ملکی و عالمی منظرنامہ

ملکی منظر نامہ
نیم حکیم خطرۂ جان
قارئینِ کرام! گذشتہ ماہ سے ملک عزیز میں میڈیکل طلبہ کے لیے داخلہ امتحان NEET 2024 کے نتائج کو لے کر کشیدگی چھائی ہوئی ہے اور یہ موضوع فی الحال ہر عام و خاص کوزبان زد ہے۔ درحقیقت اس پورے معاملے میں امتحانی عملے کی دیانت داری پر کئی سنگین سوالات کھڑے ہورہے ہیں۔ نیٹ وہ امتحان ہے جس میں ہر سال لاکھوں طلبہ تن من دھن کے ساتھ میدانِ عمل میں کود پڑتے ہیں اور اس سال تقریباً 25 لاکھ سے زیادہ طلبہ اس امتحان میں شریک تھے، جو اپنے آپ میں ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ ایک طرف جہاں طلبہ کی اتنی غیر معمولی تعداد تھی وہیں دوسری طرف نتائج کا اعلان ہوتے ہی ایک طوفان سا اٹھا۔ اولاً تو نتائج کا اعلان 4 جون کو کیا گیا، اسی دن لوک سبھا الیکشن کے نتائج کا اعلان بھی ہونا تھا ۔تحقیقی نگاہوں نے اس عمل کو ’’سازش‘‘ کے زمرے میں لیا ہے۔ ایسا اس لیے بھی کیا گیا تاکہ لوگوں کے اذہان کو منتشر کردیں۔
ثانیاً ایک حیران کن بات یہ ہے کہ ہر سال ایک یا دو طلبہ نیٹ امتحان میں فل مارکس لے کر اول رہتے تھے مگر اس سال AIR-1 آل انڈیا رینک تقریباً 60 سے زائد طلبہ کو ملا جو ہرگز قابلِ قبول بات نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس پوری لسٹ میں 6 طلبہ ایسے تھے جن کا سینٹر ایک ہی تھا۔ تفتیشی کاروائی کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی کہ سوالیہ پرچہ تقریباً 3 لاکھ روپے میں بیچا گیا۔ اس پورے تنازعے میں وہ طلبہ بھی ہیں جو اپنے رزلٹ سے مطمئن نہیں ہیں، وہ بھی ہیں جنھیں 618 اسی خطوط پر مارکس ملے ہیں جو ممکن ہی نہیں ہے، کیوں کہ نیٹ کے پرچے میں پوچھا جانے والا ہر سوال 4 مارکس کا ہوتا ہے، لہٰذا تحقیق کے مطابق جن سینٹرز پر امتحان تاخیر سے شروع ہوا انھیں Grace marks دیے گئے ہیں‌۔
حقیقت میں یہ پورا معاملہ ناقابلِ یقین حد تک الجھا ہوا ہے، جس میں انتظامیہ پر کارروائی چل رہی ہیں۔ یہاں قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ یہاں لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر ہے‌۔ ان میں وہ طلبہ بھی ہیں جنھوں نے اس امتحان کو سر کرنے کے لیے سالوں سے محنت کی ہے۔ وہ بھی ہیں جن کی مالی حالت درست نہیں ہے، باوجود اس کے انھوں نے نیٹ کا امتحان دیا اور اب جب ReNeet اور ReExam جیسی صدائیں بلند ہورہی ہیں تو ان کے بلند عزائم پر گہری ضرب لگ رہی ہے۔ واضح رہے کہ ملک کے بیش تر علاقوں میں ’’نیٹ کا امتحان دوبارہ لیا جائے!‘‘ یہ مانگ کی جارہی ہے۔ وہ امتحان جو قابلیت و اہلیت کی بنیاد پر تھا، روپیوں میں بک گیا اور لاکھوں بے قصور لوگوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان دے گیا۔ جب ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے شروعاتی مرحلے میں ہی پیسہ بولنے لگے تو قابلیت سولی چڑھ جاتی ہے اور مستقبل ایسے حکیموں کے ہاتھ میں دینا انسانیت کے ساتھ نا انصافی ہے، کیوں کہ سب جانتے ہیں :’’نیم حکیم خطرۂ جان۔‘‘
یہ قتل ہے انسانیت کا!
آسام میں ہوا واقعہ بھی غور طلب ہے۔ جب دو برادران کو پولیس نے اپنے دفاع کے لیے گولی مار دی۔ تفصیل کے مطابق سمیرالدین اور جلیل الدین یہ افراد جو آپس میں بھائی تھے اس وقت مارے گئے جب انھوں نے مبینہ طور پر لاخووا وائلڈ لائف سینکچری میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کی۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے اس کو’’جعلی انکاؤنٹر‘‘ قرار دینے کے الزامات ہیں۔ دریں اثناء آسام کے وزیر اعلى ہمانتا بسوا سرما نے چیف سکریٹری کو واقعہ کی تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔
علاقے کے کانگریس ایم ایل اے نورالہدیٰ جنھوں نے متوفیان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا، انھوں نے اس معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرے۔ اگر انھوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی تو انھیں ٹانگ میں گولی مار دی جانی چاہیے تھی۔ محکمۂ جنگلات کو جواب دینا ہوگا کہ انہوں نے ان دو غریب ماہی گیروں کو کیوں مارا؟ اور خاندان کو معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، مقامی پولیس حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ زیرِ بحث دونوں افراد غیر قانونی ماہی گیری کی سرگرمیوں کے لیے آدھی رات کے قریب علاقے میں داخل ہوئے تھے۔ مقامی پولیس حکام نے مزید کہا کہ جب فاریسٹ گارڈز نے انھیں دیکھا تو انھوں نے مبینہ طور پر موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی اور اہلکاروں کو فائرنگ کرنے پر مجبور کیا۔
یہ پورا واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کردیتا ہے کہ کس نہج پر جانیں لی جارہی ہیں؟ اگرچہ وہ غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے تو پکڑنے کے لیے دوسرے اقدامات کیے جاتے۔ یہ کون سا قانون ہے کہ جان لے لی جائے؟
یہ ہے ان کی نفرت کی دکان!
ایک اور واقعہ جس میں یوپی میں خوشی نگر ضلع پولیس نے ایک گراؤنڈ میں عید الاضحی کی نماز ادا کرنے پر 11 مسلمانوں کو گرفتار کر لیا، جن میں بچے اور بوڑھے تک شامل ہیں۔ جن علاقوں میں مساجد اور عید گاہوں کی جگہ محدود تھی، اس سال مختلف شفٹ میں نماز ادا کی گئی۔ خوشی نگر کے مقامی مسلمانوں نے بتایا کہ عید گاہ نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے کھلے میدان میں نماز عید ادا کی جو گرام سبھا کا تھا اور اسی کی پاداش میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مخصوص زمین جو گرام سبھا کی تھی وہاں نماز پڑھنے کے لیے لوگوں نے زمین کے ایک حصے کی درخواست کی تھی، جسے رد کردیا گیا تھا پھر بھی وہاں نماز ادا کی گئی۔
حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ کے مطابق، غیر متوقع حراست نے ان کی روزمرہ کی زندگی کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک خاتون نے بتایا کہ پولیس کی طرف سے یقین دہانی کے باوجود کہ حراست میں لیے گئے افراد کو بیانات دینے کے بعد فوری طور پر رہا کر دیا جائے گا، کئی دن گزر چکے ہیں اور وہ زیر حراست ہیں۔ متاثرہ خاندان کے ایک اور رکن نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں میرے بوڑھے والدین اور چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔ پولیس آدھی رات کو جھپٹ پڑی اور انھیں لے گئی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ناانصافی اور زیادتی کی حدیں عبور کر لی گئی ہیں۔
عالمی منظرنامہ
کثیر تعداد میں حجاج کرام کی موت
ہر سال کی طرح امسال بھی فریضہ ٔحج ادا کرنے کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں زائرین کا سیلاب امڈ پڑا۔ ارکانِ حج کی تکمیل کے دوران شدید گرمی کے سبب کئی حجاج اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ تفصیلات کے مطابق درجۂ حرارت 51.8 ڈگری سے تجاوز کرگیا تھا جس کے سبب 1300+ حجاج کرام مالک حقیقی سے جاملے۔ تاہم سعودی وزارت نے دعویٰ کیا ہے کہ جاں بحق افراد میں زیادہ تر وہ شامل ہیں جو غیرقانونی طریقے سے حج کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ تمام حجاج جنھوں نے اس قدر شدید گرمی میں تمام ارکان و عبادات احسن طریقے سے انجام دیئے، اللہ ان کی کوششیں قبول کرے۔
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
انبیاء کی سرزمین فلسطین میں تقریباً 10 ماہ سے جاری ظلم و تشدد شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ہماری آنکھوں نے ان تمام کربناک مناظر کی گواہی دی ہے جنھیں دیکھنا بھی جگر کا کام تھا۔ حال ہی میں ظالموں نے ظلم کی وہ حد پار کی ہیں کہ پوری انسانیت شرمندہ ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی وہ تصویر جس میں غاصب اسرائیلیوں نے ایک معصوم اور بوڑھی فلسطینی خاتون پر خوف ناک، خطرناک اور بھوکا کتا چھوڑ دیا ہے۔ ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنا مکان نہ چھوڑنے پر بضد تھی۔ ظالموں کے اس عمل سے کل عالم میں غم و غصے کا شدید شعلہ بھڑک رہا ہے۔ فلسطینیوں پر اس قدر مشکلیں اور آزمائشیں آئیں مگر خدا کے یہ برگزیدہ بندے ’’حسبنا اللہ و نعم الوکیل‘‘ کا ورد کرتے ہوئے ہر آزمائش میں سرخ رو ہوگئے ہیں۔ ملعون اسرائیل ہمارے ایمانی بھائیوں اور بہنوں کے ایمان کا بال بھی بیکا‌ نہ کرسکا اور یہی اس کی شرم ناک شکست ہے۔

٭ ٭ ٭

Comments From Facebook

1 Comment

  1. انوار سلیم

    اختصار کے ساتھ مختصر خبروں کو پیش کرنے کا یہ سلسلہ خوب ہے
    بہت خوب انشاء

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے