مٹی کے رنگ

حسن انتخاب کا اصل مظہر یہ ہے کہ نگاہ تفریق کو وجہ بنائے بغیر خوب صورت باطن کا انتخاب کرے۔ وہ تفریق کہ جو دلوں میں فاصلے، رویوں میں تلخیاں، اور وجود میں بدنما داغ پیدا کرے اور انسان کو انسانیت سے گرا دے ؛انتہائی بدصورت ہے۔ مٹی کی خوش بو، اجزائے ترکیبی ،اس کا مزاج، رنگ، احساس مختلف ہے لیکن ہے تو مٹی ہی۔ وہ مٹی کہ جس کے بطن سے زندگی کے چشمے پھوٹتے ہیں، وہ مٹی کے جو زندگی کے چاک کو حرکت دینے کےلیے ہر رنگ اور قسم میں ہمیں مطلوب ہے۔‌لیکن یہی مٹی جب ایک وجود کے قالب میں اپنی انفرادیت، رنگا رنگ مزاجوں، احساسات کے ترنگوں اور مختلف امنگوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے تو حیف کہ ہماری نگاہ اس کی رنگت اور نسل پر اٹک جاتی ہے اور ہم اسے اپنے سرآنکھوں پربٹھاتے جو ہمارے نام نہاد بنائے گئے پیرائے میں پورے اترتے ہیں ،اور ان تمام تر خوب صورتیوں اور خوبیوں کو جو کہ ہر قسم اور رنگ میں میسر ہیں، ان پرنگاہ غلط ڈالنا بھی پسند نہیں کرتے، کجاکہ پہلو میں جگہ دے سکیں۔ رنگت اور نسبت میں فرق ایک سالم وجود کو محض اس کے ظاہر کی بناء پر جھٹلانے کے مترادف ہے۔ اس کی تمام تر خوبیوں کی نفی ہے، اس کی انفرادیت سے انکار ہے، اور اس تفریق کو ہم جی کا جنجال بنا دیتے ہیں،جب کہ یہ ایک ہی مٹی کے کئی رنگ ہیں، دل فریب و خوب صورت رنگ، انوکھے اور پیارے رنگ!
وہ جس نے اس مٹی کو ہیئت بخشی ،اپنے انداز سے سنوارا اور گویا ہوا کہ میرے نزدیک تو وہی محبوب ہے جس پر تقویٰ کا رنگ چڑھا ہو۔ نہ ہی مٹی کی ہیئت، کاری گری اور نہ ہی رنگوں کا اختلاف میرے نزدیک معیار کے ضابطے ہیں۔ نہ عربی کو عجمی پر فوقیت نہ ہی عجمی کو عربی پر، یوں کہ مختلف سانچے بنائے اور توڑ ڈالے کہ یہ معیارِ مطلوب نہیں۔ نہ کالے کو گورے پر نہ ہی گورے کو کالے پر فوقیت، رنگ چڑھے تو صرف میری محبت اور خشیت کا رنگ۔ وہ مٹی جو میری آبِ محبت کو اپنے اندر جذب کرکے اپنے ہر کاز کو میرے رنگ کےلیے خالص کرلے اور اس سے جو گارا بن کر تیار ہوگا اس سے بنیں گے حسین و خوب صورت ظرف اور کوزے۔ خالق کی محبت کو خالص کرکے اور اس کے رنگ میں رنگ کر حسن کی اعلیٰ مثال وہ حبشی غلام جو عرب کے صحراؤں میں بستا تھا۔ وہ غلام جس نے وفاؤں کے سارے حق ادا کیے، جس کا مقام بارگاہ خالق کے حضور بلند ترین ٹھہرا۔ دنیا نے ٹھکرایا، غلام بنایا، لیکن تقویٰ اور حب کے رنگ کے مقابل سب رنگ ہیچ ہوگئے۔ جب خالق کائنات وہ ذات اکبر جو جاہ و جلال میں یکتا ہے، جمیل ہے، حسن اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے، اس کی نظر میں کوزے کے گارے جذب آبِ محبت سے سروکار ہے اس پر منقش نقش و نگار بیل بوٹے، رنگ، ہیئت اور مٹی کی قسم اس کے نزدیک اہمیت نہیں رکھتے۔
کیوں کر ہماری نگاہیں بھی اس نام نہاد مصنوعی صناعی کی چکاچوند میں الجھ جاتی ہیں اور پھر تفریق کے ضابطوں کے مطابق ہم بدصورتیوں کو وجود میں لاتے ہیں اور اس دنیا کو ایک بدشکل ہیئت میں تبدیل کردیتے ہیں ،جہاں صرف فاصلے، تلخیاں اور کدورتیں پنپتی ہیں۔ اگر اس جہاں کو جنت کدہ بنانا ہو تو اپنی نگاہوں میں خوب صورتی و بدصورتی، قبولیت و مسترد کرنے کا وہ معیار بنانا ہوگا جو خالق کائنات کا ہے۔ جو رنگ و نسل سے بالا تر اخلاص، محبت، ایثار، مکارم اخلاق اور حسن معاملات کو ترجیح دیتا ہے۔

٭ ٭ ٭

Comments From Facebook

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے