پیکر سعادت معز

نظم

نظم

کل کسی نے کب ہے دیکھا کام یہ کرناہے آج آئیے مل کر بنائیں ایک پاکیزہ سماج درد، دکھ، رنج و الم میں...

غزل

غزل

لوٹ آئے عشق زلیخا کی نشانی بن کر حسن بے پردہ ہوا دشمن جانی بن کر شب کی خاموشی فضائے جو امیدیں...