شادی کے بعد ایک جوڑے کے لیے سب سے مسرت بخش لمحہ وہ ہوتا ہے جب ان کی ازدواجی زندگی کے نئے نویلے گلشن میں ایک پھول کھلتا ہے۔ ہر جوڑے کو اس کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے۔یہ ایک نیک خواہش ہے۔ بچہ اللہ تعالیٰ کا انتہائی خوبصورت اور نہایت قیمتی تحفہ ہے۔ اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں نے اولاد کی تمنا کی اور اس کے لیے دعائیں کیں۔ اسی لیے حضرت حسینؓ نے والدین کو مبارکباد دینے کے لیے یہ معنی خیز دعا سکھائی ہے :
بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي الْمَوْهُوبِ لَكَ، وَشَكَرْتَ الْوَاهِبَ، وَبَلَغَ أّشُدَّهُ، وَرُزِقْت بِرَّه.
(جو اولاد آپ کو عطا ہوئی ہے اسے اللہ آپ کے لئے بابرکت بنائے ، اولاد عطا کرنے والے کے شکر کی آپ کو توفیق ہو، یہ نومولود بھرپور عمر کو پہونچے، اور اس کی بھلائیوں سے آپ مستفید ہوں۔ )
بچہ ،جہاں اللہ کا انعام اور اس کا ایک حسین تحفہ ہے ،وہیں والدین کے لیے ایک بڑی آزمائش بھی ہے۔ ہر بچہ منفرد صلاحیتیں اور خصوصیات لے کر آتا ہے، اور بے پناہ کمالات کے امکانات لے کر آتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہماری گود میں کھلنے والا یہ ننھا سا پھول آنے والے زمانے میں کیا کچھ کرنے والا ہے اور اس دنیا کو کیا کچھ دینے والا ہے۔ اس لیے ہر بچہ ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے۔ وہ انسانیت کی ،اور آنے والے دور کی بھی امانت ہے۔ ماں باپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی حفاظت کریں اور اس کو پھلنے پھولنے کے اور ترقی کرنے کے بھرپور مواقع فراہم کریں۔ جسمانی لحاظ سے بھی، علم و صلاحیت کے لحاظ سے بھی اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے بھی۔یہی حضرت حسین ؓ کی سکھائی ہوئی دعا کا مطلب بھی ہے کہ نومولود کی صحت کی بھی اچھی نگہداشت ہو ،تاکہ وہ بھر پور عمر کو پہنچے اور اس کے اخلاق اور صلاحیت کی بھی ترقی ہو ،تاکہ وہ بھلائیوں کا اور خیر کا عظیم الشان سرچشمہ بن جائے۔ اس کے لیے والدین کو بچے کی پیدائش کے فوری بعد متوجہ ہونا پڑتا ہے اور نومولود کی نگہداشت اور اس کی پرورش کی نازک، پر مشقت لیکن مسرت بخش مہم کے لیے جٹ جانا پڑتا ہے۔
ماں کے لیے جہاں یہ مرحلہ انتہائی مسرت بخش ہوتا ہے ،وہیں جسمانی لحاظ سے بہت پر مشقت اور تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔ دردِ زہ ، ان انتہائی اذیت ناک تکالیف میں سے ایک ہے جن سے انسان گزرسکتے ہیں۔ ہر ماں کو اس مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ حمل اور ولادت کا مرحلہ اس کے لیے پر خطر اور پر مشقت مرحلہ ہی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے بعد اس کے اثرات ایک عرصے تک اس کے جسم پر اور نفسیات پر باقی رہتے ہیں۔ اس مشکل مرحلے کے فوری بعد رضاعت اور پرورش کا پر مشقت مرحلہ بھی درپیش ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ماں کی اس عظیم قربانی کا اپنی کتاب میں خاص طور پر ذکر کیا ہے:
حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا
( اُس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔)(الاحقاف : 15 )
اللہ تعالیٰ نے شوہر کو بھی حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ خصوصی حسن سلوک کی تاکید کی ہے۔(الطلاق : 6)
چنانچہ حمل کے بعد ماں کو نومولودپر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے اور خود اپنے آپ پر بھی توجہ دینی چاہیے اور اس معاملے میں شوہر کو اور دیگر ارکان خاندان کو اس کا خصوصی تعاون کرنا چاہیے۔
مثبت طرز فکر اور شکر گذاری
بچے کی پیدائش کے بعد سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ماں، باپ اور گھر کے دیگر افراد خوشی ومسرت کے ساتھ اور اللہ کے لیے شکر کے جذبات کے ساتھ نومولود کا استقبال کریں اور گھر کے ماحول کو خوشگوار اور مثبت بنائے رکھیں۔ بے شک حمل ، ولادت اور رضاعت مشکل مراحل ہیں ،لیکن انہی مراحل سے گزرکر ایک ہنستا کھیلتا اور خوش وخرم خاندان وجود میں آتا ہے۔ بچہ آپ کے اور شوہر کے رشتے میں پائیداری اور استحکام پیدا کرتا ہے۔ ان مشکل ایام میں اکثر جوڑوں کے درمیان غیر معمولی قربت اور گہرا تعلق پیدا ہوتا ہے۔ ان سب پہلوؤں پر آپ کی نظر ہوگی تو ان مشکلات کو آپ خاطر میں نہیں لائیں گی۔
بہت سے روایتی گھروں میں اس مرحلے میں، طرح طرح کی نامعقول روایات ، اور اس کے نتیجے میں ساس بہو، سمدھنوں کے درمیان تنازعات بھی جنم لیتے ہیں۔ اس سے بھی ماحول خراب ہوتا ہے۔ اسلام نےمختلف ارکانِ خاندان کے حقوق اور فرائض تفصیل سے بیان کردیے ہیں۔ ان پر نظر رہے اور ان تعلیمات کو صدق دل سے قبول کیا جائے تو تنازعات کے امکان نہیں رہتے اور نومولود کو اپنی زندگی کے اولین ایام گزارنے کے لیے خوشگوار ماحول میسر آسکتا ہے۔
اسی طرح کئی دفعہ غیر منصوبہ بند حمل کی صورت میں اور بعض اوقات لڑکی کی پیدائش پر پیشانیوں پر بل آجاتے ہیں۔ یہ بھی ایک منفی طرز عمل ہے۔ ہر بچہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوتا ہے اور اس کی اسکیم و منصوبے کا حصہ ہوتا ہے۔ بچی کی پیدا ئش پر ناگواری کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نافرمانوں کی روش کے طور پر اور ایک سخت ناپسندیدہ طرز عمل کے طور پر بیان کیا ہے:
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ
(جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر کلونس چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔)
(النحل: 58)
ایسے نامناسب طرز عمل بھی ماحول کو منفی بنادیتے ہیں ۔ ایسا منفی ماحول بچے پر برا اثر ڈالتا ہے۔ماں باپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ ان کے بیٹے یا بیٹی کو اپنی زندگی کی شروعات کے لیے خوشگوار، پاکیزہ، اور صحت مند ماحول فراہم کریں۔
نومولود، ولادت کے فوری بعد
حمل کے نو مہینوں کے دوران، اللہ تعالیٰ نے بچے کو ماں کے جسم سے ہر وہ چیز فراہم کرنے کا انتظام فرمایا ہے جس کی اسے ضرورت درپیش ہوتی ہے۔غذا،پانی، آکسیجن، درجۂ حرارت پر کنٹرول،جنین کی نشونما کے لیے درکار تمام ضروری حیاتین و دیگر اجزا، یہ سب بچے کو خود بخود ماں کے جسم سے ملتے رہتےہیں۔ جب دونوں جسم الگ ہو جاتے ہیں، تو بچے کے جسم کو یہ تمام افعال آزادانہ انجام دینا سیکھنا پڑتا ہے۔ ماں کے پیٹ سے باہر آتے ہی اچانک اسے ایک نئی دنیا کا سامنا ہوتا ہے۔اس کی حسیات کام کرنا شروع کرتی ہیں۔طرح طرح کے نئے نظارے اور بے شمار آوازیں اس کی حسیات اس کو متوجہ کرتی ہیں۔ درجۂ حرارت کا اتار چڑھاؤ، لوگوں کی حرکات وسکنات اور خود اپنے جسم کے عضلات، اسے ششدر کرتے ہیں ۔ دل کی دھڑکن کے ساتھ پہلی سانس کی حیرت انگیز ہم آہنگی، خالق کائنات کی قدرت ، رحمت اور حسن تخلیق کی حیر ت انگیز مظہر ہے۔
جیسے جیسے بچے کا جسم اپنا حیاتیاتی توازن قائم کرنے لگتا ہے، وہ تیزی سے حالتیں بدلتا رہتا ہے۔پیدائش کے بعد ڈیڑھ سے دو گھنٹے کے وقفے میں، بچہ اپنے شیڈول بدلتے رہتا ہے۔ ان تیزی سے بدلتی ہوئی حالتوں پر والدین کس طرح کا رد عمل ظاہر کرتے ہیں، اس سے بچے کی بعد کی نفسیاتی اور سماجی نشوونما کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔
پیدائش کے فوری بعد مختلف کیفیات جن سے بچہ گذرتا ہے وہ یہ ہیں:
1۔ گہری نیند: بچہ کسی حرکت کے بغیر خاموشی سے سوتا ہے، اور سانسیںباقاعدگی سے چلتی ہیں۔
2۔ہلکی نیند: بچہ حرکت کر سکتا ہے، اس کی سانس بے قاعدہ ہوسکتی ہے، آواز پر چونک سکتا ہے اور نیم خوابیدہ حالت میں اس کے آنکھوں کی پتلیاں حرکت کرسکتی ہیں۔
پیدا ئش کے فوری بعد بچے ہلکی اور گہری نیند کے مختصر ، مختصر چکروں سے گزرتے رہتے ہیں۔نوزائیدہ بچے دن میں تقریباً 16 گھنٹے سوتے ہیں، اور اس میں سے تقریباً نصف وقت آنکھوں کی پتلیوں کی حرکت والی نیند REM: Rapid Eye Movement Sleep پر مشتمل ہوتا ہے۔
3۔غنودگی: جاگنے اور سونے کے درمیان کے مرحلے میں (یعنی نیند سے جاگنے کے دوران یا بیداری سے نیند میں جانے کے دوران) بچے کی آنکھیں کھل اور بند ہو سکتی ہیں ۔ بچہ اپنے عضلات کو پھیلاسکتا ہے، جمائی لے سکتا ہے یا جھپکی لے سکتاہے۔
4۔خاموش چوکس: چہرہ روشن، آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی اور جسم خاموش۔ یہ اس کی تنہائی کا وقت ہے ۔ وہ ماحول کو سمجھنے میں مصروف ہے۔
5۔فعال چوکس: آنکھیں کھلی ہوئی اور اطراف و اکناف کو دیکھنے کی کوشش میں مصروف، چہرے کے تاثرات سرگرم ،جسم میں بھی حرکت۔ یہ اس کے سماجی رابطے کا وقت ہے۔ اس سے بات کریں،اس کے جسم کو چھوئیں، کھیلیں، مسکرائیں۔
6۔رونا: رونا یا چیخنا، جسم اور روح میں تناؤ۔ یہ بچے کا کمیونکیشن ہے۔ بھوک، پیاس، تکلیف یا درد، گرمی، سردی، بستر کی ناہمواری،گیلے کپڑے، کسی بھی قسم کی بے آرامی کے بارے میں بتانے کا ابھی ایک ہی طریقہ قدرت نے اسے سکھایا ہے۔ مائیں بہت جلد ان اشاروں کا مطلب سمجھ جاتی ہیں۔
اس مرحلے میں بچے کی دیکھ بھال کے لیے درج ذیل باتوں پر دھیان دینے کی ضرورت ہے:
1۔اپنے بچے کوگود میںاٹھانے سےپہلے اپنے ہاتھ دھوئیں (یا ہینڈ سینیٹائزر استعمال کریں)۔ نومولود بچوں میں مضبوط مدافعتی نظام نہیں ہوتا، اس لیے انہیں انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے بچے کو سنبھالنے والے ہر شخص کے ہاتھ صاف ر ہیں۔
2۔اپنے بچے کے سر اور گردن کو سہارا دیں۔ اپنے بچے کو اٹھاتے وقت سر کو سہارا دیں یا جب آپ اپنے بچے کو نیچے لٹا ئیں تو سر کو سہارا دیں۔
3۔اپنے نومولود کو کبھی نہ اچھا لیں، چاہے وہ کھیل رہا ہویا رو رہا ہو ۔کبھی کبھار اس طرح سے اچھالنے سے دماغ میں خون بہہ سکتا ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اگر آپ، اپنے شیر خوار بچے کو جگانا چاہتے ہیں تو اسے ہلا کر نہ اٹھائیں بلکہ اس کے تلوےمیں گدگدی کریں یا گال پر ہلکے سے پھونک ماریں۔
4۔باہر اگر بچہ گود میں نہ ہو تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ محفوظ طریقے سے کیریئر، سٹرولر، یا کار سیٹ میں جکڑا ہوا ہے۔ کسی بھی ایسی سرگرمی سے بچیں جو بچے کے لیے نقصاندہ ہو سکتی ہے،جیسے کسی کھردری جگہ پر سلانا، نئی جگہ اکیلے چھوڑنا، گاڑی میں مستقل سہارے کے بغیر لٹادینا وغیرہ۔
بندھن اور تسکین
بچے کی پیدائش کے بعد ، اس کی نگہداشت کے دوران سب سے مسرت بخش عمل اس کے ساتھ تعلق یا بندھن قائم کرنے کا عمل ہے۔پیدائش کے بعد چند گھنٹے اور چند دن کا عرصہ اس تعلق کو قائم کرنے میں بہت اہم ہوتا ہے۔ وہ بچے سے جسمانی طور پر قریب ہوکر اس کے ساتھ ایک جذباتی رشتہ قائم کرتے ہیں۔ شیر خوار بچوں کے لیے ، یہ تعلق ان کی جذباتی نشونما کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ماں باپ کی غیر مشروط محبت اور بچے کے سامنے اس کا اظہار،بچے کی افزائش میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بچے، خاص طور پر قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے اور وہ بچے جن کو طبی مسائل لاحق ہیں، ان کو مساج کی ضرورت ہوتی ہے۔ مساج کی مخصوص قسمیں بھی اس بندھن کو مستحکم کرتی ہیں اور بچوں کی نشوونما میں مدد کر سکتی ہیں۔مساج کا طریقہ سکھانے والی بہت سی کتابیں اور ویڈیوز موجود ہیں۔اپنے ڈاکٹر سے بھی مشورہ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم دھیان رکھیں، بچے بالغوں کی طرح مضبوط نہیں ہوتے، اس لیے انہیں بہت احتیاط سے اور نزاکت سے مساج کرنا پڑتا ہے۔
بچوں کو آوازیں پسند ہوتی ہیں۔باتیں، سرگوشیاں، ترنم اور دیگر مختلف میٹھی آوازوں پر وہ متوجہ ہوتے ہیں۔جھنجھنا اور دیگر صوتی کھلونوں کی آوازوں کو بھی وہ پسند کرسکتا ہے۔ اس موقع پر اسے اللہ کے کلام کے صوت حسن سے متعارف کرائیں۔ اپنی آواز میں لوریاں سنائیں۔
بعض بچے روشنی اور آوازوں کے سلسلے میں حساس ہوتے ہیں۔ تیز روشنی سے وہ تکلیف محسوس کرتے ہیں اور بلند آوازیں، شور، اور ناگوار آوازوں سے بھی وہ اذیت محسوس کرتے ہیں۔ ان سب کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
بچے کو کسی گرم کپڑے میں لپیٹنے کا عمل بھی چند مہینوں کی عمر تک نومولود کے لیے ایک بہت آرام دہ عمل ہوتا ہے۔ اس سے بچے کے دونوں بازو جسم کے قریب رہتے ہیں ،جبکہ ٹانگوں کی حرکت کے لیے گنجائش رہتی ہے۔اس سے اس کا جسم سردی سے محفوظ اور گرم رہتا ہے، اور بچے کو تحفظ اور سکون کا احساس بھی ملتا ہے۔ بعض بچے نیند میں ڈرتے ہیں۔ ان کے لیے بھی یہ مفید ہوتا ہے۔ اس کی مناسب تکنیک ، نئے والدین کو ضرور سیکھنی چاہیے۔
صفائی و طہارت
بچے کو ہمیشہ صاف اور پاکیزہ رکھنے کی کوشش ضروری ہے۔ بہت سی بیماریاں گندگی کی پیداوار ہوتی ہیں۔ بچے کا ڈائپر بروقت تبدیل کریں۔ اگر اس نے ڈائپر گند ا کیا ہے تو ماں کو معلوم ہونا چاہیے اورجلد سے جلد اسے تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ڈائپر تبدیل کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام ضروری چیزیں ساتھ میں موجود ہیں اور آپ کو درمیان میںاپنے شیر خوار کو چھوڑکر کہیں جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ڈائپر سےریش آجائیں تو نیم گرم پانی سے یا مناسب کریم سے ان کے بروقت علاج کی فکر کریں۔ دن میں کچھ وقت بغیر ڈائپر کے رہنے کا موقع بھی دیں تاکہ جلد کو مناسب ہوا بھی مل سکے۔
بچے کو نہلانے کا عمل بھی بچے سے تعلق کو مستحکم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ موسم کے لحاظ سے غسل کا دورانیہ طے کریں۔ بچے کو غسل دینا بھی ایک نازک کام ہے۔اس کی ناک اور منہ میں پانی نہ جائے، پانی زیادہ گرم یا سرد نہ ہو، اسے چوٹ نہ آئے، نہلانے کا عمل زیادہ وقت نہ لے، ان سب باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ کسی تجربہ کار خاتون سے اچھی طرح نہلانے کا طریقہ سیکھیں۔ نہلانے کے دوران بالکل بچے کو اکیلا نہ چھوڑیں۔ صابن، شیمپو وغیرہ اچھی کوالٹی کے استعمال کریں ،اور نہلانے کے بعد جلد سے جلد جسم کو خشک کرکے گرم کپڑوں میں لپیٹیں۔
تغذیہ یا فیڈنگ
نومولود بچے کو ہر 2 سے 3 گھنٹے بعد دودھ پلانا ضروری ہے ۔ اگر آپ فارمولا فیڈنگ کر رہے ہیں تو، آپ کے بچے کو ہر فیڈنگ میں تقریباً2-3 اونس (60-90 ملی لیٹر) دیا جاسکتا ہے۔ بچوں کے لیے سب سے بہترین غذا اللہ نے ان کی ماؤں کی چھاتیوں میں پیدا کی ہے۔ ماں کا دودھ بچے کو انفیکشن سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ بھرپور متوازن غذا ہے اور اس عمر میں بچے کو جن جن غذائی اجزا کی ضرورت ہوتی ہے، وہ سب اسے توازن کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ اس دودھ میں اللہ نے وہ اینٹی باڈیز شامل کیے ہیں جو بچوں کے بہت سے عوارض میں غیر محسوس طور پر ان کا علاج کردیتے ہیں۔
دودھ پلانے کا عمل ، خود ماں کے لیے بھی مفید ہے۔ اس سے چھاتی کے کینسر کی بہت سی قسموں سے حفاظت ہوتی ہے۔ ڈلیوری کے بعد بڑھنے والا وزن نارمل رہتا ہے۔ حمل کے درمیان مناسب وقفہ قائم رہتا ہے،اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے ماں اپنے بچے پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ ہر ماں جب بچے کو دودھ پلاتی ہے تو اسے صرف غذا نہیں پہنچاتی بلکہ اپنے جذبات، احساسات، اپنے خواب اور آرزوئیں بھی اس کے لاشعور میں منتقل کرتی ہے۔ ایک مسلمان ماں ، اپنے دودھ کے ساتھ اپنے بچے کو پختہ ایمان، پاکیزہ اخلاق، صالح جذبات اور داعیات بھی گھول کر پلاتی ہے۔ اس لیے دودھ پلانے کو ایک مقدس فریضہ سمجھنا چاہیے۔
نومولود کی دیکھ بھال
تناؤ کے شکار والدین کے لیے 10 نکات:
چوبیس گھنٹے نومولود کی دیکھ بھال آپ کی زندگی میں اتھل پتھل مچادیتی ہے۔نومولود والدین کی زندگیوں میں جوش و خروش کا طوفان بھی لاتا ہے اور تناؤ اور تھکاوٹ کے دسیوں اسباب بھی پیدا کردیتا ہے۔ اس تناؤ سے بچنے کے لیے درج ذیل دس تجاویز پر عمل کیجیے:
1۔اپنا خیال رکھیں۔
صحت بخش غذا کھائیں۔ یہ آپ کے لیے بھی ضروری ہے اور آپ کے بچے کے لیے بھی۔ بہت سی مائیں غیر صحت بخش غذا سے اپنی صحت بھی خراب کرتی ہیں، اور اس پر مشقت مرحلے میں نامناسب غذا ان کو تھکانے اور تناؤ کا شکار کرنےکا بھی سبب بنتی ہے۔ سورہ نحل میں اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کی غذاوں کا ذکر کیا ہے۔ گوشت (آیت: 5 )زیتون ، کھجور، انگور یعنی پھل (آیت : 11)، مچھلی اور دیگر آبی غذائیں (آیت : 14)،دودھ ، دہی اور ڈیری (آیت : 66 ) پھلوں کا جوس (آیت : 67) اور سورہ یاسین میں اناج (آیت : 33 ) کا ذکر ہے۔ ہماری غذا میں یہ سب چیزیں شامل ہونی چاہیے۔ اسی سے متوازن غذا بنتی ہے۔کافی مقدار میں پانی پئیں اور کچھ تازہ ہوا حاصل کریں۔ جب بچہ سوتا ہے تو سوئیں ۔
2۔احباب ، رشتے دار اور مہمانوں کے لیے وقت متعین کریں۔
نومولودصرف ماں باپ ہی کی زندگیوں کی رونق نہیں بڑھاتا بلکہ بہت سے چاہنے والوں کے لیے مسرتوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ وہ سب اسے دیکھنا اور اس سے ملنا چاہتے ہیں۔ لیکن زندگی کے پر مشقت مرحلے سے گزررہی ماں کے لیے مہمانوں کی مسلسل اور وقت بے وقت آمد ، شدید زحمت کا باعث ہوسکتی ہے۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ دوست احباب اور مہمانوں کے لیے کچھ مخصوص وقت مختص کردیں۔ احسن طریقے سے انہیں بھی معلوم ہوجائے کہ آپ کن ایام میں ، اور کن اوقات میں دستیاب ہیں۔ قریبی رشتے داروں کو اس موقع پر آپ کا تعاون کرنا چاہیے، اور آپ کو بھی ان کا تعاون قبول کرنے میں ہچکچانا نہیں چاہیے۔ وہ کچھ وقت بچے کی دیکھ بھال کریں گی تو آپ کو آرام اور دیگر کاموں کے لیے وقت ملے گا۔
3۔وقت کا بھرپور مارجن رکھیں۔
چے کی پرورش کے عمل کے دوران بہت سی باتیں غیر یقینی ہوتی ہیں۔ اگر آپ طے شدہ شیڈول کے ساتھ مصروف اور پیک زندگی گزارنے کی عادی ہیں تو اس عادت کو بدلنا پڑے گا۔ بچے کے ساتھ آپ کو چلنا ہوگا۔ بچے کو دوھ پلانے کے لیے، درمیان میں آرام کے لیے، اور اس کے رونے کے بار بار کے سیشن کے لیے ؛بھرپور وقت فارغ رکھیں۔ کہیں جانا ہو تو آگے پیچھے وقت رکھیں۔ بچے کے سامان کی پیکنگ میں وقت لگ سکتا ہے۔ آخری منٹ میں ڈائپر بدلنا پڑسکتا ہے۔ کسی بھی وقت اس کا اچانک رونا آپ کا سارا پلان چوپٹ کرسکتا ہے۔
4۔جذبات کا اتار چڑھاؤ عین متوقع ہے۔
نومولود کی معصوم مسکراہٹ اور اس کی ننھی منی انگلیوں کو دیکھ کر آپ مسرت و شادمانی سے نہال ہوئی جارہی تھیں کہ اچانک بے پناہ مصروفیت اور کھلنڈری بے فکر آزادی کے اچانک ضیاع کے تصور نے آپ کی آنکھوں کو رم جھم کردیا۔ پھر یہ فکر وتشویش شروع ہوگئی کہ کیا آپ اس پیارے بچے کی اچھی طرح نگہبانی اور پرورش کرسکیں گی یا نہیں۔ کبھی اس کے درخشاں مستقبل کے حسین خواب آپ کے چہرے کو جوش سے سرخ کررہے ہیں تو کبھی اپنی جسمانی کیفیات اور تبدیلیوں کا احساس مضطرب کیےدے رہا ہے۔ ایک گھنٹے کے مختصر عرصے میں جذبات کا یہ رولر کوسٹر آپ کو تھکا کر بے حال کررہا ہے۔
یہ کیفیت عام طور پر درپیش ہوتی ہے۔ اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اس کا بہترین حل آپ کے شریک حیات ہیں۔ وہ آپ کے لیے سکون کا ذریعہ ہیں۔وہ خود بھی اس طرح کے اتار چڑھاؤ سے گزرسکتے ہیں۔ ان سے کھل کر بات کیجیے۔ ہر چیز شیئر کیجیے۔ ایک مشترک قہقہہ اس تلاطم کا سب سےبہترین علاج ہے۔
5۔معیارات کو تھوڑا کم کریں، عملی بنائیں۔
ڈسٹ بن بھری ہوئی ہے؟ کوئی بات نہیں۔ گھر بکھرا ہوا ہے؟ جب فرصت ملے تب سیٹ ہوجائے گا۔ بہت زیادہ تھک گئی ہیں اور کھانا بنانے کے لیے دل آمادہ نہیں ؟ میگی یا کارن فلیکس سے بھی ڈنر ہوسکتا ہے۔ بے شک ہمیشہ آپ سب کا بے حد خیال رکھنے والی ، نفاست پسند اور سلیقہ شعار خاتون رہی ہیں، لیکن اس وقت اپنے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنا ضروری نہیں ہے۔ اس وقت آپ کی اصل ترجیح آپ کا بچہ ہے ،اوراس کے لیے اور خوداپنے لیے بھی معیار پر کہیں سمجھوتہ کرنا پڑے تو کرنا چاہیے۔
6۔گھر سے باہر نکلیں۔
بچے کو لے کر باہر نکلیں۔ کوئی سنبھالنے والا ہے تو اس کو دے کر کچھ دیر باہر چہل قدمی کرلیں۔ ایسے وقفے آپ کو تازہ دم رکھیں گے اور آپ کے جسم کو بھی اور جذبات کو بھی متوازن رکھنے میں معاون ہوں گے۔
7۔ مدد کرنے والا ہاتھ قبول کریں۔
جب آپ کی سہیلیاں، رشتے دار یا دیگر چاہنے والے مدد کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو ان کی مدد قبول کرنے میں تکلف سے کام نہ لیں۔ بلاتکلف ان کو ان کاموں کی نشان دہی کیجیے ،جو وہ آسانی سے کرسکتی ہیں اور آپ کا کام ہلکا ہوسکتا ہے۔ کچھ دیر بچے کو سنبھالیں، اس کے کپڑے تبدیل کردیں، یا جو کام بھی آپ ان کو دے سکیں۔
8۔ دوسرے رشتوں کو نظر انداز نہ کریں۔
آپ کے نومولود کو آپ کی محبت اور بھرپور توجہ کی ضرورت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے سارے تعلقات بالکل نظر انداز ہوجائیں۔ آپ کے دوسرے بچے ہیں تو وہ بھی توجہ چاہتے ہیں۔ کچھ وقت ان کے لیے بھی متعین کریں۔ نومولود کے کاموں میں انہیں اپنا شریک بنائیں۔ ان سے بات کرنے اور ان کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بھی وقت طے کریں۔ آپ کے شوہر کا بھی حق ہے۔ نومولود کی نگہداشت کے کام میں بے شک وہ مسلسل آپ کے ساتھ شریک ہیں ،لیکن کچھ وقت ان کو الگ سے بھی درکار ہے۔ ان سب باتوں کا آپ خیال رکھیں گی تو نومولود کی پرورش کا عمل آسان تر اور پورے گھر کی یکساںدلچسپی اور یکساں جوش و خروش کا مرکز بنےگا۔
9۔کب مدد کی ضرورت ہے، اسے سمجھیں۔
نومولود کی پرورش ایک چیلنج ہے۔ اس میں قدم قدم پر آپ کو رہنمائی کی اور مدد کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔کب اپنے شوہر کی مدد لینی ہے؟ کب ساس، ماں یا کسی تجربہ کار خاتون کی مدد لینی ہے؟ کب ڈاکٹر سے بات کرنا ہے اور کب کسی کاؤنسلر کی مدد کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ یہ معلوم بھی ہونا چاہیے اور ایسی مدد کی ضرورت ہو تو بروقت مدد حاصل بھی کرنی چاہیے۔ اس میں تکلف یا تاخیر آپ کی مشکل بڑھائے گی۔
10۔ اللہ سے تعلق بنائے رکھیں۔
آخر میں سب سے اہم بات، اللہ سے مضبوط تعلق بنائے رکھیں۔ یہ بچہ اللہ کا انعام ہے ،اور اللہ کی جانب سے امتحان ہے۔ اس امتحان میں سرخروئی اسی کی نصرت سے ممکن ہے۔ اللہ پر توکل، اس کا ذکر، اس سے استعانت اور دعا؛مومن کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس طاقت کو بھرپور طریقے سے استعمال میں لایئے۔ قرآن مجید میں انبیاء کی اپنی اولاد کے لیے دعائیں مذکور ہیں ۔ان دعاؤں کو بار بار پڑھیے۔ وہی خواب اپنی آنکھوں میںسجایئے۔ایک مومن کی پرورش کے اس عمل کو مقدس عبادت سمجھیے۔ یہ یقین رکھیے کہ اگر اللہ کی مرضی کے مطابق ، اسے یاد کرتے ہوئے آپ نے اپنی ذمہ داری نبھائی تو ان شاء اللہ اس مرحلے کا ہر لمحہ آپ کے لیے اجر کا باعث اور آخرت کا توشہ بنے گا۔

آپ کے نومولود کو آپ کی محبت اور بھرپور توجہ کی ضرورت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے سارے تعلقات بالکل نظر انداز ہوجائیں۔ آپ کے دوسرے بچے ہیں تو وہ بھی توجہ چاہتے ہیں۔ کچھ وقت ان کے لیے بھی متعین کریں۔ نومولود کے کاموں میں انہیں اپنا شریک بنائیں۔ ان سے بات کرنے اور ان کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بھی وقت طے کریں۔ آپ کے شوہر کا بھی حق ہے۔ نومولود کی نگہداشت کے کام میں بے شک وہ مسلسل آپ کے ساتھ شریک ہیں ،لیکن کچھ وقت ان کو الگ سے بھی درکار ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢