مدد مانگنے والے سےمددگار بننے تک:نثار کا سفر

48 سال کے نثار ٹی اے نے دسویں تک کی پڑھائی کی ہے، کیرالہ کے الوا شہر کے کوٹاماسیری علاقے میں یاسین فٹ ویئر اینڈ بیگس نام کی ان کی دکان ہے۔ تین سال پہلے انھوں نے اپنے بیٹے کے نام پر اس کاروبار کو شروع کیا۔ نثار کی ایک بیوی اور تین بچے ہیں۔ یہ ایک خوش حال خاندان ہے۔ نثار کے تینوں بچے ابھی پڑھائی کررہے ہیں۔ ان کی بیوی بینسا بینسیرا کبھی کبھی دکان چلانے میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ نثار کے والد 88 سال کے ہیں، جنھوں نے چوکیداری کا کام کرکے نثار اور اپنے دوسرے بچوں کی کوچی شہر میں پرورش کی۔ نثار قریب دس سال سے الوا کے پاس چالکّم علاقے میں رہ رہے ہیں، اور ان کے والد بھی ان کے ساتھ رہتے ہیں۔
نثار پہلے ضرورت پڑنے پر اپنے دوستوں سے چھوٹی بڑی رقم قرض کے طور پر لیتے رہے ہیں،حالانکہ نثار کو ان قرضوں پر سود نہیں دینا پڑتا تھا، لیکن ایک بار انھیں ایک لاکھ کے قرض کی ضرورت پڑی اور اپنے ایک دوست کے پاس سونا گروی رکھنا پڑا۔ ایسے میں نثار کو قرض مانگنے میں ہچکچاہٹ ہوتی تھی، اور قرض نہ ملنے کا اندیشہ بھی بنا رہتا تھا، لیکن سنگھمم ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی لمٹیڈ سے جڑنے کے بعد نثار کی زندگی سے غیر یقینی صورت حال ختم ہو گئی، اور اب وہ خود دوسرے لوگوں کو چھوٹے چھوٹے قرض دے کر مدد کرنے کے اہل ہو گئے ہیں۔
یاسین فٹ ویئر اینڈ بیگس نثار کی نئی دکان ہے۔ ان کی دکان کا ماہانہ کرایہ ساڑھے چار ہزار روپے ہے، اور اس کے لیے انھیں پچیس ہزار کی پیشگی رقم جمع کرنی پڑی تھی۔
اس دکان کے نام کے ساتھ فٹ ویئر تو شروع سے ہی جڑا تھا، مگر شروعات میں یہ صرف اسٹیشنری اور فینسی آئٹمس کی دکان تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ نثار نے دکان میں فٹ ویئر آئٹمس بھی رکھنے شروع کیے۔ اس سے پہلے وہ کوچی کے ایڈا پلی میں پارٹنرشپ پر فٹ ویئر ہی کی ایک دکان چلاتے تھے، جو اس علاقے میں میٹرو ریل کا کام شروع ہونے کے بعد ٹوٹ گئی۔ اس کے علاوہ، ماضی میں نثار ایک فٹ ویئر شاپ میں سیلس مین کا کام بھی کر چکے تھے۔

سنگھمم سے ممکن ہوئی قرض کی فراہمی

قریب چار سال پہلے اپنے گاؤں میں ہوئی ایک نشست میں انھیں سنگھمم کے کام کاج کے بارے میں جانکاری ملی۔ اس نشست سے تقریبا چھ مہینے کے بعد وہ سنگھمم کے ممبر بنے۔ سنگھمم کا ممبر بننے سے پہلے یا اس کے بعد ابھی تک نثار کا کسی بینک میں کوئی کھاتہ نہیں ہے۔ نثار کا کہنا ہے کہ بینک سود لینے اور دینے کا کام کرتے ہیں، اور ایسا کرنا ان کی مذہبی تعلیمات کے مطابق غلط ہے۔ اس لیے انھوں نے کبھی بینک میں کھاتہ کھلوانے میں دل چسپی نہیں دکھائی۔حالانکہ بعد میں ضرورت پڑنے پر ان کی بیوی کا بینک میں کھاتہ کھولا گیا،یہ کھاتہ ابھی گیس سبسڈی اور اس جیسے کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
نثار کے مطابق قرض دینے والے دوسرے ادارے بہت ساری مشکلات کھڑی کرتے ہیں۔ مشکلات سے نثار کی مراد خصوصاً سود کی اونچی شرح ہے۔ نثار بتاتے ہیںکہ میری بیوی کے بھائی نے گھر بنانے کے لیے بینک سے قرض لیا تھا، مگر سود کی شرح اتنی زیادہ تھی کہ وہ لمبے وقت تک صرف سود ہی چکاتے رہے،اور اصل قرض جوں کا توں باقی رہا۔ آگے چل کر جب انھوں نے خلیج میں نوکری کی، ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا، تب جاکر وہ قرض واپس کر پائے،اور ان کی پہلی ہی بچت ان کے لیے سرمایہ بن گئی۔
سنگھمم کا ممبر بننے کے بعد نثار نے سب سے پہلے ایک بچت کھاتہ شروع کیا۔ یہ کھاتہ انھوں نے تقریبا ًچھ مہینے چلایا۔ اس کھاتے میں اپنی یومیہ آمدنی میں سے سو سے تین سو روپے تک روزانہ جمع کرنا شروع کیا۔ بچت کرنے کا ان کا یہ پہلا تجربہ تھا،اور دھیرے دھیرے یہی بچت ان کے کاروبار کے لیے سرمایہ کا ایک ذریعہ بن گئی۔ اس سرمائے سے انھوں نے دکان میں عورتوں اور مردوں کے چپل، اسکول بیگ اور جوتے، اور اسٹیشنری جیسی مختلف چیزوں کے اسٹاک میں اضافہ کیا۔ بالخصوص عید اور دیگر موقعوں پر وہ دکان میں بہت زیادہ سامان لانے لگے۔ ان کی دکان ان کی روزانہ کی بچت کی بدولت ہی بھری پری دکھنے لگی۔
قریب دو سال پہلے نثار نے اپنا پہلا قرض لیا تھا، یہ قرض انھوں نے ایکٹوا بائیک خریدنے کے لیے لیا تھا، اس بائیک سے وہ کالج اور دوسری جگہوں پر لیڈیز بیگ کی سپلائی کیا کرتے تھے۔ جب وہ اس کام سے فیلڈ میں ہوتے تو ان کی بیوی دکان سنبھالا کرتیں۔ اس طرح اپنے پہلے قرض کی مدد سے نثار نے اثاثہ بھی بنایا اور اپنے کاروبار کو بھی فروغ دیا۔

سنگھمم کے ذریعہ کاروبار کی ترقی ممکن ہوئی

س کے بعد نثار نے اپنا کاروبار بڑا کرنے کے مقصد سے سنگھمم سے پچاس ہزار کا دوسرا قرض لیا۔ نثار کی بیوی بھی سنگھمم کی ممبر ہیں، اور انھوں نے جو قرض لیا تھا ،وہ بھی بالواسطہ طور پر نثار کے کاروبار کے لیے ہی لیا گیا تھا۔ نثار جب اپنا پہلا قرض واپس کررہے تھے، اس وقت انھیں اپنے کاروبار کے لیے کچھ سرمائے کی ضرورت پڑی مگر وہ خود سنگھمم سے قرض لینے کی پوزیشن میں نہیں تھے، لہٰذا انھوں نے اپنی بیوی کے نام سے قرض لے کر اپنی وقتی ضرورت کو پورا کیا۔
اس قرض سے انھوں نے دکان میں کئی طرح کی اسٹیشنری اور زنانہ فینسی آئٹم رکھنے شروع کیے۔ یہ سنگھمم کے قرض سے ہی ممکن ہو پایا، کیوں کہ یہ سامان انھیں نقد خریدنے پڑتے۔ انھوں نے بتایاکہ میرے پاس پیسے نہیں تھے، مجھے لگاکہ قرض لے کر میں زیادہ مال سستی قیمت پر خرید پاؤں گا۔ اس سے میری دکان پر زیادہ خریدار آئیں گے، اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ نثار کاکہنا ہےکہ میرے کاروبار کی ترقی سنگھمم کے ذریعہ ہی ممکن ہوپائی۔
بیوی کے نام پر لیے گئے قرض کو ملا کر انھوں نے اب تک کل تین قرض لیے ہیں۔ اس میں دو بار پچاس ہزار اور ایک بار پچھتر ہزار کا قرض ہے۔ فی الوقت وہ پچاس ہزار کا اپنا تیسرا قرض واپس کررہے ہیں ،اور اب تک تقریباً آدھی رقم واپس کرچکے ہیں۔

بچوں کو دے رہے ہیں بہتر تعلیم

ٓمدنی بڑھنے سے انھوں نے اپنی دکان کو اور بہتر بنایا، دکان کے فرش میں ٹائلس، سامنے کے حصے میں شیشے کا دروازہ اور کئی پارٹیشن لگوائے۔ اب دکان میں اسٹیشنری، جوتے چپل اور فینسی آئٹم کا زیادہ اسٹاک رہتا ہے۔ ان کی آمدنی بڑھ گئی ہے۔ آمدنی بڑھنے سے نثار نے اپنے گھر کی مرمت کروائی اور گھر میں غسل خانہ بھی بنوایا۔ ان کا گھر دکان سے چار کلومیٹر دور ہے۔
آمدنی بڑھنے سے نثار اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلا پارہے ہیں۔ اب ان کے بچے پاس کے ایک شہر مناپورم کے ایک پرائیویٹ اسکول کے ہاسٹل میں رہ کر پڑھتے ہیں۔
حالانکہ نئی دکان شروع کرنے کے لیے انھیں اپنے گھر کے کچھ زیور بیچنے پڑے تھے، جو وہ ابھی تک واپس نہیں خرید پائے ہیں۔
سیلس مین کے طور پر نثار جوتے چپل کی مرمت کرنے والوں کو سامان پہنچاتے تھے۔ ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے وہ خود بھی جوتوں کی مرمت کا کام سیکھ گئے۔ یہ ہنر آج ان کے کام آرہا ہے اور اس سے بھی وہ قریب دو سو روپے روز کمالیتے ہیں۔ یہ کمائی وقت کے ساتھ ان کی کم ہو چکی آمدنی کی تھوڑی بہت بھرپائی کردیتی ہے۔ دراصل پہلے نوٹ بندی اور پھر سیلاب کے بعد ان کی دکان پر بِکری کم ہو گئی تھی۔ یہ حالت اب بھی بہتر نہیں ہوپائی ہے۔ نثار بتاتے ہیںکہ پہلے کے مقابلے میں بِکری آدھی رہ گئی ہے۔ پہلے اگر تین ہزار کی بِکری ہوتی تھی تو اب ڈیڑھ ہزار کی ہی ہو پاتی ہے۔

بینک کا قرض چکانے کی اسکیم شروع ہونی چاہیے

نثار اگلا قرض بھی اپنا بزنس بڑھانے کے لیے لینا چاہتے ہیں۔ نثار ایک لاکھ روپے کا قرض لینے کے خواہش مندہیں ،تاکہ وہ دکان میں زنانہ اور فینسی آئٹم کا اسٹاک بڑھا سکیں۔

نثار کہتے ہیں کہ پچھلی بار مجھے ایک لاکھ کا قرض نہیں ملا تھا۔ اس بار پھر اتنی ہی رقم مانگ کر دیکھوں گا، پوری رقم ملے گی یا نہیں، اس کا اندازہ مجھے نہیں ہے۔
نثار نے بیکری کی دکان چلانے والے اپنے پڑوسی دکان دار اور دیگر چار پانچ لوگوں کو سنگھمم سے جوڑا ہے۔ ان میں سے ان کے پڑوسی دکان دار اور کچھ دوسرے لوگوں نے قرض بھی حاصل کیا اور اسے مستعدی کے ساتھ واپس کررہے ہیں۔
نثار کے مطابق ضرورت پڑنے پر جب وہ سنگھمم سے قرض مانگتے ہیں تو یہ انھیں جلدی اور آسانی سے مل جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنگھمم سے قرض حاصل کرنے کے لیے معمولی کاغذی کارروائی کرنی ہوتی ہے، ساتھ ہی قرض کی واپسی کے لیے ملنے والی مدت اور اس پر لگنے والا سروس چارج بھی نثار کو بالکل مناسب لگتا ہے۔ سنگھمم کی سالانہ میٹنگ کے لیے ان کو دعوت نامہ بھی پابندی سے ملتا ہے اور سنگھمم کی سالانہ رپورٹ بھی پابندی سے مل جاتی ہے۔ چوں کہ سالانہ میٹنگ دوسرے شہر میں منعقد ہوتی ہے، اس لیے نثار ابھی تک کسی بھی میٹنگ میں وقت کی کمی کی وجہ سے شامل نہیں ہو پائے ہیں۔ نثار کہتے ہیں کہ اگر ان کو کسی سالانہ میٹنگ میں جانے کا موقع ملا تو وہ یہ مشورہ دیں گے کہ ان کے دوست اور ان جیسے دیگر لوگ بینک سے قرض لینے کے بعد قرض لوٹانے کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کا سبب بینک کی اونچی شرحِِ سود ہے۔ سنگھمم کو ایسے لوگوں کے لیے ایک ایسی اسکیم شروع کرنی چاہیے، جس کے ذریعہ سے وہ بینک کے قرض کو واپس کرسکیں اور اپنی پریشانیوں سے باہر نکل سکیں۔

سود پر قرض لینا پسند نہیں

نثار کے سسر سنگھمم کے کام سے بہت متأثر ہیں۔ اتنے زیادہ کہ پچھلے سال کے سیلاب کے بعد انھیں جب حکومت سے دو لاکھ روپے کی رقم معاوضے کے طور پر ملی تو انھوں نے یہ ساری رقم سنگھمم میں جمع کرا دی۔ ایسا کرنے کے پیچھے ان کی سوچ یہ تھی کہ یہ ڈیپازٹ دوسرے ضرورت مند لوگوں کے کام آئے گا۔
نثار کو امید ہے کہ مستقبل میں انھیں سنگھمم سے بڑا قرض ملے گا۔ نثار کے مطابق انھوں نے چند مرتبہ سنگھمم سے ایک لاکھ تک کا ذاتی قرض مانگا، مگر انھیں پچاس ہزار کا ہی قرض مل سکا۔
میں نے نثار سے پوچھا کہ پراپرٹی اور دکان کے ہوتے ہوئے بھی اگر انھیں سنگھمم سے بڑا لون نہیں مل سکا تو کیا وجہ ہے کہ وہ اپنی دکان اور پراپرٹی کی گارنٹی پر بینک سے قرض نہیں لینا چاہتے؟
اس سوال کے جواب میں نثار نے کہاکہ بڑا قرض نہیں مل پانا ایک ایشو ہے،لیکن اس کے باوجود میں سود پر قرض دینے والے بینک اور اس جیسے دیگراداروں سے قرض لینا کبھی پسند نہیں کروں گا۔

٭ ٭ ٭

Comments From Facebook

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے