سادگی :جزو ِایمان

12/جولائی کو قومی سادگی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دنیا میں سر ابھارے ہوے بڑے مسائل اور عظیم چیلنجز کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہےکہ یوم سادگی کا اہتمام آخر کیوں کر ایسی ترجیح بن گیا ہےکہ ایک قومی دن کے طور پر اہتمام کرکے اس کی طرف توجہ دلانے کی نوبت آئی ہے ؟ سادگی کے علی الرغم وہ کون سےخطرناک بگاڑ اور فساد ہیں جن کو دیکھتے ہوئے سادگی جیسے بظاہر سادہ ترین وصف کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے؟
دنیا کو درپیش جدید دور کے مسائل پر ایک سرسری نگاہ ڈالیں اور تھوڑا سا غور کریں تو یہ حقیقت آشکار ہونے میں دیر نہیں لگےگی کہ انسانی معاشرےکے کئی انفرادی اور اجتماعی مسائل سادہ طرز زندگی کو ترک کر نے کا نتیجہ ہیں۔ تصنع، بناوٹ ، حرص ، غیر فطری مسابقت، مادہ پرستی، جذبہ ٔتفاخر اور عیش کوشی جیسے کئی بگاڑ سادگی کے بر خلاف ہیں۔ یوم سادگی ان ہی منفی رجحانات اور تکلفات کے بوجھ سے نکلنے اور سادہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔
طرز زندگی کو سادہ رکھنے یا بناوٹی تکلفات اور مادہ پرستانہ رخ اختیار کرنے کے معاملے میں مرد وخواتین دونوں یکساں ذمہ دار ہیں، لیکن ہم سب سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں ہم خواتین کا رول زیادہ اہم اور غیر معمولی طور پر مؤثر ہوتا ہے۔
یوم سادگی تو محض علامت ہے ۔ سادہ طرز زندگی اختیار کرنے کی امریکی فلاسفر ہینری ڈیوڈ تھورو کی سوچ اور فکر کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے یوم پیدائش پر یہ دن منایا جاتا ہے۔ ہمیں اس فلاسفر کے سادگی سے متعلق خیالات کو تفصیل سے دیکھنا چاہیے، لیکن غور کرنے کی بات ہےکہ دین حنیف کی تاقیامت رہ نمائی کے محض ایک جز ’’ سادگی‘‘ پر انسانی غور فکر کو جو دنیا اس قدر تکریم کی نگاہ سے دیکھتی ہے، وہ مکمل نظام حیات پر الٰہی احکامات اور سنت نبوی میں سادگی کو کما حقہ‘ نہیں جانتی۔ اس تناظر میں دین اسلام میں سادگی کو سمجھنے اوراختیار کرنے کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔
اسلام کی تعلیمات میں سادگی اور شائستگی کی قدریں ملتی ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ان تعلیمات میں غور و فکر کر کے عمل میں ڈھالنے اور دوسروں تک ان تعلیمات کو پہنچانے کے بہترین موقع موجودہیں۔
سادگی کامعنی آسانی، سادہ لوحی، تصنع اور تکلف سے پاک، راست بازی ہے۔
عمل میں اختیار کیا جانے والا ایک رویہ ، جس کے تحت انسان زندگی کی فطرت کو بغیر کسی آمیزش کےباقی رکھتا ہے۔سادگی کی ضد تصنع، تکلف، بناوٹ دکھاوا ریاکاری غرور اور تکبر ہے۔دنیا میں سادگی کے ساتھ زندگی گزارنے میں آسانی ہے اور یہ فطرت کے مطابق ہے، لیکن اگر دکھاوا، ریاکاری اور تصنع اور تکلف کے ساتھ زندگی گزاری جائے تو اس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ فطرت سے انحراف ہوتا ہے ۔
انسان اطراف کے ماحول کا اثر بہت جلد قبول کرتا ہے، اطراف میں پائے جانے والے طرز زندگی کو وہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، سماجی رویے کے مطابق عمل کرتا ہے اور کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ سماج میں بڑا بننے کے لیے ،اپنی واہ واہی کے لیے شہرت اور نام و نمود کے لیے تگ و دو کرتا ہے۔
قرآن مجید میں سادگی کے ساتھ زندگی گزارنے، اسراف اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے اعتدال اور میانہ روی کی زندگی گزارنے پر زور دیا گیا ہے۔
’’ کھاؤ اور پیو، لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ بے شک وہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘(القرآن،سورہ : 7،آیت : 31)
یہ آیت زندگی کے تمام پہلوؤں میں اعتدال کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ مومنوں کو اسراف سے بچتے ہوئے متوازن طرز زندگی کو اختیار کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ یہ آیت ضروری چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے اور اپنے ذرائع کے اندر رہنے کی شعوری کوشش کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
ایک اور آیت جو سادگی کی قدر کو واضح کرتی ہے:
’’ اور اسراف نہ کرو، کیوں کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘(القرآن،سورہ: 6،آیت : 141)
یہ تعلیمات یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ دولت اور مادہ پرستی کو روحانی اور اخلاقی فرائض سے غفلت کا باعث نہیں بننا چاہیے۔
جو شخص خدا پر ایمان نہیں رکھتا اور آخرت کا یقین نہیں کرتا، ایسے نافرمان لوگوں کے پیش نظر صرف اور صرف دنیا کی زندگی ہوتی ہے، وہ اس عارضی دنیا کے عیش و آرام کو حاصل کرنے کے لیے اپنا مال، وقت اور صلاحیتوں کو لگا دیتا ہے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز کو بھلا دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کے بارے میں سورۃ الحجر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
’’چھوڑو انھیں،کھائیں اور مزے اڑائیں اور لمبی امیدیں انھیں بھلاوے میں ڈالے رکھیں، انھیں جلدی ہی معلوم ہو جائے گا۔ ‘‘
سورۂ محمد میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے، وہ چند روزہ عیش کر رہے ہیں، اور جس طرح جانور کھاتے ہیں اسی طرح کھا رہے ہیں اور آگ ان کا ٹھکانہ ہوگی ۔‘‘
جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں، ان کے لیے بہترین نمونہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رہن سہن میں سادگی ، نشست وبرخاست میں سادگی ، کھانے پینے میں سادگی ، لباس وپہناوے میں سادگی ، اوڑھنے بچھونے میں سادگی ، لوگوں کے ساتھ میل جول اور رکھ رکھاؤ میں سادگی ، الغرض آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے جس گوشے پر نظر ڈالیے، ہر طرف سادگی ہی سادگی نظر آئے گی ،آپ کی زندگی تکلف وتصنع سے کوسوں دور ، تواضع، عجز وانکساری کا واضح اور بے مثل نمونہ تھی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پرانے کجاوے پر بوسیدہ چادر میں حج کیا، جس کی قیمت چار درہم رہی ہوگی یا چار درہم بھی نہ رہی ہوگی۔(ترمذی)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر سوئے۔جب آپ اٹھے تو چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو پر نمایاں تھے۔ ہم نے عرض کیا کہ کیا اچھا ہو کہ ہم آپ کے لیے ایک نرم بستر بنا دیں۔
آپ نے فرمایا:’’ مجھے دنیا سے کیا مطلب؟ میں تو اس دنیا میں بس اس مسافر کی طرح ہوں جو کسی درخت کے نیچے تھوڑا سایہ لے اور پھر اسے چھوڑ کر (آگے اپنی منزل کی طرف) روانہ ہو جائے ۔‘‘(ترمذی)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے اس بات کا اظہار فرمایا کہ دنیا اس لیے نہیں کہ کوئی اس کی طلب میں جیے اور مرے۔ دنیا تو ایک مسافر گاہ ہے، اسے منزل سمجھ لینے کی غلطی ہرگز نہیں کرنی چاہیے ۔
مذکورہ بالا احادیث میں بوسیدہ چادر میں حج کرنے اور چٹائی پر سونے کے جو واقعات بیان ہوئے ہیں ،وہ اسلام کے دور اقتدار کا زمانہ ہے یعنی یہ 10 ہجری کی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو اپنے لیے بہت کچھ ساز و سامان اکٹھا کر سکتے تھے، لیکن آپ نے سادہ زندگی کو پسند کیا ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا سے جو شخص بھی محبت کرے گا ،آخرت کی اہمیت اور اس کی قدر و قیمت اس کی نگاہ میں باقی نہیں رہ سکتی۔ اس لیے نگاہ ہمیشہ آخرت پر ہونی چاہیے۔ دنیا میں اگر فکر ہو تو صرف اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی فکر ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف خود سادہ زندگی گزاری بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی سادہ زندگی گزارنے پر ابھارتے تھے۔حضرت ابو امامہ بن ثعلبہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آپ کے سامنے دنیا کا ذکر کیا ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم سنتے نہیں کہ سادہ وضع میں رہنا خلق ایمان میں سے ہے؟(ابو داؤد)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیںیمن بھیجا تو فرمایا:’’دیکھنا عیش پسندانہ زندگی سے دور رہنا، کیوں کہ اللہ کے بندے عیش پسندانہ زندگی نہیں گزارتے ۔‘‘
اس حدیث میں عیش کوشی سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔ عیش کوشی اور تجمل میں بڑا فرق ہے، دونوں ایک نہیں ہیں۔اسلام میں تجمل یعنی صفائی ستھرائی، پاکیزگی اور لباس میں خوش وضعی کا خیال پسندیدہ ہے، لیکن اس میں اگر غلو سے کام لیا جائے تو عیش کوشی کی سرحد شروع ہو جاتی ہے، جس کی کوئی انتہا نہیں، اور اگر تجمل میں تفریط کی روش اختیار کی جائے تو پھر اس سے رہبانیت کا دروازہ کھلتا ہے۔ افراط اور تفریط سے بچتے ہوئے راہ اعتدال اختیار کرنے کی تعلیم اسلام نے اپنے ماننے والوں کو دی ہے۔
سادگی سے زندگی گزارنے کے سلسلے میں آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ لوگ مادہ پرستی، عیش پسندی، دکھاو،ا فخر، تکبر؛ ان تمام چیزوں میں اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں، چاہے وہ لباس کے معاملے میں ہو یا کھانے پینے کے معاملے میں ہو،یا رہن سہن کے معاملے میں ہو یا میل جول کے معاملے میں ہو ،یہی بات دیکھی جاتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بناوٹ اور تکلفات کے ساتھ زندگی گزاری جا رہی ہے۔ شادی بیاہ کے معاملات میں بھی تصنع، بناوٹ، تکلفات اور فضول خرچی کی وجہ سے ہمارا سماج کئی مسائل کا شکار ہے۔ اگر ہم سادگی کو اپناتے ہیں تو کئی پریشانیوں اور مشکلات سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات دنیاوی زندگی (دنیا) کی عارضی نوعیت اور آخرت کی لازوال فطرت (آخرت) پر زور دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں ہمیں یاد دلاتا ہے:
’’جان لو کہ دنیا کی زندگی تو محض تماشا ہے، اور ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد کی بڑھوتری کا مقابلہ۔‘‘ (القرآن،سورہ: 57،آیت : 20)
یہ آیت مومنوں کو اس بات کا خیال رکھنے کی دعوت دیتی ہے کہ وہ دنیا کی عارضی لذتوں سے زیادہ وابستہ نہ ہوں، جو آخرت کی کامیابی کے آخری مقصد سے غافل کر سکتی ہیں۔ سادگی کو اپنانا اس بات پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد کرتا ہے کہ آنے والی ابدی زندگی کی کیا اہمیت ہے؟
سادگی کو اپنانے کے لیے عملی اقدامات
1. صرف ضروری اور فائدہ مند اشیاء ہی خریدنے کی کوشش کریں ۔ذخیرہ اندوزی اور مادی سامان کو غیر ضروری جمع کرنے سے پرہیز کریں۔
2. فضول خرچی سے گریز کرتے ہوئے، خوراک اور پانی جیسے وسائل کو احتیاط سے استعمال کریں۔
3. تعلقات پر توجہ مرکوز کریں۔مادی حصول پر بامعنی تعلقات کو ترجیح دیں۔ خاندان اور دوستوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں، اور کمیونٹی سروس میں مشغول رہیں ۔
4. کھانے پینے میں بھی سادہ غذا کا استعمال کریں، جس سے ہماری صحت بہتر رہے اور امراض سے محفوظ رہیں۔
5. روحانی مشقوں جیسے عبادات ، قرآن کی تلاوت اور غور و فکر کے لیے وقت نکالیں ۔ یہ مشقیںاندرونی سکون اور اطمینان کو فروغ دیتی ہیں۔
الغرض قومی سادگی کا دن اسلامی تعلیمات میں سرایت شدہ لازوال حکمت کی یاد دہانی کرواتا ہے۔ سادگی کو اپنانا محض مادی املاک کو کم کرنے کے بارے میں نہیں ہے ،بلکہ ایک طرز زندگی کو فروغ دینا ہے جو روحانی ترقی، قناعت اور دوسروں کی فلاح کو ترجیح دیتا ہے۔
قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر مسلمان اپنی روزمرہ کی زندگی میں سادگی، توازن اور سکون حاصل کر سکتے ہیں۔ سادگی پر یہ توجہ آخرت کی ابدی زندگی کے لیے تیاری کی اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے،اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی چندروزہ زندگی کو ترجیح دے کر آخرت کی لازوال زندگی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

٭ ٭ ٭

عیش کوشی اور تجمل میں بڑا فرق ہے، دونوں ایک نہیں ہیں۔اسلام میں تجمل یعنی صفائی ستھرائی، پاکیزگی اور لباس میں خوش وضعی کا خیال پسندیدہ ہے، لیکن اس میں اگر غلو سے کام لیا جائے تو عیش کوشی کی سرحد شروع ہو جاتی ہے، جس کی کوئی انتہا نہیں، اور اگر تجمل میں تفریط کی روش اختیار کی جائے تو پھر اس سے رہبانیت کا دروازہ کھلتا ہے۔ افراط اور تفریط سے بچتے ہوئے راہ اعتدال اختیار کرنے کی تعلیم اسلام نے اپنے ماننے والوں کو دی ہے۔

Comments From Facebook

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے