درس قرآن
زمرہ : النور

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلتَّاۤئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السّاۤئِحُوۡنَ الرّٰكِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَالنَّاهُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَالۡحٰــفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللٰه ِ‌ؕ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞(سورۃ التوبہ: 112)

(اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے، اُس کے بندگی بجا لانے والے، اُس کی تعریف کے گن گانے والے، اُس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اُس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے، (اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے خرید و فروخت کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) اور اے نبی! ان مومنوں کو خوش خبری دے دو ۔)
آج کی تذکیر کے لیے لفظ’’ السَّآىٕحُوْنَ‘‘ سے ریلیٹ کیا ہے ۔ پہلے چند تفاسیر سے اس لفظ کے معنی دیکھتے ہیں ،پھر یہ دیکھیں گے کہ اقامت دین کی جدو جہد میں اس لفظ سے تحریک کے کارکنوں کو کیا معنی اخذ کرنے ہیں ۔
( س ی ح ) الساحۃ کے معنی فراخ جگہ کے ہیں ،اسی اعتبار سے مکان کے صحن کو ساحۃ الدار کہا جاتا ہے، چنانچہ قرآن میں ہے :

فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ ( سورۃ الصافات: 177)

(پھر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا ۔)

 اور وسیع مکان میں ہمیشہ جاری رہنے والے پانی کو سائح کہا جاتا ہے اور ساح فلان فی الارض کے معنی پانی کی طرح زمین میں چکر کاٹنے کے ہیں، قرآن میں ہے:

 فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُر (سورۃ التوبة: 2)

(تو ( مشرکو! ) زمین میں چار مہینے چل پھر لو ۔)
اور اسی سے ہمیشہ سفر کرنے والے آدمی کو سائح یا سیاح کہا جاتا ہے ۔ اور آیت مطہرہ میں:

 السَّائِحُونَ (سورۃ التوبة: 112)

روزہ رکھنے والےکے معنی میں ہے ۔ اسی طرح السائحات سےروزہ رکھنے والی عورتیں مراد ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ روزہ دوقسم پر ہے، ایک حقیقی روزہ جو کھانے پینے اور جماع کو ترک کرنے سے عبارت ہوتا ہے اور دوسرا روزہ حکمی ہے، جو کہ جوارح یعنی آنکھ ،کان ا ور زبان وغیرہ کو معاصی سے روکنے کا نام ہے ۔ تو سائحون سے دوسری قسم کے روزہ دار مراد ہیں ، اور بعض نے کہا ہے کہ سائحون سے وہ لوگ مراد ہیں جو آیت :

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِها أَوْ آذانٌ يَسْمَعُونَ بِها (سورۃ الحج : 46)

(کیا ان لوگوں کے ملک میں سیر نہیں کہ تاکہ ان کے دل ( ایسے ) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے اور کان ( ایسے ) ہوتے کہ ان سے سن سکتے ۔)
کے مقتضا کے تحت زمین میں سفر کرتے ہیں، یعنی قدرت الٰہی کے آثار وعجائبات دیکھتے اور ان پر غور وفکر کرتے رہتے ہیں ۔
مفردات القرآن

اَلسَّآ ئِحُوْنَ : یہ لفظ ساح یسیح ُ سے اسم فاعل یا اسم صفت ہے۔ سیاحت اس کا مصدر ہے۔ اس کے معنی ہے چلنا، سفر کرنا، گھومنا پھرنا۔ یہ چوں کہ اسلامی اصطلاح ہے۔ اس لیے اسے محض سفر یا سیر سپاٹے کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا، بلکہ اس کا معنی ہوگا ایسے مقصد کے لیے سفر جو اسلام کو مطلوب ہے۔ مثلاً اللہ کی راہ میں جہاد، اقامتِ دین کے لیے دوڑ بھاگ، دعوت دین، اصلاحِ خلق، حصول علم، تلاشِ رزقِ حلال اور مشاہدۂ آیات الٰہی کے لیے سفر ؛یہ تمام اس سیاحت کا حصہ ہیں۔ جو مومن ایسے پاکیزہ مقاصد کے لیے سفر کرتا ہے۔ وہ اَلسَّآ ئِحُوْنَ میں شامل ہے۔
بعض اہل علم نے یہ کہا ہے کہ قدیم زمانے سے سیاحت اہل دین کی اصطلاح رہی ہے، جس کا مفہوم صاحب لسان العرب نے یوں ادا کیا ہے:

’’الذھاب فی الارض للعبادۃ دالتر ھب‘‘

 (عبادت و ریاضت کے لیے کسی سمت کو نکل کھڑاہونا۔)
اسلام سے پہلے اکثر مذاہب میں عبادت کے پہلو سے اس بات کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے کہ آدمی گھر در، بیوی بچوں اور دنیا کے ہنگاموں سے الگ ہو کر جنگلوں، پہاڑوں اور سنسان جگہوں میں نکل جائے، اپنا سارا وقت دھیان گیان، ذکر و عبادت، چلہ کشی اور ریاضت میں گز ارے۔ قوت لایموت پر قناعت کرے۔ بھوک پیاس ستائے تو جنگل کے پھل پھلواری اور ندیوں چشموں کے پانی پر گز ارہ کرے۔ عیسائیوں کے راہبوں، گوتم بدھ کے بھکشوؤں اور ہندو جو گیوں اور سنیاسیوں کا محبوب طریقۂ عبادت یہی رہا ہے۔ یہ لوگ اگر خلق کی طرف متوجہ بھی ہوتے تھے تو اس طرح کہ صبح کسی بستی میں اور شام کسی بستی میں۔ جہاں پہنچے نیکی اور پرہیز گاری کے چند کلمے لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور وہاں سے چل کھڑے ہوئے۔ اسی درویشانہ اور راہبانہ زندگی کے لیے قدیم اصطلاح سیاحت کی رہی ہے۔
اس سیاحت کا جتنا حصہ رہبانیت کے حکم میں داخل ہے وہ تو اسلام میں ممنوع ہے، اس لیے کہ اسلام دین فطرت ہے اور رہبانیت فطرت کے خلاف ہے، لیکن اس کا جو حصہ زہدو توکل، ذکر و فکر، ، خلوت و تبتل، ریاضت و مجاہدہ، جستجوئے حقیقت، طلب ِعلم اور دعوت الی اللہ و جہاد فی سبیل اللہ سے تعلق رکھتا ہے؛وہ اسلام میں بھی مطلوب و مقصود ہے اور اس کو اسلام نے روزہ، اعتکاف، عمرہ، حج اور جہاد میں سمودیا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے یہاں سیاحت کے باب میں نفی اور اثبات دونوں طرح کی باتیں ملتی ہیں۔ ایک طرف یہ ارشاد ملتا ہے کہ ’’لا سیا حۃ فی الاسلام‘‘( اسلام میں سیاحت نہیں ہے۔) دوسری طرف یہ چیز بھی ملتی ہے کہ ’’سیاحۃ ھذہ الا مۃ الصیام و لز وم المساجد ‘‘(اس امت کے لیے سیاحت روزے اور مسجدوں کے ساتھ وابستگی ہے۔)
ابو داو‘د میں روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے سیاحت اختیار کرنے کی اجازت مانگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

 ’’ سیاحۃ امتی الجہاد فی سبیل اللہ ‘‘

( میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلنا ہے۔)
اس سے معلوم ہوا کہ سیاحت کا جو حصہ رہبانیت کی تعریف میں آتا ہے، وہ تو اسلام نے اپنے نصاب سے خارج کردیا ہے،لیکن اصل مقصد سیاحت اسلام میں بھی باقی ہے اور روزہ، اعتکاف، ہجرت، جہاد، دعوت و تبلیغ اور طلب علم و حصول تر بیت کے لیے سفر، یہ سب چیزیں اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ یہ سیاحت جس طرح مردوں کے لیے ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی ہے۔جیسا کہ سورۂ تحریم کے لفظ ’’سائحات ‘‘ سے واضح ہے۔ البتہ عورتیں ان چیزوں سے مستثنیٰ رہیں گی، جن سے شریعت نے ان کو مستثنیٰ رکھا ہے، مثلاً: قتال وغیرہ۔(روح القرآن ،از:ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی)

اَلتَّآءِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآءِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ
(سورۃ التوبہ: 112)

’’سَاءِحُوْنَ ‘‘کا معنی ہے سیاحت کرنے والے، لیکن اس سے مرادمحض سیر و سیاحت نہیں ،بلکہ عبادت و ریاضت کے لیے گھربار چھوڑ کر نکل کھڑا ہونا ہے۔ پچھلی امتوں میں روحانی ترقی کے لیے لوگ لذات دنیوی کو ترک کر کے اور انسانی آبادیوں سے لا تعلق ہو کر جنگلوں میں چلے جاتے تھے اور رہبانیت اختیار کرلیتے تھے ،مگر ہمارے دین میں ایسی سیاحت اور رہبانیت کی اجازت نہیں۔چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا :

لاَ رَہْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ وَلَا سِیَاحَۃَ

(اسلام میں نہ رہبانیت ہے نہ سیاحت۔)
سابقہ ادیان کے برعکس اسلام نے سیاحت اور رہبانیت کا جو تصور متعارف کروایا ہے،اس کے لیے ابوامامہ باہلیؓ سے مروی یہ حدیث ملاحظہ کیجیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

اِنَّ لِکُلِّ اُمَّۃٍ سِیَاحَۃَ وَاِنَّ سِیَاحَۃَ اُمَّتِی الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ‘ وَاِنَّ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَہْبَانِیَّۃٌ وَرَھْبَانِیَّۃُ اُمَّتِی الرِّبَاطُ فِیْ نُحُوْرِ الْعَدُوِّ

(ہر امت کے لیے سیاحت کا ایک طریقہ تھا اور میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے ،اور ہر امت کی ایک رہبانیت تھی ،جب کہ میری امت کی رہبانیت دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا ہے۔)
ایک صحابیؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ !مجھے سیاحت کی اجازت دیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا :

اِنَّ سِیَاحَۃَ اُمَّتِی الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ

گویا ہماری امت کے لیے ’’ سیاحت ‘‘ کا اطلاق جہاد و قتال کے لیے گھر سے نکلنے اور اس راستے میں صعوبتیں اٹھانے پر ہوگا۔
یہ چھ اوصاف جو اوپر گنوائے گئے ہیں ،ان کا تعلق انسانی شخصیت کے نظریاتی پہلو سے ہے۔ اب اس کے بعد تین ایسی خصوصیات کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو انسان کی عملی جدوجہد سے متعلق ہیں،اور دعوت و تحریک کی صورت میں معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

الْاٰمِرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاھُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(سورۃ التوبہ: 112)

امر بالمعروف گویا دین کے لیے عملی جدوجہد کا نقطۂ آغاز ہے۔ یہ جدوجہد جب آگے بڑھ کر نہی عن المنکر بالید کے مرحلے تک پہنچتی ہے تو پھر ان خدائی فوجداروں کی ضرورت پڑتی ہے جن کو یہاں وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ کا لقب دیا گیا ہے۔ یہ لوگ اگر پوری طرح منظم ہوں تو اپنی تنظیمی طاقت کے بل پر کھڑے ہو کر اعلان کریں کہ اب ہم اپنے معاشرے میں منکرات کا سکہ نہیں چلنے دیں گے، اور کسی کو اللہ کی حدود کو توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔اللّٰھم

رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ !

 منہج انقلاب نبوی ﷺ میں اس مرحلے کے ضمن میں آج اجتہاد کی ضرورت ہے کہ موجودہ حالات میں نہی عن المنکر بالید کے لیے اجتماعی اور منظم جدوجہد کی صورت کیا ہوگی؟(بیان القرآن،از:ڈاکٹر اسرار احمد)
متن میں لفظ’’ السَّا ئِحُون‘‘ استعمال ہوا ہے، جس کی تفسیر بعض مفسرین نے ’’الصَّآ ئِمُونَ‘‘ (روزہ رکھنے والے) سے کی ہے، لیکن سیاحت کے معنی روزہ، مجازی معنی میں ہے۔ اصل لغت میں اس کایہ معنی نہیں ہے،اور جس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے خود اس لفظ کے یہ معنی ارشاد فرمائے ہیں، اس کی نسبت حضور ﷺ کی طرف درست نہیں ہے۔ اس لیے ہم اس کو اصل لغوی معنی میں ہی میں لینا زیادہ صحیح سمجھتے ہیں۔ پھر جس طرح قرآن میں بکثرت مواقع پر مطلقًا انفاق کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی خرچ کرنے کے ہیں، اور مراد اس سے راہ خدا میں خرچ کرنا ہے، اسی طرح یہاں بھی سیاحت سے مراد محض گھومنا پھرنا نہیں ہے، بلکہ ایسے مقاصد کے لیے زمین میں نقل و حرکت کرنا ہے جو پاک اور بلند ہوں اور جن میں اللہ کی رضا مطلوب ہو۔ مثلاً: اقامت دین کے لیے جہاد، کفر زدہ علاقوں سے ہجرت، دعوت دین، اصلاح خلق، طلب علم صالح، مشاہدہ ٔآثار الہٰی اور تلاش رزق حلال۔ ان صفات کو یہاں مومنین کی صفات میں خاص طور پر اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود جہاد کی پکار پر گھروں سے نہیں نکلتے تھے، ان کو یہ بتایا جائے کہ حقیقی مومن ایمان کا دعویٰ کر کے اپنی جگہ چین سے بیٹھا نہیں رہ جاتا، بلکہ وہ خدا کے دین کو قبول کرنے کے بعد اس کا بول بالا کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے دنیا میں دوڑ دھوپ اور سعی و جہد کرتا پھرتا ہے۔(تفہیم القرآن،از: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی)
’’السَّآئحُوْنَ‘‘ کی چند تفاسیر دیکھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اقامت دین کی جدو جہد کے تحریک کے کارکنوں کو اللہ کی راہ میں اسفار بھی کرنے پڑیں گے، اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جا کر اللہ کے دین کی دعوت دینی ہوگی ۔ خواتین کو بھی یہ کام کرنا ہوگا ۔ اس آیت س سے ہمیں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس طرح تحریک کے دور اول میں صحابیات نے اقامت دین کی جدو جہد میں اپنا حصہ ڈالا، آج کے دور میں بھی تحریکی خواتین کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوگا ۔
اس ضمن میں ایک بات کا ذکر ضروری سمجھتی ہوں اور چند اختلافات کے باوجود تبلیغی جماعت کی اس بات پر میں ان کے اس جذبےکی قدر کرتی ہوں کہ وہ جس طرح اپنا وقت تبلیغ کے لیے لگاتے ہیں،وہ قابل ستائش ہے، جب کہ ہمارے تحریکی حلقےمیں اس جذبےکا بہت فقدان ہے ۔ بہت سے عذر لنگ ہمارے پاس موجود ہوتے ہیں ، ہمیں اس روش کو ترک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اقامت دین کے لیے اپنے وقت کو فارغ کرکے اپنا بہترین حصہ ڈالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس تذکیر سے ہمیں یہی سبق لیناہے کہ ہم اپنی زندگیوں سے بہترین وقت تحریک کے لیے وقف کریں گے ،ان شاء اللہ۔

٭ ٭ ٭

ویڈیو :

Comments From Facebook

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے