یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے ایم بی اے مکمل کرکے ایک کمپنی میں جاب کرلی تھی ،اور اپنے قصبے سے دہلی میں شفٹ ہوگیا تھا ۔اپنے دل میں بہت خوش تھا کہ اب میں شہر میں رہ کر خوب پیسہ جمع کروں گا، اپنے بیٹے دانیال کو اعلیٰ تعلیم دلواؤں گا ۔ میرے والد کثیرالعیال اور ایک غریب مزدور تھے۔ ہمارا بہت بڑے رقبے پر بنا مٹی کے دو کمروں پرمشتمل مکان تھا ۔دس بھائیوں میں بس ایک میں تھا،جس نے ایک فلاحی تنظیم کی امداد پر تعلیم حاصل کی تھی۔ اپنی بیوی ریشماں کو میں نے فون پر بتایا جاب مل چکی ہے، اگلے ویک اینڈ پر تمہیں اور دانیال کو دہلی شفٹ کردوں گا۔ ایک کمرے اور کچن پر مشتمل مکان بھی رینٹ پر لے لیا تھا۔ اگلے دوماہ میں میں اپنی فیملی کے ساتھ اس روم میں رہنے لگا تھا ۔ اکثر میں کمپنی سے لوٹتا تو ریشماں سے دانیال کی مستقبل میں پڑھائی پر باتیں کرکے خواب میں دانی کو پڑھتا دیکھتا رہتا ۔میری دلی خواہش تھی کہ بیٹے کو بہترین اسکول میں تعلیم دلواؤں ۔اکثر شام میں آفس سے لوٹتے ہوئے اسٹڈی ٹیبل کو کسی شو روم میں سجا دیکھ کر دانی کے لیے خریدنے کےمنصوبے بناتا۔ اسی مقصد کے لیےاپنی تنخواہ کا بڑا حصہ نہیںلیتا ۔ زندگی بہت پر عزم اور زندگی سے بھرپور گزر رہی تھی ۔ریشماں گاؤں کی کم تعلیم یافتہ ایک ہنس مکھ اور بے حد معصوم خوبصورت سی لڑکی تھی۔ جو شاید دل ہی دل میں اپنے رب سے شادی سے پہلے شہری زندگی کی متمنی رہی ہو، اسی لیے میری زندگی میں شادی کے ایک سال بعد ہی یہ ناممکن بدلاؤ ممکن ہو پایا تھا۔ ان دنوں وہ بھی بہت خوش اور رب کی مشکور بن کر زندگی گزار رہی تھی۔ ایک شام مجھ کو باس نے بلاکر کچھ بزنس ڈیل کے لیٹر س کی فائل پکڑاتے ہوئے کہا کہ میں اس فائل کو کل آفس آتے وقت فلاں صاحب کو دیتے ہوئے آؤں ،اور ساتھ ہی ایک چابی بھی پکڑائی کہ یہ بھی انہی صاحب کو دے دوں۔ گھر لوٹ کر میں نے اپنا بیگ الماری میں رکھ دیا، اور اپنے بیٹے دانیال کو گود میں لےکر باہر چاکلیٹ لینے چلا گیا ۔ میں شام ڈھلے لوٹا تو میرے پیروں تلے سے زمین نکل چکی تھی۔ میری بیوی ریشماں، لیڈی پولس کی حراست میں تھی۔ مجھ پر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا۔ اے ٹی ایس نے حراست میںلے لیا۔ مجھ سے بچہ اور بیوی چھین لیے گئے، کئی مقدمات لگے ،کیونکہ میرے بیگ سے جو چابی نکلی تھی وہ کسی اسلحے کے روم کی تھی۔ میں ٹھہرا مسلمان اور ساتھ میں ڈاڑھی بھی ۔کمرۂ عدالت میں بے شمار الزام لگے، مقدمے چلتے رہے ۔ دن سال اور سال برسوں میں بدلتے رہے ۔میری آنکھ اب خشک ہوکر زندگی کی رمق سے بھی محروم ہوچکی تھی ۔اب امید کی ہلکی کرن بھی زندگی کامذاق اڑانے لگی تھی۔ اچانک آج بائیس سال بعد میرےقید بامشقت کے ساتھ گزرے ایام کا اختتام ہوا،اورباعزت بری کی شکل میں میں نے ایسا مژدہ سنا گویا تیز رفتار ٹرین کی زنجیر کھینچ لی گئی ہو۔ اس وقت اس اچانک افتاد کے بعد میرے کاسےمیں مستقبل کے خواب و امید کے سکے بھی نہ تھے کہ میں باہر نکلا تو مجھے یقین تک نہیں تھا کہ کل رات خواب میں بنایا گیا میرے ہاتھ چابی کا اسکیچ میرے ہی ہاتھوں کی بیڑیاں کھلنے کا اشارہ تھا ۔ اس کلید نے قفل کھولا تھا میری بیڑیوں کا …میرے قید خانے کا…میرے زنگ آلود تقدیر کا…کس کس کا؟ کیونکہ مجھ پر لگے سارے الزام جھوٹے تھے، لیکن میرا گھر واقعی برباد ہوچکا تھا، لیکن کسے خبر کہ تقدیر کے قفل کھل کر بھی مقفل ہوکر ہمیشہ کے لئے زنگ آلود ہوجاتے ہیں ۔تب اس زنگ آلود قفل کو حسرت سے بس تکا جاسکتا ہے۔ میرے والد فوت ہوچکے تھے، بوڑھی ماں رو رو کر اندھی ہوچکی تھی ۔میرا ایک سال کا دانیال ،اب چوبیس سال کا ہوکر ہوٹل پر چائے کے برتن دھوتا ہوا ملا۔ میرا وسیع و عریض مٹی کا کچا مکان میرے لیے مقدمہ لڑنے میں بیچ دیا گیا تھا۔ میری دونوں بہنیں کنواری ہی بوڑھی ہوچکی تھیں ۔ قید کے دن کی سختیاں مجھے اچھی لگیں اور اپنی مقفل تقدیر سے مجھے زنداں میں گزرے ایام بہتر لگے کہ زندگی کا یہ منظر زنداں کے ٹارچر روم میں جسمانی تکلیف سے شدید تر یہ تھا جو روح کو لہولہان کررہا تھا ۔جس کی کوئی چابی نہ اب بن سکتی تھی نہ کھل سکتی تھی ،کیونکہ میرا دانیال ان پڑھ تھا اور زندہ دل بیوی مردہ لاش ،کہ مقفل تقدیر کے لیےکوئی کلید بھی تو نہیں۔ آج صبح اٹھا ،دل برداشتگی اندر تک اترگئی تھی، سورۂ توبہ کی تلاوت کی۔’’لاتحزن ان اللہ معنا‘‘ پر رک گیا ۔زارو قطار آنسو بہنے لگے، غم کی چھائی گرد کو آنسوؤں کے سیلاب نے بہا دیا ۔غار ثور کا منظر تھا، ان دو کے ساتھ تیسرا خدا تھا، اور وقت کے نبی نے اپنے ساتھی سے کہا ،کان میں سرگوشی ہوئی’’ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے ‘‘ہر غم کی شاہ کلید واقعی یہ قرآن ہے ۔ قفل کا زنگ رفتہ رفتہ نکل رہا تھا ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢