زمرہ : النور
عن انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنه قال :سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : من احب ان یبسط علیہ رزقه وان یساله فی اثره فلیصل رحمه.(متفق علیه)
ترجمہ:
انس بن مالک رضی الله تعالی عنه سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا کہ جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے ۔
صلہ رحمی کا مطلب رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا ،ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا،اپنی طاقت کے بقدر مالی تعاون کرنا ،ان کی ہمدردی و خیر خواہی کرنا ،دکھ درد اور خوشی وغم کے موقع پر شرکت کرنا ،ان کی ملاقات کے لیےجاتے رہناوغیرہ۔جو شخص اپنے رشتہ داروں کے حقوق پامال کرتا ہے، ان کے ساتھ نرمی کے بجائے ترش روئی سے پیش آتا ہے اور برا سلوک کرتا ہے ،تو اس موقع پر بھی اسلام ہمیں نرمی وصلہ رحمی اور اچھے سلوک کا حکم دیتا ہے ۔برائی کا بدلہ برائی سے دینا آسان ہے ۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ برائی کا بدلہ بھی اچھائی سے دیا جائے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ چکائے بلکہ جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑدے ۔ ‘‘( بخاری )اسی طرح ایک دوسری حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تین صفات ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں بھی ہوں،اللہ تعالی اس سے آسان حساب لے گا اور اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا ۔
صحابہ نے عرض کیا :یا رسول اللہ! کن صفات والوں کو؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوتمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو ،جوتم پر ظلم کرے تم اسے معاف کرو، جو تم سے رشتہ داری اور تعلق توڑے تم اس سے جوڑو۔
صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر ہم یہ کام کریں توہمیں کیا ملے گا؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے آسان حساب لیا جائے گا ۔اور تمہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمادے گا ۔
صلہ رحمی کی بنیاد مذہب پر نہیں ہوتی ،رشتہ و قرابت پر ہوتی ہے۔ رشتہ دار چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے ۔سعد بن ابی وقاص ؓکی والدہ جو ایمان نہیں لائی تھیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بہتر سلوک جاری رکھنے کی تلقین فرمائی ۔کئی انصاری صحابہ اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کی مالی مدد کیا کرتے تھے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنه کی والدہ ایمان نہیں لائی تھیں ۔اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی تھیں، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے تھے۔پڑوسی چاہےمسلم ہو یا غیر مسلم، دونوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔اسی طرح وقتی پڑوسی یعنی ٹرین یا ہوائی جہاز یا بس کے ساتھی کے ساتھ بھی حسن سلوک کا حکم ہے۔ اس حکم میں مسلم و غیر مسلم دونوں شامل ہیں۔
اگر غیر مسلم والدین یا رشتہ دار یا پڑوسی شرک یا گناہ کرنے کا حکم دیں تو اس میں ان کی اطاعت جائز نہیں ہے،البتہ دنیا میں حسن سلوک ،سن اخلاق اور تحمل کے ساتھ اچھی طرح ان کا ساتھ دینا ہے ۔
قرآن پاک میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَاِنْ جٰھَداکَ علیٰ اَن تُشرکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِهٖ علمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا وَ صَاحبْھُما فِی الدُّنیَا مَعرُوفاً واتَّبِعْ سَبیلَ مَنْ اَنابَ الَیَّ ثُمَّ الَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعمَلُوْنَ
ترجمہ:اگر وہ دونوں کوشش کریں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے اور میری طرف رجوع کرنے والے کے راستے پر چل ۔پھر میری ہی طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے تو میں تمہیں بتاؤں گا جو کچھ تم عمل کرتے تھے۔ (سورہ لقمان، آیت : 15)
احادیث میں جہاں صلہ رحمی کی تاکید کی گئی ہے وہیں قطع رحمی کی وعید بھی سنائی گئی ہے ۔
عن جبیر بن مطعم قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یَدخُلُ الجَنَّۃ قاطعٌ (متفق علیہ)

ترجمہ:جبیر بن مطعم ؓسے مروی ہے کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
اسی طرح ایک دوسری حدیث سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہےکہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں ہےکہ اللہ تعالی ٰدنیا میں فوراً اس گناہ کرنے والے کو سزا دے اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی سزا دے ۔
( جامع ترمذی: 2511)
موجودہ نفسا نفسی کے دور میں قطع رحمی کی خلیج وسیع تر ہو گئی ہے۔انٹرنیٹ اور موبائل کے بے جا استعمال کی وجہ سے بچوں کی صحیح تربیت کی ذمہ داری ،رشتہ داروں کے حقوق و صلہ رحمی اور میاں بیوی کے حقوق کی ادائیگی کو پس پشت ڈال دیا گیاہے۔سوشل میڈیا پر جن کے ہزاروں دوست ہوتے ہیں۔حقیقی زندگی میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔رشتہ داروں کے دکھ سکھ میں شرکت کرنا ،ان سے ملاقات کے لیےجانا ،یہ سب اب بالکل ہی ختم ہوتا جارہا ہے۔ نتیجۃًرشتہ داریاں ختم ہونے لگیں اور خاندان بکھرنے لگے ہیں۔ ایک مضبوط خاندان اور بہترین سوسائٹی کے لئے ضروری ہےکہ صلہ رحمی کے متعلق قرآن و سنت کے احکام کو عام کیا جائے اور ان کو عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢