کل کسی نے کب ہے دیکھا کام یہ کرناہے آج
آئیے مل کر بنائیں ایک پاکیزہ سماج
درد، دکھ، رنج و الم میں ہر کسی کے ہوں شریک
خوب خوشیاں بھی منائیںسب سے مل کر ٹھیک ٹھیک
جھوٹ، چوری اور غیبت کا نہ ہو نام و نشاں
بے غرض ہو کام رشوت کا نہ ہو نام و نشاں
بغض و کینہ ہو نہ سینے میں، جلن
ہر گز نہ ہو اپنی پیاری دنیا میں ایسا چلن
قتل ہو یا رہزنی ہو ان سے ہوتا ہے فساد
ہر برائی ختم کرنے کو کریں آؤ جہاد
دوسروں کی مشکلوں میں کام آنا چاہیے
اپنے دل کو بس محبت سے سجانا چاہیے
آخرت کو بھول کر ہم ہوگئے دنیا پرست
اصل میں ہم کو تو ہونا چاہیے عقبیٰ پرست
مومنو! ہر اک برائی کی جڑیں کاٹیں گے ہم
ہر طرف اسلام کا پیغام پھیلائیں گے ہم
اتحاد و اتفاق و صلح و امن و آشتی
یہ اگر قائم ہوں تو جنت ہے اپنی زندگی
اتحاد ملی کا پیکر بنائیں گے سماج
ہر مسلمان کا یہاں ہوجائے اسلامی مزاج

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢