انسان کی بنیادی ضرورتوں میں روٹی سب سے پہلے نمبر پر آتا ہے۔ انسانی زندگی کی بقاء کےلیے مناسب مقدار میں غذا کی فراہمی سب سے اہم ہے۔ یوں تو ہر عمر کے لیے غذا کی اپنی اہمیت ہے، مگر بچوں کےلیےیہ زیادہ ہی نا گزیر ہے۔ زندگی کا سفر بچپن سے شروع ہوتا ہے، لہذا اس عمر کی ہر چیز زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اگر کسی کو بچپن میں ہی تغذیہ کی کمی کا سامنا کرنا پڑ جائے، تو بیک وقت کئی سارے چیلنجز سامنے آتے ہیں ،مثلاً اس کی صحت کے ساتھ ساتھ بڑھوتری پر اثر پڑتا ہے، غذا کی قلت تعلیم سے بھی محروم کردیتی ہے، ایسے میں دفاعی نظام کمزور پڑ جاتا ہے، لہذا انیمیا (خون کی کمی کی بیماری) کے ساتھ ساتھ دیگر امراض میں مبتلا ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
ہندوستان ندیوں اور زرخیز زمینوں سے مالا مال ملک ہے۔ ہمارا ملک ہمیشہ سے اناج کے معاملے میںنہ صرف خود کفیل رہا ہے، بلکہ پوری دنیا میں اناج اگانے کے معاملے میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کو بھرپور غذا ملتی ہوگی، جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہندوستان کی ایک تہائی آبادی روز رات کو بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہے۔ معاشی صورتحال یہ ہے کہ پوری دنیا کے 24 فیصد غریب اور بد حال لوگ ہندوستانی ہیں۔ لہذا غربت کی یہ سطح بچوں کی صحت اور تعلیم کو بھی برابر متاثر کر رہی ہے۔
نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کی غذائیت سے متعلق تازہ سروے کے مطابق اب بھی بھارت میں قلت تغذیہ یا مال نیوٹریشن کی وجہ سے ہر تیسرا بچہ متاثر ہے۔ تقریباً 17 فیصد بچے اپنی لمبائی کے حساب سے کم وزن ہیں، جبکہ 35 فیصد بچے عمر کے حساب سے پست قد ہیں اور 33 فیصد بچے معمول وزن کے حساب سے کم وزن ہیں۔
گلوبل ہنگر انڈیکس
کنسرن ورلڈ وائڈ ہر سال پوری دنیا میں سروے کر کے گلوبل ہنگر انڈیکس شایع کرتی ہے ۔ ہنگر انڈیکس چار بنیادوں پر ممالک کی فہرست تیار کرتا ہے۔ غذائیت کی کمی ، بچوں کا کمزور ہونا، بچوں کا قد چھوٹا ہونا اور بچوں میں شرحِ اموات۔ امسال ہندوستان اس فہرست میں 107ویں نمبر پر آیا ہے۔ اگر باقی ملکوں سے موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جن ممالک کی معیشت ہم سے خراب ہے وہ بھی اس فہرست میں ہم سے بہتر پوزیشن پر ہیں۔ مثلاً میانمار(71)، نیپال(81)، بنگلہ دیش(84) ،حتی کہ پاکستان(99) بھی۔ اس رپورٹ کے پیش نظر ہندوستان میں ہر گھنٹے میں پانچ سال سے کم عمر، سو بچوں میں سے ایک کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہر سال بھارت اس انڈیکس میں نیچے سے نیچے گرتا جا رہا ہے۔
حکومتی اقدام
حکومت نے اس معاملے میں توجہ برتتے ہوئے متعدد پروگرام شروع کیے،جن میں مڈ ڈے میل اسکیم ، پوشن ابھیان، زیرو ہنگر پروگرام قابلِ ذکر ہیں ۔ مڈ ڈے
میل اسکیم کا آغاز 1995 ءمیں کیا گیا۔ درجہ اول سے درجہ ہشتم تک کے بچوں کو اسکول میں گرم کھانا کھلانے کا منصوبہ عمل شروع کیا گیا۔ اپنی نوعیت میں یہ دنیا کی سب سے بڑی اسکیم بنی۔ اس کا بنیادی مقصد بچوں میں تغذیہ کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم کی شرح کو بڑھانا تھا۔ یہ اسکیم کافی حد تک کامیاب رہی، لیکن زیادہ دنوں تک بدعنوانی سے نہیں بچ سکی۔ ہر ریاست میں غبن کے معاملات سامنے آنے لگے۔ مثلاً بہار، بنگال، مہاراشٹر، اتراکھنڈ وغیرہ۔ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کے رامیش پوکھریال نے لوک سبھا میں انکشاف کیا کہ میں مڈ ڈے میل اسکیم میں غبن اور رشوت کے سب سے زیادہ معاملات اتر پردیش میں ہیں ، جس میں 52 درج کیس ہیں۔
بچوں کو دال چاول تک کھلانا تو دور، کچھ اسکولوں نے روٹی کے ساتھ نمک اور چاول کے ساتھ پانی تقسیم کیے۔اس طرح کی واردات کے پیشِ نظر مودی حکومت نے اس اسکیم میں مثبت تبدیلی کے ساتھ پانچ سال (2021-22 سے 2025-2026) کے لیے پی ایم پوشن یوجنا کے نام سے اسے دوبارہ لاگو کیا ہے۔
نئی اسکیم کے تحت پری پرائمری اسکول کے طلبہ کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے 24لاکھ مزید بچے اس اسکیم کا حصہ بنیں گے۔ خوراک میں بھی خاطر خواہ تبدیلی کی گئی ہے، اور اس اسکیم کی لاگت 1.31لاکھ کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ بچوں کو تازہ، موسمی اور مقامی طور پر تیار کیا ہوا گرم کھانا دیا جائے گا۔ جس میں انڈے اور دودھ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بد عنوانی سے بچنے کے لیے حکومت نے مزید اقدامات کیے ہیں، مثلاً اب پیسے براہ راست اسکول کے اکاؤنٹ میں بھیجے جائیں گے ،ساتھ ہی بنیادی سطح پر عمل درآمد کرنےکے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ اس کا معائنہ کریں گے، تاکہ کسی صورت بچوں کی صحت کا نقصان نہ ہو۔
پوشن ابھیان بھی حکومت کی ایک بہترین اسکیم ہے۔ اس کی شروعات 2018 سے کی گئی۔ جس کا بنیادی مقصد بچوں اور عورتوں کو تغذیہ سے بھرپور کھانا فراہم کرنا اور انیمیا سے راحت دلانا ہے۔
تغذیہ کے کمی کے شکار بچوں کی وجہ ان کے کنبے کا معاش بھی ہے۔ جب تک ان خاندانوں کے پاس کوئی ذریعۂ معاش نہیں تب تک بھوک مری سے لڑ پانا ان کے لیے ممکن نہیں۔ لہذا اس طرح کے کنبوں کو پبلک ڈسٹربیوشن سسٹم کے تحت سماجی تحفظ مہیا کرانا چاہیے۔ اگر لوگ برسرروزگار ہوجائیں گے تو ان کی معیار زندگی میں بہتری آئے گی ،اور وہ اپنے بچوں کو نہ صرف بہترین غذا بلکہ تعلیم بھی دے پائیں گے۔ ان سب کے ساتھ ساتھ ایک ضروری چیز یہ بھی ہے کہ تغذیہ کی کمی سے جنگ کے خلاف حکومت مضبوط اور ٹھوس اقدام اٹھائے۔
یہ ارادے کی کمی کا نتیجہ ہی ہے کہ سب سے زیادہ گھنی آبادی والا ملک چین فہرست میں ایک سے سترہ کے بیچ ہے اور ہم سو سے بھی نیچے ہیں۔
ہماری ذمہ داری
بچوں میں بھوک کی شرح کو کم کرنا اور ختم کرنا صرف سرکار کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے ہمارا فرض بنتا ہے کہ اپنے ملک کو اس بحران سے نکالنے میں معاون کردار ادا کریں۔ افسوسناک ہے کہ ہر سال ہندوستان میں 67 لاکھ ٹن کھانا برباد ہوتا ہے جس کی قیمت 92,000 کروڑ روپے ہے۔ یہ رقم پوری ریاست بہارکو ایک سال تک مفت کھانا کھلانے کے لیے کافی ہے۔ غور طلب ہے کہ جہاں بچوں کو روٹی بھی میسر نہیں، وہیں قریب 21 لاکھ ٹن گیہوں ہر سال سڑ گل کر ضائع ہو جاتے ہیں۔ بھوک کے اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے دوسروں کو کھانا کھلانا ضروری نہیں ہے، بلکہ اسے ہم اپنے آس پاس ضائع ہوتے کھانے کو بچا کر بھی کر سکتے ہیں۔
مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں مزید اناج کے ضائع ہو جانے کا خیال رکھنا چاہیے۔ اول تو یہ کہ ضرورت سے زیادہ کھانا نہ پکایا جائے جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔’’دو افراد کا کھانا تین کے لیےاور تین کاچار کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘(بخاری)
پھر بھی کھانا بچ جائے تو اسے ضرورت مندوں میں جلد از جلد تقسیم کردینا چاہیے۔ اپنے پڑوسیوں کا خاص دھیان رکھنا چاہیے کہ ان کے گھر کھانا موجود ہے یا نہیں۔ بھوک مری کی اصل وجہ قلتِ خوراک نہیں بلکہ اس کا غیر مناسب استعمال ہے۔خوراک کی بربادی نہ صرف بھوک مری میں اضافہ کرتی ہے بلکہ مالی نقصان کی وجہ سے معیشت میں بھی خاصی خرابی پیدا کر دیتی ہے اور معاشی بدحالی کی وجہ سے بنتی ہے۔
بھوک مری اور غذائی قلت نہ صرف بچوں کا حال تباہ کرتی ہے بلکہ ان کے خوش آئند مستقبل کو بھی تاریک کر دیتی ہے۔ ایسے بچے منفی ذہنیت کا شکار ہو جاتے ہیں اور کم عمری میں ہی جرائم کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ ملک و قوم کی ترقی میں سب سے بڑا ہاتھ ان کے نوجوانوں کا ہوتا ہے۔ ہمارے آج کے بچے کل کے جوان ہوں گے ۔لہذا ان کی صحت و تندرستی کا خیال رکھنا اور انہیں ایک اچھا شہری بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔

تغذیہ کے کمی کے شکار بچوں کی وجہ ان کے کنبے کا معاش بھی ہے۔ جب تک ان خاندانوں کے پاس کوئی ذریعۂ معاش نہیں تب تک بھوک مری سے
لڑ پانا ان کے لیے ممکن نہیں۔ لہذا اس طرح کے کنبوں کو پبلک ڈسٹربیوشن سسٹم کے تحت سماجی تحفظ مہیا کرانا چاہیے۔ اگر لوگ برسرروزگار ہوجائیں گے تو ان کی معیار زندگی میں بہتری آئے گی ،اور وہ اپنے بچوں کو نہ صرف بہترین غذا بلکہ تعلیم بھی دے پائیں گے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢