سپریم کورٹ کا فیصلہ کہ شادی شدہ یا غیر شادی شدہ خواتین کو 24 ہفتوں تک محفوظ اور خاندانی طریقے سے حمل ساقط کرنے کا حق حاصل ہے ۔سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ تمام خواتین کو محفوظ طریقے اور قانونی طور پر اسقاط حمل کا حق حاصل ہے۔اور یہ کہ اس معاملے میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے درمیان فرق کرنا غیر آئینی ہے۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ رضامندی سے جسمانی رشتہ قائم ہونے کے نتیجے میں اگر حمل ٹھہر جاتا ہے تو غیر شادی شدہ خواتین کو بھی 20سے 24 ہفتوں کا حمل ساقط کرانے کا حق حاصل ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی تین ججوں کی بنچ نے یہ فیصلہ بھی سنایا کہ حمل کو طبی اعتبار سے ساقط کرانے کے ایکٹ کے تحت آبروریزی کی تشریح میں ازدواجی آبروریزی کی تشریح بھی شامل ہونی چاہیے۔
ہمارےیہاں حمل ساقط کروانا جرم کےزمرے میں آتا تھا۔ تمام ہاسپٹلز پر یہ قانون لاگو تھا کہ وہ حمل ساقط نہ کریں۔الا یہ کہ ماں کی جان کو خطرہ لاحق ہو یا بچہ نا مکمل ہو اور اس کیےبڑھنے کے کوئی آثار نہ ہوں ۔بہت ہی ناگفتہ حالات میں حمل ساقط کرنے کی اجازت دی جاتی تھی، لیکن عدالت نے اب اسقاط حمل کی اجازت دیدی ہے۔ جبکہ امریکہ اور چائنا نے اسقاط حمل پر پابندی عائد کر کے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔
انسانی جان کو بغیر کسی عذر کے ہلاک کرنا یقیناً اخلاق سے گری ہوئی نیز انسانیت سے گری ہوئی حرکت ہے۔عورت کی ممتا ،پیار ومحبت کی وہ داستان ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔یہ فیصلہ ممتا کا خون ہے۔ایسے فیصلے عورت سے اس کی نسوانیت،محبت،ایثار سب کچھ چھین لینے کے مترادف ہیں۔اولاد، اللہ تعالیٰ کی طرف سے والدین کے لیے رحمت ہے۔والدین کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ،دل کا چین اور جینے کی امید ہے۔تنگی ،فاقہ‌مستی میں بھی اولاد کا سہارا ہی جینے کی امنگ پیدا کرتا ہے،اور یہ نسلیں اپنے گھر کے ساتھ ساتھ ملک کو چلانے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔مشہور قول ہے ’’جتنے ہاتھ ،اتنا زیادہ کام‘‘۔
اسقاط حمل پر پابندی کے باوجود انڈیا میں ہر سال 1.6کڑور حمل ساقط کیے جاتے ہیں، جن میں 48.1کروڑحمل صرف لڑکیوں کی جنس معلوم ہونے پر ضائع کیے جاتے ہیں۔اب اندیشہ ہے کہ زیادہ تر لڑکیوں کے حمل کو ساقط کیا جائے گا۔پھر لڑکوں اور لڑکیوں کے تناسب میں بہت بڑا فرق پیدا ہوگا۔پھر شادیوں کے لیے لڑکیوں کامسئلہ پیدا ہوگا۔بڑھتی آبادی کے پیش نظر اگرچہ حکومت یہ فیصلہ لے رہی ہے اور عدالت نے بھی اس پر مہر لگا دی ہے لیکن یہ فائدہ سے زیادہ نقصان کا موجب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کو ایجاد کیا ہے۔نئی نسلیں پیدا ہوتی ہیں اور پرانی پیڑھی مرتی ہے۔ جب سے دنیا بنی، یہ سائکل چلاآ رہا ہے۔ سورہ اسراء میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق نحن نرزقھم و ایاکم ان قتلھم کان خطئا کبیرا
(اور اپنی اولاد کو ناداری کے اندیشے سے قتل مت کرو کیوں کہ ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی، بے شک ان کا قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے ۔)
خدا کے فیصلوں پر انسان کے اپنے فیصلے ہمیشہ نقصان کا سبب بنے۔اس سے پہلے مغرب میں ’’ہم دو اور ہمارے دو ‘‘کےنعرے نے مغرب کو بوڑھا کردیا۔اب وہ زیادہ بچوں کو پیدا کرنے پرزور دے رہے ہیں۔ہمارا ملک جوان اور صحت مند ہے۔
آج ملک کے نوجوان طبقے میں مرد اور خواتین دونوں کا تناسب ٹھیک ہے ۔ کچھ خواتین امریکی فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، وہ ذمہ داری سے فرار چاہتی ہیں۔خواتین سمجھتی ہیںکہ ان کی خوبصورتی میں کمی ہوگی، لیکن سائنسی نقطہ ٔ نظر سے عورت کا فگر متناسب رہتا ہے۔اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے، وزن بھی نارمل رہتا ہے، بچہ کی پیدائش کے بعد ہی عورت مکمل ہوتی ہے۔ لیو ان ریلیشن شپ،اسقاط حمل،ہم جنس پرستی وغیرہ کی لعنتیں ملک کو بوڑھا ہی نہیں، اپاہج کرنے کے لئے کافی ہیں۔معاشرے کے پڑھے لکھے،باشعور طبقے کو اس کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی ۔

4 Comments

  1. حبیب الرحمن ندوی

    مہینوں کی تعداد لکھنے میں غلطی ہوگئی ہے
    اصلاح کرلیں

    Reply
    • عرشیہ شکیل

      جی ان شاءاللہ

      Reply
  2. ایس ایم صمیم

    ماشاء اللہ بہترین تحریر، معلومات اور عام فہم انداز میں بات کو رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔۔۔

    اللہ مزید علمی و قلمی صلاحیتوں میں اضافہ فرمائے۔

    Reply
    • عرشیہ شکیل

      آمین

      Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢