کھلی سفاکیت اور صرف امن کی باتیں

امام جرجانی رحمۃاللہ علیہ کا کہنا ہے:
العدل الأمر المتوسط بین الإفراط والتفریط.
(عدل اِفراط و تفریط کے درمیان متوسط کام کو کہتے ہیں ۔)
اسلام دین فطرت ہے۔ فطرت خواہ انسان سے متعلق ہو یا کائنات سے، اس میں حسن توازن، تناسب اور اعتدال کا نقش بہت واضح اور نمایاں ہے۔ عدل صفاتِ الہیہ میں ایک ممتاز صفت ہے جس کا اظہار حیات اور آفرینش کے تمام تر مظاہر میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کائنات کی مختلف مخلوقات اور مظاہر فطرت، عدل کے باعث موجود و برقرار ہیں۔ انسان چوں کہ اشرفُ المخلوقات ہے، اس باعث اسے عدل کو سمجھنے اور اختیار کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
عدل اصل میں عربی لفظ ہے۔ اُردو میں اس کا ہم معنی’’انصاف‘‘، انگریزی میں “Justice” اور عبرانی میں’’ صداقاة‘‘ اور’’ مشپاط‘‘ ہے۔
ایڈورڈولیم لین کے مطابق اُمورومعاملاتِ قضا میں درست اور برابری کا رویہ اختیار کرنے کو عدل کہتے ہیں ۔ عدل کے مختلف معنوں میں سے ایک معنی ‘برابر اور یکساں بھی ہیں ۔

عدل و انصاف کے معنی یہ نہیں کہ ہر کسی کے پاس سب کچھ یکساں مقدار میں ہو۔ انصاف کے معنی یہ ہیں کہ سب کو یکساں مواقع فراہم ہوں۔ سب کے حقوق یکساں ہوں۔ ہر ایک کو پیش قدمی اور ترقی کے مواقع سے استفادے کا بھرپور موقع ملے۔
عالمی عدل کا دن ہر سال 17 جولائی کو بین الاقوامی انصاف کے مضبوط نظام کو تسلیم کرنے اور متاثرین کے حقوق کو فروغ دینے کے لیے منایا جاتا ہے۔ یہ 17 جولائی 1998 ءکو روم کے قانون کو اپنانے کی سال گرہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی عدالت خصوصی طور پر لوگوں کو انسانیت کے خلاف نسل کشی کے جرائم، جنگی جرائم اور جارحیت کے جرم سے بچانے کی کوشش کرتی ہے۔
عالمی عدالت دو طرح کے مقدمات پر فیصلے دے سکتی ہے۔ ان میں ایک نزاعی معاملات ہیں، جنھیں ممالک کے مابین قانونی تنازعات کہا جا سکتا ہے، جب کہ دوسرےمشاورتی قانونی کارروائی کہلاتے ہیں۔ یہ اقوام متحدہ اور دیگر مخصوص اداروں کی جانب سے قانونی معاملات پر طلب کردہ مشاورتی آراء ہوتی ہیں۔
تین سال قبل ایک مقدمے نے عالمی توجہ حاصل کی تھی، جس میں عدالت نے میانمار کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی اقلیتی روہنگیا آبادی کو تحفظ مہیا کرے۔ یہ مقدمہ افریقی ملک گیمبیا نے درج کرایا تھا۔ اس میں تب میانمار کی حکومت کی رہنما آنگ سان سو کی بھی اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوئی تھیں۔

’’آئی سی جے ‘‘اور’’آئی سی سی‘‘ میں کیا فرق ہے؟

عام طور پر جرائم کی عالمی عدالت (آئی سی سی) اور عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کو ایک ہی ادارہ سمجھ لیا جاتا ہے، تاہم ان میں فرق ہے اور وہ یہ کہ آئی سی جے میں ممالک کے خلاف مقدمات دائر کیے جاتے ہیں، جب کہ آئی سی سی جرائم پر فیصلہ دینے والی عدالت ہے۔ یہ جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد کے خلاف مقدمات سنتی ہے۔
دونوں میں ایک اور فرق یہ ہے کہآئی سی جے اقوام متحدہ کا ادارہ ہے جب کہ ‘آئی سی سی قانونی طور پر اقوام متحدہ کا حصہ نہیں۔ (تاہم اس کی توثیق جنرل اسمبلی نے ہی کی ہے۔)
اقوام متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک آئی سی سی کے فریق نہیں ہیں، تاہم یہ کسی بھی رکن ملک یا عدالت کے دائرہ ٔاختیار کو تسلیم کرنے والے ملک کے شہری کی جانب سے یا اس کی سرزمین سے ہونے والے مبینہ جرائم کی تحقیقات کر سکتی ہے۔
‘آئی سی سی جنسی تشدد کے بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے سے لے کر بچوں کو جنگوں کے لیے بھرتی کرنے تک بہت سے جرائم پر مقدمات سننے اور فیصلہ دینے کی مجاز ہے۔

فلسطین کا معاملہ اور عالمی انصاف

سرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے مقدمے کی سماعت نیدر لینڈز کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں جاری ہے۔ اس موقع پر جنوبی افریقہ کی قانونی ٹیم نے عدالت کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر جنگ چھیڑنے کے بعد وہاں نسل کشی جیسے اقدامات کا ارتکاب کیا ہے۔
جنوبی افریقہ کی وکیل عدیلہ ہاشم نے عدالت میں کہا کہ غزہ کی 23 لاکھ آبادی پر فضا، زمین اور سمندر سے اسرائیل کے حملوں میں ہزاروں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں لوگوں کے گھر اور اہم تنصیبات تباہ ہو گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ غزہ کے فلسطینیوں کو ہر جگہ بے رحمانہ بم باری کا سامنا ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہےکہ بہت سے لوگوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جا رہا ہے۔ حملوں میں 60 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور معذور ہو گئے ہیں۔
یو این او کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بھوک اور بیماری کے نتیجے میں موت کے خطرے سے دوچار لوگوں کے لیے انسانی امداد کی فراہمی بھی روک رکھی ہے۔ متواتر بم باری کے باعث ان لوگوں تک مدد پہنچانا ممکن نہیں رہا۔
عدیلہ ہاشم نے کہا کہ لوگوں کو ان گھروں، پناہ گاہوں، ہسپتالوں، اسکولوں، مساجد، گرجا گھروں میں اور خوراک و پانی ڈھونڈنے کی کوشش میں ہلاک کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ انخلاء کے احکامات پر عمل کرنے میں ناکام رہیں تو انھیں ہلاک کر دیا جاتا ہے، اگر وہ اسرائیل کی طے کردہ محفوظ راہداریوں کے ذریعے نقل مکانی کریں تو تب بھی ان کے لیے سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

عرب ممالک کا رول

عرب ممالک اپنے اندرونی دباؤ، بین الاقوامی تعلقات اور انسانی ہم دردی کی کوششوں میں توازن قائم کرتے ہوئے جاری فلسطینی بحران میں مختلف کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر مصر کو دیکھا جائے تو مصر اپنی جغرافیائی اور سیاسی پوزیشن کی وجہ سے نمایاں طور پر فلسطین کے معاملات سے جڑا رہا ہے۔ اس نے غزہ تک انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت فراہم کی ہے جب کہ سیناء میں فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ مصر کی حکومت کو خدشہ ہے کہ اس طرح کی نقل مکانی خطے کو غیر مستحکم کر سکتی ہے اور ملک میں پہلے سے ہی چل رہے سنگین معاشی حالات کو مزید خراب کر سکتی ہے۔
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے اور فلسطینی ریاست کی حمایت کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کو مسئلۂ فلسطین پر اہم پیش رفت سے منسلک کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت دیگر عرب ممالک بھی انسانی امداد فراہم کرنے اور عرب لیگ جیسے سفارتی پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کی مزید نقل مکانی کو روکنے اور جاری تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی کارروائی پر زور دینے کے لیے سرگرم رہے ہیں ۔ان کوششوں کے باوجود، مختلف قومی مفادات اور خارجہ پالیسی کے نقطہ ٔنظر عرب ممالک کا ردعمل مکمل طور پر متحد نہیں رہا ہے۔ ہر ملک فلسطینیوں کی حمایت، علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے، اور مغربی اقوام، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کےلئے اپنے اقدامات میں توازن قائم رکھتاہے، یا یوں کہا جائے کہ یہ عرب ممالک فلسطین سے زیادہ اسرائیل کے ہم درد ہیں اور امریکہ سے ان کے تعلقات فلسطین میں ہو رہی تباہی سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔

مغربی ممالک کے طلبہ کا ردعمل

دنیا بھر کی یونی ورسٹیوں میں فلسطین کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں۔امریکہ میں، یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے طلبہ نے اپنی گریجویشن تقاریب میں فلسطین کی حمایت کے پیغامات شیئر کیے ہیں، کولمبیا یونیورسٹی لا سکول کے طلبہ کی گریجویشن تقریب میں کچھ فلسطینی حامی گریجویٹس نے اسکول انتظامیہ کے خلاف خاموش احتجاج کیا، دارالحکومت لندن میں کوئن میری یونیورسٹی کے طلبہ نے کیمپس میں خیمے لگا کر اسرائیل کے حملوں کے خلاف احتجاج کیا، سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف جنیوا کے طلبہ نے یونی ورسٹی کے ریکٹر کے دفتر کے ’’کیمپس کو خالی کرنے‘‘ کے انتباہ پر توجہ نہیں دی ، طلبہ نے فلسطین کی حمایت میں اپنے اقدامات کوجاری رکھاہے ، مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں امریکن یونی ورسٹی کے طلبہ نے بھی غزہ کے عالمی احتجاج میں شرکت کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ رفح حملوں کے ملبے میں بچوں کی لاشوں کی جھلکیاں امریکہ-نیٹو-یورپی یونین کی طرف سے قاتل ریاست اسرائیل کو دی گئی حمایت کا نتیجہ ہیں۔

کیا ذاتی یا ملکی مفاد کے لیے ظلم کا ساتھ دینا درست ہے ؟ (اسلامی نقطۂ نظر سے)

حضرت اوس بن شرحبیل رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سناکہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کےلیے اور اس کا ساتھ دینے کے لیےچلا اور اس کو اس بات کا علم تھا کہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا۔(رواہ البیہقی ۔ بحوالہ: معارف الحدیث،جلد: اول،صفحہ: 48)
جب ظلم کا ساتھ دینا، اور ظالم کو ظالم جانتے ہوئے اس کی کسی قسم کی مدد کرنا، اتنا بڑا گناہ ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو اسلام سے نکل جانے والا قرار دیا ہے، تو سمجھا جاسکتا ہے کہ ظلم خود ایمان واسلام کے کس قدر منافی ہے، اور اللّٰہ ورسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نزدیک ظالموں کا کیا درجہ ہے؟
ام المومنین ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ حذیفہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نےفرمایا:
’’یقیناً تم پر عنقریب ایسے حکمران بنائے جائیں گے کہ تم ان کے بعض اعمال کو پسند کرو گے اور بعض کو ناپسند کرو گے، پس جس شخص نے ان کے ناپسندیدہ کاموں کو( ناپسند کیا اورانکار کیا تو وہ )اس معصیت سے بچ گیا لیکن جو راضی ہوگیا اور پیروی کی تو وہ ہلاک ہوگیا۔‘‘(مسلم: 185463)
اس کے معنی ہیں کہ جس نے دل سے برا سمجھا اور اس میں ہاتھ یا زبان سے انکار کی طاقت نہیں تھی تو وہ گناہ سے بری ہو گیا اورا س نے اپنا فرض ادا کردیا اور جس نے اپنی طاقت کے مطابق انکار کیا تو وہ اس معصیت سے بچ گیا اور جو ان کے فعل سے راضی ہوگیا اور ان کی متابعت کی تو وہ گنہ گار ہے۔

٭ ٭ ٭

Comments From Facebook

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے