’’انہوں نے مجھے تمہارے خلاف ایک لفظ نہیں کہا، وہ تو تمہارے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے ناں، اس لیے وہ تمہیں کچھ کہتی بھی نہیںہیں۔‘‘آپا نے سر ہلاتے ہوئے تاسف سے کہا۔
اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا،وہ خاموشی سے انہیںدیکھنے لگی۔
’’چھ بجے اٹھتی ہیں دونوں۔ کل چھٹی کر کے صبح سویرے اٹھ جانا اور دیکھنا گھر کیسے بسائے جاتے ہیں۔‘‘آپا اسے گھورتے ہوئے کمرے سے نکل گئی تھیں۔
اس نے خود ہی اپنے لیے ذلت کے دروازے کھول لیے تھے اور اب جب سب کچھ لٹا بیٹھی تھی تو بھی اسے ہوش نہیں تھا کہ وہ کیا گنوا رہی ہے۔دوسرے دن صبح ہی وہ ڈرائنگ روم میں جاکر پرانے میگزین لے کر بیٹھ گٔئی تھی۔ ناعمہ بھابھی نے ابو کو جوس، امی کو چائے دیتے ہوئے اسے بھی چائے کا کپ پکڑایا۔
’’خیریت ؟طبیعت تو ٹھیک ہے؟ صبح سویرے اٹھ گئی۔‘‘انہوں نے ماتھا چھو ا،اور اس کا جواب سننے سے پہلے ہی بچوں کے روم کی طرف دوڑ لگا گئیں،جہاں صبیحہ چیخ رہی تھی۔
ناعمہ اور مونا دونوں مل کر گھر کے سارے امور نمٹاتی رہی تھیں۔ وہ بھی بچوں کو فریش کرکے بظاہر فائلوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔ بچے اسکول، بھائی آفس چلے گئے ۔ابو امی کا ناشتہ کمرے میں پہنچا دیا تھا۔ ابو وہیں کمرے میں ہی رہتے تھے۔ امی گاہے بگاہے گھر کا چکر لگاتیں اور ان کے پاس جا بیٹھتی تھیں۔دونوں بہوئیں ان کی ضرورت کی سب چیزیں کمرے میں ہی دے جاتی تھیں۔ کچن کی صفائی کرتے کرتےناشتہ میں گیارہ بج گئے تھے۔ وہ تو صبح نو بجے ہی ناشتہ کرکے نکل جاتی تھی ۔ناعمہ اور مونا بھابھی کو دیکھ کر اسے سارہ اور تہمینہ بہت یاد آنے لگیں۔ آج کام والی ماسی نے پھر سے چھٹی کر لی تھی۔ گھر کی صفائی سے لے کر کپڑے دھونے کے کام بھی وہ دونوں مل جل کر کررہی تھیں ۔
آپا نے صحیح کہا تھا ،وہ بس خود غرض ہوگئی تھی ،اس نے کبھی خود کے سوا کسی کو دیکھا ہی نہیں تھا۔ آپا نے صحیح کہا تھا، اتنا سب کچھ ہونے بعد بھی وہ چاہتی تھی کہ سب اس کے پیچھے رہیں ،س کی دلجوئی کریں ،اس کے حقوق ادا کریں، پر کیا اس نے کسی کے حقوق پورے کیے تھے؟ کبھی بھابھیوں کا دھیان رکھنا تو دور، خوش اخلاقی سے بات بھی کی تھی؟ پھر اسے کیا حق تھا کسی کو غلط ٹھہرانے کا؟
پورا دن دونوں گھر کے کاموں میں مصروف رہتی تھیں، اور رات کو بھی گیارہ بج گئے تھے، جب وہ سب کے ساتھ بیٹھے تھے، امی ابو بھی بچوں کے پاس آکر بیٹھ جاتے تھے۔ اس نے تو کبھی اپنے سے جڑے رشتوں کو اہمیت دی تھی اور نہ ہی ان کی قدر کی تھی۔ اسے مسعود کی ایک ایک بات یاد آتی تھی ۔وہ سچ ہی کہتا تھا اور اس نے اسے طلاق دے کرٹھیک ہی تو کیا تھا ۔وہ اس کی حق دار تھی۔
وہ زوبیہ کی اسکول کی شاپنگ کے لیے مارکیٹ آئی تھی۔ ایک دکان پر سارہ، ارسلان کو لیے کچھ خرید رہی تھی۔ وہ سارہ ہی تھی، وہ اس کی طرف تیزی سے لپکی ۔
’’سارہ !‘‘اس نے خوشی سے اسے آواز دی۔ سارہ نے بے دھیانی میں مڑ کر دیکھا۔
’’بھابھی!‘‘ کچھ لمحے اسے عبایا میں دیکھ اسے پہچاننے میں لگے۔
سارہ نےاسے گلے لگا لیا۔’’کیسی ہیں بھابھی ؟زوبیہ کیسی ہے؟‘‘سارہ اسے ایک طرف لے گئی تھی۔
’’میں اچھی ہوں ،زوبیہ بھی اچھی ہے۔‘‘سمیرا کے آنسو چھلک پڑے۔
’’گھر پر سب کیسے ہیں؟‘‘اسے یہ پوچھتے ہوئے ہی سب کچھ بہت اجنبی سالگا تھا۔
’’سب اچھے ہیں بھابھی ۔‘‘سارہ اسے سب کی خیریت بتانے لگی۔ گھر کا کنسٹرکشن کیا گیا تھا۔ اسے تین منزلہ بنایا گیا تھا۔ سب کو اپنے اپنے پورشن دیے گئے تھے۔ ابھی کچن ایک ہی تھا۔ سارہ گھر کی خوبصورتی گنوانے لگی۔
’’سارہ بھا بھی! آپ یہاں ہیں۔ میں ادھر ہی ڈھونڈ رہی تھی۔‘‘ تہمینہ اس کے پیچھے سے آئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور لڑکی تھی، گود میں بہت خوبصورت دو سال کا بچہ بیٹھا تھا، جودھوپ کی تمازت سے گلابی ہو رہا تھا۔
’’بھابھی آپ !‘‘تہمینہ بھی تپاک سے ملی تو وہ شرمندہ ہو گئی۔ سب کی خیریت بتا کر اس نے پاس کھڑی لڑکی کی طرف اشارہ کیا، تو سارہ اور تہمینہ ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں، تبھی موبائل گنگنا اٹھا۔
’’جی مسعود!ابھی مارکیٹ میں ہیں ،جی۔بھابھی کی کوئی جاننے والی مل گئی ہیں۔گود میں بیٹھا ہے ۔علی پاپا سے بات کریں!‘‘اس نے کہا تو اس کے پیروں سے زمین نکل گئی ۔وہ اس کی جانب پشت کیےتھوڑے فاصلے پرکھڑی بات کر رہی تھی۔
’’یہ فائزہ ہے ! مسعود کی دوسری بیوی!‘‘
’’بھابھی !مسعود یہیں پاس ہیں، ہمیں لینے آرہے ہیں ۔انہوں نے کہا ہے پارکنگ کا مسئلہ ہوگا، روڈ پر ہی آجائیں ،کار کہیں ٹریفک میں نہ پھنس جائے۔‘‘فائزہ نے کہا۔
وہ دونوں اس سے رخصت ہوکر ایک طرف نکل گئیں۔ وہ کتنی دیر یوںہی خالی نظروں سے مارکیٹ کی چہل پہل دیکھنے لگی ۔ذہن پوری طرح سن ہوگیا تھا۔اس نے کہا تو تھا وہ شادی کر رہا ہے پھر …یہ اداسی کیوں؟جیسے تیسے وہ گھر پہنچی تھی اور کمرے میں بستر پر ڈھیر ہو گئی۔آپا اس دن آئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلی میں ہی ایک گھر بکنےوالا ہے۔ خاور یا دلاور کو ئی ایک اسے خریدلے ۔ (جاری)

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢