پشیمانی

کچھ عرصےپہلے لکھا تھا کہ زندگی Grow ہونے کا دوسرا نام ہے، جیسے جامن کا کوئی ننھا سا پودا، جب وہ بڑا ہوا تو اس کی جڑیں زمین میں گہری اور مضبوط ہوتی گئیں۔ وہی جامن کا درخت جو موسم گرما کی سخت دھوپ برداشت کرنے کے بعد پہلی بارش میں ہی خوش نماپھل پیدا کردیتا ہے، جن میں کچھ خراب ہوتے ہیں تو کئی بہترین۔ اس کی توانائی کا راز اس پر پڑنے والی شفاف پانی کی بوندیں اور بہترین سورج کی روشنی ہوتی ہے۔ بالکل ایک عظیم شخص کی روح کی مانند، اور اس روح کی حیات کچھ صفات چاہتی ہیں، سیلف کلینلینیس، جیسے گناہوں سے کنارہ کشی اور پچھلی خطاؤں پر شرمندگی۔
خود سے سرزد خطاؤں اور گناہوں پر پشیمانی، یہ احساس،اس رب کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ وہ ہدایت ہے جس کے پانے کے بعد انسان کو برائیوں سے عار محسوس ہونے لگتا ہے، یہ اعلیٰ کردار کی طرف پہلا قدم ہے، یہ خود آگاہی کا وردان ہے، اورسب سے بڑھ اللہ کی محبت ہے۔جب کبھی ہم اپنے کیے گئے گناہوں کا سوچ کر خود سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں کہ اس طرح کی نازیبا حرکت ہم سے کیسے ہو سکتی ہے ؟ اس وقت وہ اللہ آپ کے قریب ہوتا ہے، وہی آپ کے دل میں یہ احساس ڈالتا ہے اور تب آپ کا روم روم ان احساسات کے شکر سے لبریز ہوتا ہے ۔اس عہد کے ساتھ کہ آئندہ ایسے گناہ کرنے کا خیال بھی دل میں نہیں لایا جائے گا۔
کیوں کہ یہ بھی سچ ہےکہ باقی کچھ نہ بھی ہو، مگر بندے کے دل میں اللہ کا خوف ہونا چاہیے۔ بلاشبہ خوف ہوگا تو گناہوں کے کرنے سے رکے گا، خوف ہوگا تو اپنے گناہوں سے توبہ کرے گا۔ اللہ کا ڈر جواب دہی کا احساس اس کے اندر پیدا کرے گا، پھر وہ ایک ایک قدم سوچ سمجھ کر رکھے گا، کیوں کہ اللہ کا ڈر اسے پھسلنے سے بچائے گا، اس کا ایمان اسے غلط کام کرنے کی طرف کبھی راغب نہیں کرے گا، اس لیے تو تقویٰ اختیار کرنے والوں کے نام جنت لکھ دی جاتی ہے، کیوں کہ یہ متقی لوگ پرہیز کرتے ہیں ،ہر اس بات سے جو اللہ کو نا پسند ہے، یہ اللہ سے اور تمام گناہوں سے ڈرتے ہوئے زندگی گزار دیتےہیں۔ پھر اللہ ان پر توبہ کے پھول برسانے لگتا ہے،’’ قبول شدہ توبہ ‘‘ سے زیادہ خوب صورت نعمت شاید ہی کوئی ہو۔
پس یقین جانیں! گناہوں کا مرتکب انسان اپنے رب کے حضور پسندیدہ بن جاتا ہے، جب وہ اپنی خطاؤں پر سچے دل سے توبہ کرتا ہے۔ وہ توبہ جس کے قبول ہونے پر اللہ ہم سے ہماری تمام برائیوں کو دور کر دے گا۔ ہاں، ایسا ہو سکتاہےہم واپس پاک و شفاف ہو سکتے ہیں ،بالکل ایک نومولود بچے کی طرح، ہر برائی ہر گناہ سے پاک، مگر اس کے لیے توبۃً نصوحاًدرکار ہے۔’’نصح‘‘ کا معنی ہے ایسا خالص شہد جو تمام آلائشوں سے پاک ہو۔ تو دراصل یہ ایک ایسی شفاف توبہ ہے جس میں نہ نفاق ہے نہ ریاء ، یہ تو بس اپنے رب کے سامنے اپنے گناہوں پر ندامت، واپس اس گناہ کو نہ کرنے کا عزم اور آخر میں اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں گھلا دینےکانام ہے۔ ہاں، یہ آسان نہیں مگر خود کو پاک کرنا چاہتے ہو تو توبۃً نصوحاً کے علاوہ کوئی دروازہ نہیں اور یہ دروازہ موت کے فرشتے کی آمد تک کھلا رہے گا۔ وقت اب بھی ہے، بچا لو اپنے آپ کو!
در حقیقت انسان کی سب سے بڑی گم راہی تو یہ ہے کہ اس کے برے اعمال بھی اسے خوش نمالگیں، اور یہی چیز اس کے Growth کی سب سے بڑی دشمن ہے۔

٭ ٭ ٭

Comments From Facebook

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے