جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

رات کے آٹھ بج رہے تھے، ہر طرف رات کی سیاہی چھاگئی تھی۔
ٹھنڈی ہوائیں بارش کی آمد کا پتہ دے رہی تھیں ۔
ایسے میں دہلی کے ایک پوش علاقے جے پی گرین میں بنا وہ بڑے سے لان اور پول سے گھرا ایک تین منزلہ محل نما گھر تھا۔
جس کے اندر ہر طرف ایک غیر آرام دہ کردینے والا سناٹا چھایا ہوا تھا۔
شاید اس مکان کے مکین پر غم کا پہاڑ ٹوٹا تھا۔
ماسٹر بیڈروم تاریک تھا،اور اس تاریکی میں خلل ڈالنے والی واحد شے دیوار پر نصب ٹی وی سے نکلنے والی روشنی تھی، جس پر وہ شخص نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا۔
رف سا حلیہ، ہلکی بڑھی ہوئی شیو والے اس شخص کے بال سیاہ تھے ۔
سر کے بالوں کے برعکس کانوں سے اوپر کے بال سفید تھے ،جو اس کے چہرے کے وقار اور نرمی میں اضافہ کرتے تھے۔
وہ صوفے کے ہتھے پر دایاں ہاتھ پھیلائیں بائیں ہاتھ کی دوانگلیوں سے مضطرب سا کنپٹی مسل رہا تھا۔
اس کے ذہن میں جھکڑ چل رہے تھے۔
چہرے پر درد اور چبھن تھی۔
وہ مسلسل نیوز چینلز کنگھال رہا تھا ،لیکن ہر نیوز چینل پر ایک ہی شخص کا چہرہ دکھایا جارہا تھا۔
ٹی وی پر نظر آنے والا وہ ستر اسی سالہ بوڑھا انتہائی شاطر لومڑی کی طرح نظر آرہا تھا۔
سفید ڈاڑھی ،گھٹنوں تک آتی لمبی قمیص پر چوڑی دار پاجامہ پہنے وہ آدمی تیسری دفعہ پردھان منتری بننے پر خوش تھا یقیناً۔
صوفے پر بیٹھے اس شخص نے رشک سے اسکرین پر نظر آنے والے بوڑھے کو دیکھا۔
اس نے آنکھیں موندلیں تو ذہن کے پردے پر پچھلے دو سالوں کی ان تھک محنت کسی فلم کی طرح چلنے لگی ۔
وہ عام لوگوں کے درمیان ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے تحت پیدل چل رہا تھا۔
پھر یکایک منظر بدلا تو اس نے اپنے آپ کو میلے کچیلے لوگوں کے درمیان ان کے مسائل سنتے پایا۔
اسے بے ساختہ ’’نیائے یاترا‘‘ یاد آئی اور اس یاترا میں پاگلوں کی طرح رات دن ایک کردینا بھی۔
اس نے بند آنکھوں کو کھولا۔
کیا کیا تھا جو اس نے کیا تھا؟اور کیا نہ تھا جو اس نے اس ملک کے مستقبل کے لیے سوچا تھا؟
وہ سیاست میں دولت اور طاقت کے حصول کے لیے نہیں آیا تھا۔
یہ دونوں چیزیں تو اسے ورثے میں مل چکی تھیں۔
وہ تو ایک Dreamer کی طرح تھا جو بہتر انڈیا کا خواب لے کر آیا تھا۔
جو اپنے آبا ءواجداد کے نقشِ قدم پر چل کر اس ملک کا نقشہ بدل دینا چاہتا تھا،لیکن ایک ہی پل میں جیسے اس کے سپنوں کو کسی نے ایک چھناکے کے ساتھ توڑ ڈالا تھا۔
اس کے کروڑوں روپے برباد ہوگئے تھے۔
اس نے کرب سے آنکھیں میچ لیں تو ایک موٹا سا آنسو سارے بندھن توڑکے آنکھ کے کنارے سے پھسلتا ہوا گردن پر لڑھک گیا۔
زوں …زوں…زوں…
کمرے کی خاموشی میں فون کی بیپ نے ارتعاش پیدا کیا۔
وہ جانتا تھا اس کے پارٹی کے لوگ ،اس کے کولیگز افسوس جتانے کے لیے اس کے کال نہ لینے پر میسجز ضرور کریں گے۔
دل کے نہ چاہنے کے باوجود وہ فون کی طرف اپنی توجہ مبذول کروانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
بیک وقت اسے کئی میلز آرہی تھیں۔
واٹس ایپ پر میسجز کی بھرمار تھی۔
اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیاں سست روی سے اسکرین پر آگے پیچھے ہورہی تھیں۔
راہل نے اپنا فیس بک پیج کھولا تو اس نے دیکھا کہ لوگ اس کی ہار کو اپنی ہار بتارہے تھے ۔
نریندر مودی کے پردھان منتری بننے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کررہے تھے ۔
کوئی کنگ میکرز کو نشانہ بنارہا تھا۔
تو کئی لوگوں نے مغلظات کی بھرمار کردی تھی۔
راہل تیزی سے بڑھتے ہوئے اپنے مدّاح، اپنے فینز کی تعداد اور ان کی محبت پر حیران ہورہا تھا۔
’’کیا اس کے چاہنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی تھی؟‘‘اسے حیرانی ہوئی۔
وہ سرسری طور پر میسجز دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظروں سے خالص انگریزی میں لکھا گیا مبارک باد کا ایک طویل میسیج گزرا۔
مبارک کے الفاظ پر اسے اچنبھا ہوا۔
اس کا ٹوٹا ہوا دل نہ جانے کیوں متجسس ہوا کہ وہ اس میسیج کو پڑھ لے۔
وہ شاید کسی مسلم لڑکی کی طرف سے آیا تھا۔
راہل نے اس کے نام سے اندازہ لگایا۔
وہ لڑکی سیاست کے داؤ پیچ سے کافی حد تک واقفیت رکھتی تھی۔
اس لڑکی کے میسیج کی چند سطریں پڑھ کر ہی اسے اندازہ ہوا۔
’’مسٹر راہُل !
مبارک باد قبول کیجیے کہ ان تھک محنت کے بعد آخر آپ جیت گئے۔
آپ کی حیرانی بجا ہے۔
لیکن دراصل بات یہ ہےکہ آپ کی ظاہری ہار میں باطنی فتح موجود ہے، اگر آپ جانیں۔
اور یقین کریں سودا بازی کرنے والا جیتا نہیں ،ہارا ہے ۔
اس کی راتوں کی نیند حرام ہوئی ہے۔
اس کے لوگوں نے اسے دھوکہ دیا ہے۔
وہ جیت کر بھی ہارا ہے۔
لیکن آپ،آپ ہار کر بھی جیت گئے ہیں۔
آپ یقیناًکو درد محسوس ہوگا ،
کیوں کہ خوابوں کے ٹوٹنے کا درد دردِ منفرد ہوتا ہے۔
لیکن ہمیں اگر خوشی ہے تو صرف اس بات کی کہ آپ جیت گئے ہیں۔
اور منفرد طریقے سے جیتے ہیں۔
آپ نے ایک دنیا کے دلوں کو فتح کیا ہے راہُل گاندھی!
نریندر مودی نے کرسی جیتی ہے ،لیکن آپ نے دل جیتے ہیں اور دل جیتنا تو کسی خاص کا کام ہوتا ہے۔
آپ نے وہ خاص کام کیا ہے اور میں دعوے کے ساتھ کہتی ہوں ،کچھ عرصے بعد آپ کو بڑی فتح نصیب ہوگی اور آپ ہی ہوں گےاگلے وزیر اعظم۔
آپ مانیں یا نہ مانیں ،کیوں کہ مسٹر راہُل!
ہم تمام ہی آپ کے مداح ،آپ کے فین ہیں اور آپ کے نیک جذبات سے عقیدت رکھتے ہیں۔
ہماری رفاقتیں اور ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
پھر ایک دفعہ شعر کے ساتھ مبارک باد قبول کیجیے محترم!

تجھے اے جگرؔ مبارک یہ شکست فاتحانہ

کیوں کہ

جو دلوں کو فتح کرلےوہی فاتح زمانہ‘‘

وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں پڑھتا گیا۔
انگریزی میں کہے گئے لڑکی کے آخری الفاظ کسی سحر کی طرح اس کو اندر تک مسحور کرگئے تھے ۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کھلے دل سے مسکرادیا۔
منوں بوجھ جیسے اس کے کاندھوں سے اترگیا تھا۔
اسے پہلی دفعہ محسوس ہوا کہ وہ اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب ہوا ہے۔
چند سطروں نے اس کے اندر ایک نئی روح پھونک دی تھی اس نے گہری سانس فضا میں خارج کی۔
یقیناً وہ جو بھی تھی Intellactual تھی ۔اس نے اعتراف کیا۔
تمام فکروں کو جھٹکتے ہوئے وہ ایک نئے عزم اور ایک نئے جذبے کے ساتھ اٹھا اور کمرے میں موجود فریج کی طرف بڑھ گیا۔ یکایک کئی دنوں سے چھپ کر بیٹھی ہوئی بھوک نے اپنا سر اٹھایا تھا۔

٭ ٭ ٭

Comments From Facebook

1 Comment

  1. شارق

    بہت خوب۔ بہت اچھا نقطۂ نظر ہے۔ لیکن ہے تو کسی کی طرفداری میں۔ یہی قوت اسلام کی فروغ و اشاعت میں صرف کی جاۓ تو عبادت بن جائے گی۔

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے