بچیاںجس سرپرست کے دسترس میں آتیں ،وہ ان کے ساتھ ظلم و حق تلفی سے کام لیتا۔بہ یک وقت دس دس نکاح کا چلن عام تھا۔اس طرح کے نکاح ،نکاح ہونے باوجود زوجین میں تعلقات کی بنیاد محبت و وفاداری نہیں بلکہ روایتی ضرورتوں کو پورا کرنے کی شکل ہوتی تھی۔اس جاہلانہ رسم کوتوڑ کر نکاح کی ایک حد مقرر کی گئی۔
اسلامی معاشرے کا قیام بلند و بالا معیاری خانگی زندگی پر ٹکا ہوا ہے، لہٰذا قرآن نے زمانۂ جاہلیت کے روایتی و تحقیر آمیز سوچ کا قلع قمع کرتے ہوئے حد نکاح مقرر کی۔
’’اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند ہیں، ان میں سے دو دو، تین تین، چار سے نکاح کرلو لیکن اگر تمھیں اندیشہ ہوکہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکوگے تو پھر ایک ہی بیوی کرو۔‘‘(سورۃ النساء: 5)
قرآن نے صریح الفاظ میں چار بیویوں سے نکاح جائز تو ٹھہرایا ہے، مگر شرط تمام کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ، ورنہ بے انصافی و ظلم سے بچنے کے لیے صرف ایک نکاح پرہی اکتفا کیا جائے۔جو مذہب زوجین کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیتا ہو، کس طرح اور کیوں کر بیوی کو لونڈی سمجھنے والی سوچ کو صحیح قرار دےگا؟
دور حاضر میں زوجین کے بیچ باہمی تعلق تعلقات کی کم زوری عام ہے،جب کہ زوجین کے بیج جتنی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت ہوگی ،اتنی ہی خانگی زندگی کی بنیادیں مضبوط ہوں گی۔ بھاگتی دوڑتی زندگی دراصل اسراف کی گاڑی پر سوار ہے، بڑھتی ضرورتیں، بڑھتی مطالبے،بڑھتے اخراجات نےمیاں بیوی کو مشین کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شوہر بیوی سے نالاں اور بیوی بھی ذمہ داریوں کی تھکن سے چور ہے۔ ان حالات میں اگر ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا خیال نہ رکھا جائے،تو خاندان کے بنیادی مقصد کا خاتمہ لازمی ہے۔ ایک دوسرے کی صلاحیتوں کا اعتراف، کم زوریوں کو درگزر کرنے والے مزاج کو پروان چڑھانا نہایت ضروری ہے۔
نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی تمام امت کے ساتھ محبت و لگاؤ کی مثالیں جا بجا پڑھنے ملتی ہیں۔آپ کوپوری سیرت النبی( صلی اللہ علیہ وسلم)میں ایک بھی تذلیل آمیز رویہ یا ہتک آمیز انداز، پڑھنے کو نہیں ملے گا،تو کجا یہ کہ بیوی کی حیثیت لونڈی کی طرح ہوگی؟
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے محبت و قدر اپنی مثال آپ ہے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیںکہ میں جب کفار سے کوئی بات سنتا تھا اور وہ بات مجھ کو ناگوار گزرتی تو میں خدیجہ( رضی اللہ عنہا) سے کہتا، وہ میری اس طرح ڈھارس بندھاتیں کہ میرا دل تسکین پا جاتا،کوئی غم ایسا نہ تھا جو خدیجہ کی باتوں سے آسان اور ہلکا نہ ہوجاتا تھا۔
دنیا کی تاریخ میں کسی شوہر کے جذبات کو اس انداز سے رقم نہیں کیا گیا ہوگا،جس انداز میںحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے تئیںاللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم کے جذبات کو تحریر کیا گیا۔
’’وعا شرو ھن بالمعروف…‘‘کی تفسیر پوری سیرت النبی میں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایک بہترین اورمحبت کرنے والا شوہر اپنی رفیق سفر کے لیے ایک سفر کے دوران دوڑ کا مقابلہ کرتا ہے، دوڑ کے دوران ہنسی مذاق بھی کیا جاتا ہے۔اپنی رفیق سفر کی خواہش کو دھیان میں رکھتے ہوئے گڑیا بنانے میں بھی مدد کرتا ہے، اور روٹی بنانے میں ہاتھ بھی بٹاتاہے۔
حجۃ الوداع کے موقع پر عالمی منشور کے اعلان کے وقت زوجین کے متعلق بہترین سلوک کی نصیحت کر نا اس نازک رشتے کی قدرو واہمیت کی دلیل ہے۔

٭ ٭ ٭

Comments From Facebook

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے