Nurture Life International Organisation کیCEO فرح سروش سے علیزے نجف کی ایک ملاقات

بےشک سچ ہے کچھ راستوں کا انتخاب ہم کرتے ہیں اور کبھی کبھی راستے ہمارا انتخاب کرتے ہیں، فرح سروش ایک ایسی ہی شخصیت ہیں جو کہ Social enterpreneur اور Mental health advocate ہیں۔ انھوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے انجینیئرنگ کرنے کے بعد جب پروفیشنل زندگی میں قدم رکھا تو انھیں احساس ہوا کہ وہ ایک بہترین سوشل ایکٹیوسٹ بن سکتی ہیں، بالخصوص ذہنی و نفسیاتی صحت کے میدان میں۔ ہمارے معاشرے میں تیزی سے بڑھتے مسائل اور اس سے پیدا ہونے والے اضطراب اور اپنی عزیز دوست کی خودکشی نے انھیں اس سمت پوری طرح متوجہ ہونے پر مائل کیا ،گویا اس راستے نے ان کو منتخب کرلیا۔
فرح سروش Nurture Life نامی آرگنائزیشن کی سی ای او ہیں جو کہ ایک Non profit international organisation ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں مثلاً امریکہ ، رومانیہ بنگلہ دیش، افریقہ، بھوٹان میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہا ہے، یہ ذہنی و نفسیاتی صحت پہ کام کر رہی ہیں، خاص طور سے جذباتی صحت اور خودکشی سے روک تھام کے لیے یہ ادارہ بہت ایکٹو ہے۔فرح سروش کو اتر پردیش کی سو بااثر خواتین کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، فرح سروش کی خدمات کے اعتراف میں انھیں اب تک کئی سارے اعزازت سے نوازا جا چکا ہے جن میں , swastha mitr award, The impact award, The Warrior award, The women’s leader award شامل ہیں۔
فروح سروش ایک Profilic write ہیں اب تک ان کی کئی کتابیں شائع ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں جیسے Humans of nurture Life, know your feelings, Fairy tales activity, Embrace emotions, وغیرہ ۔یہ ساری کتابیں مینٹل ہیلتھ کے حوالے سے آگہی پھیلانے کے لیے لکھی گئی ہیں۔ فرح سروش صاحبہ سے میں نے انٹرویو لیا، ان کی Expertise اور تجربات کی روشنی میں بہت سارے سوالات کیے، جیسے خودکشی کے پس پشت کارفرما عناصر، طلبہ پر بڑھتا ان دیکھا دباؤ، اسکرین ایڈکشن، نفسیاتی صحت کے حوالے سے معاشرتی شعور کی حقیقت وغیرہ وغیرہ، جس کا انھوں نے بہت خوش اسلوبی کے ساتھ جواب دیا۔ اس کارآمد گفتگو کا ماحصل آپ کے سامنے ہے، جو یقیناً ذہنی و نفسیاتی صحت کے متعلق آپ کو مزید حساس بنائے گا۔

آپ ہمیں خود سے متعارف کروائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کا بنیادی تعلق کس خطے سے ہے اور اس وقت آپ کہاں مقیم ہیں؟
فرح سروش:
میرا بنیادی تعلق دہلی سے ہے،اور وہی میرا آبائی وطن ہے۔میری ابتدائی تعلیم مودی گروپ آف اسکولز میں ہوئی، اور اس کے بعد میں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ شادی کے بعد میں لکھنؤ منتقل ہوگئی، میرے شوہر پروفیشن کے اعتبار سے ایک وکیل ہیں اور اللہ نے ہمیں دو بچوں کی نعمت سے نوازا ہے۔ لکھنؤ میں ہم اپنی زندگی خوشی خوشی گزار رہے ہیں۔

علیزے نجف:

آپ کا بچپن کس طرح کے ماحول میں گزرا اور کن شخصیات نے آپ کی ذہن سازی میں اہم کردار ادا کیا؟

فرح سروش:

میرا بچپن الحمدللہ معاشی اعتبار سے خوش حال اور تعلیم یافتہ خاندان میں گزرا ہے۔ میرے والد ایک بزنس مین ہیں جب کہ میری والدہ ایک ماہر تعلیم ہیں۔ ہمارے گھرانے میں ہمیشہ ہی بہت ہی آزاد ماحول رہا، جہاں مجھے مکمل طور سے آزادی سے سوچنے اور زندگی جینے کا موقع ملا، میرے والدین نے گھر کے ماحول میں تعلیم اور تہذیب کی آب یاری پر یکساں طور پہ توجہ دی، اس لیے میرے اندر بچپن سے ہی ننیہال اور ددھیال کی طرف سے ملنے والےاعلیٰ اخلاق و اقدار سرایت کر گئے تھے۔ اس ماحول نے مجھے ایک مضبوط، خود مختار، آزاد خیال ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین Observer بننے میں بہت مدد دی، میرے والدین ہمیشہ میرے رول ماڈل رہے ہیں اور ان کے ساتھ میرے مرحوم ماموں ساجد انصار نے بھی میری ذہن سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجھے کتابیں پڑھنا ہمیشہ سے پسند رہا۔علامہ اقبال، سر سید احمد خان، اندرا گاندھی، ملالہ یوسف زئی، مہاتما گاندھی، مدر ٹریسا اور میری کیوری وغیرہ؛ یہ وہ شخصیات ہیں جن کے نظریات، قوتِ ارادی، جدت پسندی، علم اور عملی کارکردگی نے مجھے بہت متاثر کیا ۔
میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری شادی سروش اقبال شمسی صاحب سے ہوئی، وہ ایک باشعور اور متحمل مزاج انسان ہیں، انھوں نے ہمیشہ میری نشوونما اور ترقی میں بغیر کسی رکاوٹ کے میری بھرپور مدد کی۔ میری ذہن سازی میں ان کا بھی ایک اہم کردار ہے، میرا ماننا ہے کہ سیکھنا ہمیشہ جاری رہنے والا عمل ہے ،ذہن سازی بھی اس کے ساتھ ساتھ جاری رہتی ہے۔

علیزے نجف:

آپ Mental health کے شعبے میں ایک نمایاں شناخت رکھتی ہیں ،انجینئرنگ کے شعبے سے نکل کر آپ اس سمت کیسے آگئیں اپنے اس passion کو پھر آپ نے کس کس طرح سے پروان چڑھایا ؟

فرح سروش:

پروفیشنل لیول پہ جب مجھے مختلف طبقے اور شعبے کے لوگوں سے تعلق بنانے کا موقع ملا، تو میں نے ایک بات کو شدت کے ساتھ محسوس کیا کہ آج کے دور میں اندر سے کوئی بھی خوش نہیں، جب کہ آج سے ایک دہائی پہلے کی زندگی کو میں تصور کروں تو اس وقت لوگوں کے پاس وسائل کم تھے لیکن وہ انھیں چھوٹی چھوٹی چیزوں میں خوشیاں ڈھونڈ لیتے تھے، یہ جذبہ و سوچ آج مفقود نظر آتا ہے، اس نے مجھے کافی کچھ سوچنے پہ مجبور کردیا۔
رہی بات کہ میں انجینیئرنگ کی فیلڈ میں کام کرنے کے بجائے نفسیات اور سوشل ورک کے شعبے میں کیسے آگئی تو اس ضمن میں یہ کہنا چاہوں گی کہ سوشل ورک ہمیشہ سے میری پسندیدہ فیلڈ رہی ہے، انجینیئرنگ کے بعد جب میں نے ملٹی نیشنل کمپنی کے ساتھ کام کیا تو مجھے مینٹل ہیلتھ کے شعبے میں ایک خلا کا احساس ہوا، میں نےObserve کیا کہ لوگ ذہنی دباؤ، فرسٹریشن، دکھ اور مایوسی کو مینیج کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں، اس کا اثر ان کی جاب پرفارمنس پر بھی پڑ رہا ہے، میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ خوشی اور سکون کے لیے ذہنی صحت کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے، اسے جامع تبدیلی کی ضرورت ہے، میں نے خوش حالی اور مینٹل ہیلتھ کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو سمجھنے اور اس سمت میں کام کرنے کا باقاعدہ آغاز اس وقت کیا جب میری ایک بہت پیاری دوست نے خودکشی کر لی ۔ وہ میڈیکل کی بہترین طالب علم تھی، اس کے اکیڈمک ریکارڈز بہترین تھے، ہنس مکھ اور محبت کرنے والی تھی۔ جب اس نے خودکشی کی تو میرے ذہن میں ایک بہت بڑا سوال پیدا ہوگیا ،وہ یہ کہ اس قدر خوش مزاج اور کامیاب لڑکی کیسے خودکشی کر سکتی ہے پھر میں نے اس پر بہت ریسرچ کی اور اندرونی عوامل کو سمجھا، اس وقت سے میں مستقل اس کوشش میں رہتی ہوں کہ لوگوں کو ان مسائل کو حل کرنے کے قابل بناؤں جن کی وجہ سے وہ خود کشی جیسی اذیت سے گزرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح میں انجینیئرنگ سے سوشل ورک کی طرف مائل ہوگئی۔

علیزے نجف:

اپنی Professional journey کے بارے میں بتائیں کہ وہ کہاں سے شروع ہوئی اور اس وقت آپ کی خدمات کی نوعیت کیا ہے؟

فرح سروش:

میری Professional journey کا آغاز میری آرگنائزیشن Nurture life کی ٹیگ لائنTogether We Can
سے ہوا۔یہ آرگنائزیشن عالمی سطح پر ذہنی صحت، خودکشی کی روک تھام، تعلیم، اور جذباتی ذہانت پہ کام کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہے ۔یہ آرگنائزیشن ایک Non-profit organization ہے اس کے ذریعے ہر طبقے کے ضرورت مند لوگوں کے ذہنی صحت سے جڑے مسائل کو حل کیا جاتا ہے۔ یہ ایک انٹرنیشنل آرگنائزیشن ہے ،امریکہ، رومانیہ، سعودی عرب، نیپال، بھوٹان، اور افریقہ بنگلہ دیش جیسے متعدد ممالک کے ساتھ یہ آرگنائزیشن کام کر رہی ہے۔ باہمی تعاون کے ساتھ ہم ذہنی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہیں، جیسے مینٹورنگ پروگرام، ٹاک شوز، مفت کلینکس، ورک شاپز، ذہنی صحت ایوارڈز، اور نرچر لائف اکیڈمی کی کلاسز وغیرہ۔
اس کے لیے ہم میڈیا کی طاقت کو بھرپور استعمال کر رہے ہیں، خاص طور پر متاثر کن فلموں جیسے The storm within کے ذریعے، نرچر لائف ذہنی صحت اور خودکشی کی روک تھام کرنے والے اقدامات کو مہارت سے پیش کرتی ہے، خاص طور پر انٹرن شپ پروگرامز نوجوانوں کی ذہنی صحت اور ذاتی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جن میں عملی دنیا کے مسائل پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ کمیونیکیشن، پریزنٹیشن، اور لیڈرشپ کی صلاحیتوں کو پالش کیا جاتا ہے۔ نرچر لائف کا بنیادی اصول اپنے کمیونٹی کے ہر فرد کو پھلنے پھولنے دینا ہے اور ایک ایسا ماحول بنانا ہے جہاں صلاحیتوں کی نشوونما کی جاتی ہو اور انفرادی صلاحیتوں کو اہمیت دی جاتی ہو۔

علیزے نجف:

ماہرین کی رائے کے مطابق انسانی معاشرے میں اس وقت ہر تیسرا انسان کسی نہ کسی نفسیاتی الجھن کا شکار ہے یہ ایک بہت بڑا تناسب ہے سوال یہ ہے کہ آج کے وقت میں ذہنی و نفسیاتی صحت کے ڈسٹرب ہونے کی بنیادی وجہ کیا ہے آج سے تیس چالیس سال پہلے کا مینٹل ہیلتھ کا ڈاٹا کیا کہتا ہے؟

فرح سروش:

آج کے دور میں ذہنی و نفسیاتی صحت کے مسائل کی بنیادی وجوہات پر غور کرنے کے لیےہمیں جدید معاشرتی، اقتصادی، اور تکنیکی تبدیلیوں پر نظر ڈالنی ہوگی۔ آج سے تیس چالیس سال پہلے کے مقابلے میں موجودہ دور میں جو عوامل ذہنی صحت کو متاثر کر رہے ہیں، ان میں چند اہم عناصر درج ذیل ہیں:
1. ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا اثر
آج کے دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو تبدیل کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود بیرونی دباؤ، موازنہ، اور فومو (Fear of Missing Out) جیسے مسائل نے لوگوں میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن، اور اینگزائٹی کو بڑھاوا دیا ہے ۔ پہلے کے دور میں لوگوں کے درمیان ذاتی تعلقات زیادہ مضبوط ہوتے تھے اور انٹرپرسنل انٹریکشن کی کمی نہیں ہوتی تھی، جو کہ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں کم ہوتی جا رہی ہے۔
2. تیز رفتار زندگی اور زیادہ توقعات
آج کے دور میں زندگی کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے اور لوگوں کی توقعات بہت بڑھ چکی ہیں۔ پروفیشنل لائف میں بڑھتی ہوئی مقابلہ آرائی ، ذاتی زندگی میں مالی پریشانیوں، اور کام یابی کے حصول کی خواہش کے تحت پیدا ہونے والے دباؤ نے لوگوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر کم زور بنا دیا ہے۔ ماضی میں لوگوں کے پاس زیادہ وقت ہوتا تھا اپنے لیے، اپنے خاندان کے لیے، اور اپنی خوشیوں کے لیےجو کہ اب کم سے کم ہوتا جارہا ہے۔
3. سماجی تعلقات میں کمی
آج کے دور میں لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ خاندان کے افراد اور دوست احباب کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے، لوگ زیادہ تر وقت اکیلے یا سکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔ سماجی تعلقات میں کمی کی وجہ سے ذہنی صحت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ پہلے کے دور میں لوگ زیادہ مل جل کر رہتے تھے، جس سے ذہنی سکون اور سپورٹ سسٹم مضبوط رہتا تھا۔
4. مالی مشکلات اور بے روزگاری
مالی مشکلات اور بے روزگاری بھی ذہنی مسائل کا ایک بڑا سبب ہے۔ معاشی عدم استحکام اور بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح نے لوگوں کو ذہنی طور پر کم زور کر دیا ہے۔ اس کے برعکس پہلے کے دور میں نوکریاں زیادہ مستحکم ہوتی تھیں اور لوگوں کو مالی مشکلات کا سامنا کم ہوتا تھا اور ان کی ضروریات و خواہشات بھی آج کے مقابلے میں بہت کم تھیں۔
5. صحت کی سہولیات اور آگاہی کی کمی
آج کے دور میں بھی کئی جگہوں پر ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کی کمی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے مسائل کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں اور علاج نہیں کرواتے۔ اس کی وجہ سے بھی یہ عوارض بڑھ رہے ہیں۔
پہلے کے دور میں بھی یہ مسائل موجود تھے لیکن رپورٹ نہیں ہوتے تھے وہ اسے تعویذ گنڈوں سے حل کرنے میں لگے رہتے تھے۔ہاں یہ سچ ہے کہ تیس چالیس سال پہلے کے مقابلے میں آج ذہنی صحت کے مسائل کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ حالیہ دہائیوں میں ذہنی صحت کے مسائل کی بڑھتی ہوئی تشخیص اور آگاہی نے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ مسائل ہمیشہ سے موجود تھے مگر ان پر توجہ نہیں دی جاتی تھی۔

علیزے نجف:

خود کشی آج کا ایک سنگین مسئلہ ہے، بظاہر خوش اور کام یاب نظر آنے والے لوگ بھی خودکشی جیسی اذیت سے گزر جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ خودکشی کی بنیادی وجہ عموماً کیا ہوتی ہے اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

فرح سروش:

بےشک خودکشی ایک سنگین اور پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے پیچھے متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔ بظاہر خوش اور کام یاب نظر آنے والے لوگ بھی اس اذیت سے گزر سکتے ہیں۔ خودکشی کی بنیادی وجوہات عمومی طور پر یہ ہوتی ہیں:
1. ڈپریشن
ڈپریشن ایک اہم وجہ ہے جو لوگوں کو خودکشی کی طرف مائل کرتا ہے۔ یہ ایک ذہنی بیماری ہے جس میں مریض شدید اداسی، نا امیدی اور زندگی سے دل چسپی کھو دیتا ہے۔
2. ذہنی دباؤ
زیادہ ذہنی دباؤ یاا سٹریس بھی خودکشی کی وجہ بن سکتا ہے۔ یہ دباؤ مالی مسائل، کام کا بوجھ، خاندانی مسائل یا دیگر ذاتی مسائل سے پیدا ہوتا ہے۔
3.خاںدانی تنہائی و سماجی تنہائی
فیملی میں ہوتے ہوئے تنہا ہونا اور سماجی تنہائی بھی لوگوں کو خودکشی کی طرف مائل کر سکتی ہے۔ جب لوگ خود کو معاشرتی و خاندانی سپورٹ سے محروم محسوس کرتے ہیں تو خودکشی کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
4. ذہنی بیماریاں
دیگر ذہنی بیماریاں جیسے شیزوفرینیا، بائی پولر ڈس آرڈر اور اینگزائٹی وغیرہ بھی خودکشی کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔
5. نشہ آور چیزوں کا استعمال
نشہ آور چیزوں کا استعمال اور ان کی لت بھی خودکشی کی وجہ بن سکتی ہے۔ نشہ آور چیزیں دماغ پر منفی اثر ڈالتی ہیں اور آدمی کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔
بچاؤ کے طریقے
1. ذہنی صحت کی اہمیت کو سمجھنا
ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا اور اس پر مسلسل کام کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ڈپریشن یا دیگر ذہنی مسائل کا شکار ہے تو فوری طور پر ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔
2. سماجی حمایت
لوگوں کو سماجی حمایت فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔ خاندان، دوست، اور کمیونٹی کا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ لوگ خود کو تنہا نہ محسوس کریں۔
3. متوازن زندگی
زندگی میں توازن برقرار رکھنا اور خود کو بہت زیادہ دباؤ سے بچانا ضروری ہے۔ وقتاً فوقتاً آرام کرنا، تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور اپنے شوق کو وقت دینا ذہنی صحت کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے۔
4. تعلیم اور آگاہی
خودکشی کی وجوہات اور ان کے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیےتعلیمی اداروں کو بھی متحرک ہونا چاہیے، اس سے معاشرتی سطح پرایک مثبت تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

علیزے نجف:

آج کا اسٹوڈنٹ پڑھائی اور کیریئر کو لے کر بہت پریشر میں جی رہا ہے ،پچھلے مہینے کوٹہ میں ہوا حادثہ اس کی بدترین مثال ہے، مزید ستم یہ ہے کہ والدین خود اپنے بچوں کو اس کگار پہ لاکھڑا کرتے ہیں۔ آپ کے خیال میں والدین کو اس حوالے سے اپنی پیرنٹنگ میں کن باتوں کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ بچے ایک نارمل زندگی جی سکیں؟

فرح سروش:

والدین کو اپنی پیرنٹنگ میں بہتری لانا وقت کی بڑی ضرورت ہے۔ کوٹہ میں ہونے والا حادثہ ہمارے لیے ایک المیہ ہے، اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ والدین اپنی پیرنٹنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے بہتر بنائیں۔ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ احترام اور محبت بھرا رابطہ قائم رکھنا چاہیے، بچوں کو فیصلہ کرتے ہوئے بےضرر حد تک آزادی دینی چاہیے اور ان کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے۔ والدین کو اپنی پیرنٹنگ میں صبر اور توجہ کا اظہار کرنا چاہیے تاکہ بچے معاشرتی، جسمانی، اور ذہنی دباؤ سے بچ سکیں۔ بچوں کی تربیت میں والدین کو اپنی خواہشات اور توقعات کو بچوں پر لادنے سے گریز کرنا چاہیے، انھیں اپنے بچوں کو مختلف کیریئر کے مواقع کو وسیع تناظر میں دیکھنے، ان کی رغبتوں اور استعدادات کو پہچانتے ہوئے آگے بڑھنے کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔ انجینیئرنگ اور میڈیکل کے علاوہ بھی بہت سے کیریئر ہیں جن میں بچے اپنےپسندیدہ شعبے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ والدین کو ان باتوں کو سمجھنا ہوگا اور اپنے بچوں کے لیے اپنے سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا،تاکہ وہ اپنے اہداف اور خواہشات کو حقیقت پسندی کی سطح پہ رکھتے ہوئے پورا کر سکیں۔ والدین کو اس حوالے سے اپنی پیرنٹنگ کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ بچے اس مشکل وقت میں باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ کوٹہ، انڈیا کا خودکشی کا مرکز بن رہا ہے، اس طرح کے واقعات کا تناسب بڑھنے سے روکنا ازحد ضروری ہے۔

علیزے نجف:

تعلیمی ادارے میں بچے کی نفسیات کو نظر انداز کرنے کے پیچھے آپ کن وجوہات کو پاتی ہیں اور انھیں انسانی نفسیات کا علم جزوی طور پہ کیوں دیا جاتا ہے اس حوالے سے آپ ان کے نصاب میں کس طرح کی تبدیلی دیکھنے کی خواہش مند ہیں؟

فرح سروش:

تعلیمی اداروں میں بچوں کی نفسیات کو نظرانداز کرنے کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، جیسے کہ قابل اساتذہ کی کمی، بچوں کی انفرادی ضروریات کی طرف سے عدم توجہی، یا نصاب جو تقریباً صرف معلومات پر مبنی ہوں۔ میرے خیال میں، انسانی نفسیات کا علم بچوں کی ترقی اور تربیت کے لیے بہت اہم ہے، جس میں جذباتی صحت اور ذہنی صحت دونوں شامل ہیں۔ اس لیےانجینیئرنگ کے نصاب میں انسانی نفسیات کو بھی شامل کرنا لازمی ہے، تاکہ بچے اپنی جذباتی صحت اور ذہنی صحت کو متوازن بنائے رکھتے ہوئے اپنی معاشرتی، روحانی، اور ذاتی ترقی کے لیے مکمل طور پر تیار ہوسکیں۔

علیزے نجف:

میں نے یہ بات اکثر محسوس کی ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی self aware نہیں ہوتے، انھیں اپنے ایموشنز کو ریگولیٹ کرنا نہیں آتا، اس کی وجہ سے ان کے ریلیشن شپز بھی ڈسٹرب ہوتے ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا مشاہدہ و تجربہ رہا ہے؟

فرح سروش:

بالکل، میں بھی اس بات سے متفق ہوں۔ اچھے خاصے کامیاب لوگ بھی اکثر اپنے ایموشنز کو ریگولیٹ نہیں کر پاتے، جس سے ان کے ریلیشن شپ متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ عام طور سے ہمارا تعلیمی نظام ایموشنل انٹیلیجنس کی تربیت نہیں دیتا، جس سے لوگ اپنے احساسات اور ایموشنز کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور مینیج کرنے میں ماہر نہیں ہوتے۔ ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے ایموشنل پروسیس کو سمجھیں اور اپنے ایموشنل انٹیلیجنس کو بڑھائیں، جیسے میڈیٹیشن، اور دیگر تربیتی پروگرامز کے ذریعے ہم خود کو بہتر بنا سکتے ہیں، اس کے علاوہ اچھے روابط بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک دوسرے کے احساسات کو سمجھ سکیں اور زندگی کا صحیح معنوں میں لطف لے سکیں۔

علیزے نجف:

آج کے اس ڈیجیٹل دور میں اسکرین ایڈکشن ایک بہت بڑے مسئلے کی صورت میں ابھر رہا ہے، والدین خاص طور سے سولہ سال تک کے بچوں کو لے کر کافی پریشان ہیں۔ اس پورے منظرنامے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، والدین کس طرح سے انھیں اسکرین ایڈکشن سے نکال سکتے ہیں یا انھیں پیشگی طور پر بچا سکتے ہیں؟

فرح سروش:

بالکل، یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ جب والدین بچوں کو بہلانے اور چپ کرانے کےلیے موبائل ڈیوائس کا استعمال کرتے ہیں تو یہیں سے ان میں عادت ڈیولپ ہونا شروع ہو جاتی ہے، جو کہ دھیرے دھیرے ایڈکشن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جب بچے اسکرینوں کے ایڈکٹ ہوجاتے ہیں، تو والدین گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس مسئلے کا جب انھیں کوئی مؤثر حل نظر نہیں آتا تو وہ بچوں ڈانٹنا اور مارنا شروع کردیتے ہیں، جس سے مسئلے حل ہونے کے بجائے مزید گمبھیر ہو جاتے ہیں۔اس طرح کی صورت حال میں، والدین کو اسکرین کی ایڈکشن کی ابتدائی علامات کو پہچاننا اور فوری اقدامات کرنا ضروری ہے۔ اس میں اسکرین کا وقت تدریجی طور پر کم کرنا، مختلف طرح کی سرگرمیوں کو متعارف کرانا، اور ضرورت پڑنے پر پیشہ ور مدد حاصل کرنا شامل ہوسکتا ہے۔ بچوں اور والدین کے درمیان واضح اصولوں پر گفتگو ہونی چاہیے ، جو زندگی میں توازن کی اہمیت اور پیش آمدہ خطرات کو سمجھنے کی اہمیت کو اجاگر کرے۔

علیزے نجف:

ذہنی و نفسیاتی صحت کے حوالے سے معاشرتی سطح پر بیداری پھیلاتے ہوئے آپ کا تجربہ کیسا رہا ہے، کیا لوگ خود کو ذہنی طور پہ صحت مند رکھنے کے لیے ٹائم اور پیسہ انویسٹ کرنے کو تیار ہیں یا ابھی بھی سائکاٹرسٹ کے پاس جانا ایک Taboo ہے ؟

فرح سروش:

جی ہاں، میرے تجربے کے مطابق لوگ اب ذہنی صحت کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں ۔وہ خود پہ پیسہ انویسٹ کرنے کو تیار ہو رہے ہیں۔ کووڈ کے دوران لوگوں نے ذہنی صحت کے مسائل کو مزید سنجیدگی سے لیا ،لیکن یہ سچ ہے کہ یہ تبدیلی بہت تسلی بخش نہیں ،ابھی بھی بہت سے لوگ سائیکالوجسٹ کے پاس جانے کو معیوب سمجھتے ہیں، کیوں کہ لوگ اس پر پاگل پن کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں جس سے انھیں پرسنل و پروفیشنل لیول پرکئی سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ہم مایوس نہیں ،یہ تبدیلی آہستگی سے ہی سہی لیکن آرہی ہے ۔

علیزے نجف:

آپ کے ذہن میں Nurture Life نامی آرگنائزیشن کو بنانے کا خیال کب اور کیسے آیا، اس آرگنائزیشن کے بارے میں ہمارے قارئین کو مختصراً بتائیں! یہ بھی کہ اس کے کام کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟

فرح سروش:

 Nurture Lifeنامی آرگنائزیشن کی بنیاد رکھنے کے پیچھے بنیادی خواہش میری بس یہ تھی کہ میں لوگوں کو ان مسائل کو حل کرنے میں مدد کر سکوں جن کو عام انسان سمجھنے کی کچھ خاص اہلیت نہیں رکھتا۔ اس کا اہم مقصد یہ بھی ہے کہ خودکشی کے بڑھتے فی صد کو کم کیا جا سکے اور لوگوں کو بروقت مدد فراہم کر کے انھیں زندگی کی صحیح قدروں سے روشناس کرایا جا سکے، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ یہ Non profit organization ہے ،ہم مختلف آن لائن اور مراسلاتی سروسز، سیمینارز، ویبینارز، ٹاک شوز، مواد نشریات اور مینٹل ہیلتھ جیسے مسائل اور اس کے حل کی طرف رہ نمائی کرنے والی فلمز کے ذریعے عوام کو تربیت دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہم طلبہ کے لیے انٹرنشپ پروگرامز کا بھی اہتمام کرتے ہیں، تاکہ وہ مختلف مینٹل ہیلتھ سے ریلیٹڈ تربیتی پروگراموں میں شرکت کر کے اپنے شعور کو بڑھا سکیں۔
نرچر لائف اکیڈمی بھی اس کا ایک اہم حصہ ہے جو مینٹل صحت اور فطری رجحان کی روشنی میں صلاحیتوں کی نشوونما کرتا ہے، یہ ایک طرح سے ایک تعلیمی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔

علیزے نجف:

میں آج بھی دیکھتی ہوں کہ چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں گلی کے نکڑ پر جنرل فزیشین مل جاتا ہے لیکن ایک سائیکاٹرسٹ مشکل سے ہی ملتا ہے ،یا صرف بڑے شہروں میں ہی عموماً وہ ملتے ہیں، اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گی ،کیا ہمارے ملک میں نفسیات کے شعبے میں کام کرنے والوں کی کمی ہے ؟

فرح سروش:

آپ کا مشاہدہ بالکل درست ہے کہ چھوٹے شہروںا ور قصبوں میں اس طرف ابھی بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی، جب کہ بڑے شہروں میں سائیکالوجسٹ و سائیکاٹرسٹ بآسانی مل جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سوشل اویرنس بھی بہتر ہو رہی ہے، حکومت کو اس طرف توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ایسے ہاسپیٹلز اور تھیراپی سینٹرز بنوائے اور وہاں قابل ڈاکٹرزاور ماہرین کو اپائنٹ کرے اور مختلف پروگرامز کے ذریعے لوگوں کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس دلائے ،ویسے اس کا متبادل بھی موجود ہے وہ آن لائن ماہرین سے مدد لینا، ہر فرد کو چاہیے کہ وہ خود بھی اس طرف توجہ دے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی ایجوکیٹ کرے۔

علیزے نجف:

آپ ایک رائٹر ہیں ،آپ نے کئی کتابیں لکھی ہیں یہ Writing journey کیسے شروع ہوئی، اور اس سفر کو آپ نے کس طرح انجوائے کیا ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتاتی چلیں کہ کتابیں لکھ کر آپ نے اپنے قارئین کو بالخصوص کیا میسیج دینے کی کوشش کی ہے؟

فرح سروش:

پہلی کتاب جس کی تالیف میں میرا حصہ تھا، وہ “Humans of Nurturlife” تھی، جس میں مختلف میدانوں کے کامیاب لوگوں کی 25 کہانیاں شامل تھیں۔ میں نے اس کے ذریعے انسانی زندگی سے جڑے مختلف پہلوؤں کو قاری کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جس میں میں کسی حد تک کامیاب رہی۔
مجھے ہمیشہ سے ہی لکھنے اور پڑھنے شوق رہا ہے۔ میں نے اپنے قارئین کو مواقع کی تلاش، سکون اور صحت کی اہمیت کو سمجھانے کی بالخصوص کوشش کی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ خود کو بہتر بنانے کا راستہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ اسی لیے سیلف ہیلپ کتابیں بھی میرے لیے بہت اہم رہی ہیں میری اپنی کتابیں بھی اسی ذیل میں آتی ہیں ۔

علیزے نجف:

آپ کی زندگی کے وہ تین کون سے اصول ہیں جو آپ نے زندگی گزار کر سیکھا اور اس نے آپ کی زندگی کو کامیاب اور بامقصد بنانے میں اہم کردار ادا کیا؟

فرح سروش:

میری زندگی کے تین اہم اصول یہ ہیں: فوکسڈ، پر عزم، اور مسلسل جدوجہد۔ فوکسڈ ہونے سے مجھے مواقع کو پہچاننے میں مدد ملتی ہے، عزم سے مشکلات کا مقابلہ کرتی ہوں، اور مسلسل جدوجہد سے مقصد کے حصول میں کوشاں ہوتی ہوں ؛یہ تینوں اصول میری زندگی میں کامیابی کا راز رہے ہیں۔

علیزے نجف:

بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا اور میرے ہر سوال کا جواب دیا۔

فرح سروش:

آپ کا بھی بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اتنے اہم موضوعات پہ بات کرنے کا موقع دیا آپ سے بات کرکے خوشی ہوئی، ہمیشہ خوش رہیں۔

٭ ٭ ٭

Comments From Facebook

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے