واقعی بعض خواتین مجبور و بے بس ہوتی ہیں ، انہیں آنسو بہانے کے لیے کسی کا کاندھا بھی میسر نہیں، لیکن سجدہ کرنے کے لیے زمین ہر وقت میّسر ہے،انسان اپنا دُکھ اپنے رب سے ہر وقت بانٹ سکتا ہے،یہ سہارا تمام سہاروں سے بڑا سہارا ہوتا ہے،لیکن کیا کیجیےگا کہ نادان انسان کو یہ توفیق ہی میسر نہیں ،یا جان بوجھ کر وہ غفلت میں رہنا پسند کرتا ہے ۔خیر یہ ایک الگ موضوع ا ور ایک الگ بحث کہلائے گی، ہم کہانی کے روپ میں بُنی گئی کیس اسٹڈی کی جانب بڑھتے ہیں۔
عنوان ’’پہلا نوالہ ‘‘،رفیعہ نوشین نے بہت ہی سادہ لفظوں میں زندگی کی مجبوریوں اور تکالیف پر قلم نما نشتر چلا کر سماج کے ان زخموں کو ادھیڑنے کی کوشش کی ہے، جن سے اکثر متوسط طبقہ نا آشنا ہے۔یہ کیس اسٹڈی پڑھنے کے بعد سبھی سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ دنیا میں کتنے انسان مفلسی و بے روزگاری کا شکار کن کن مسائل، حالات اور تکالیف سے گزر رہے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ ہی دل بے اختیار رب العالمین کا شکر ادا کرنے کو چاہ رہا ہوگا۔لیکن وقت کی تنگی اور مصروفیات اس بات کی اجازت نہیں دے رہی ہوںگی کہ فوراً سجدہ ریز ہو شکر ادا کرلیں۔
فکریہ لمحہ یہ ہے کہ ربِ کائنات نے ہمیں بہترین زندگی عطا کی ۔نرم بستر،گرم لوازمات اور بےفکری کے باوجود ہم میں غفلت ایسی کہ رب کی دی گئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ۔یہ بھی ہوسکتا کہ ہم رب کی جانب سے بخشی گئی مہلت کو سمجھ نہیں پارہے ہیں، شاید اسی لیے ہم بڑی بے فکر زندگی اور سہولت بھرے جھولے میں آنکھیں موندے پڑے زندگی کی اہمیت نہ جانتے ہوئے وقت گزاری کے مشاغل میں مبتلا ہو کر رہ گئےہیں۔راتوں کو جاگنا،دن چڑھے تلک سونا ایک عام معمول بن گیاہے۔گھڑیال ٹک ٹک کرتا وقت کی پھسلن کا اعلان کرتا رو رہا ہے ،اور ہم نمازوں سے غافل موبائل اور دوسری مصروفیات میں مشغول ہیں۔
تحریر’’ پہلا نوالہ ‘‘کی جانب آتے ہیں۔سماج کا ان پڑھ طبقہ کیسی سوچ رکھتا ہے اورکیسی غیر اخلاقی حرکتوں سے اس طبقے کی فیملی اورخاندان کوسامناہوتا ہے، اس سے اس بات کا پتا چلتا ہے۔ یہاں سب سے پہلے ایک بات واضح ہو گئی کہ تعلیم انسان کے لیے کس قدر اہم و ضروری ہے،اس کے بغیر ایک حیوان اور انسان میں کوئی فرق باقی نہیں ،جو اس کیس میں صاف نظر آرہا ہے۔
’’بیوی بچوں پر ظلم کرنا ہی عبدل کا پیشہ ہے۔‘‘جب خاتون نےیہ کہا تو اس ایک جملےسے پوشیدہ زندگی کا ہر درد عیاں ہو رہا ہے، جسے صاف محسوس بھی کیا جاسکتا ہے اوراس کے محسوس کرنے سے جسم کے رونگٹے بھی کھڑے ہوئے ہیں۔سوچیں! اگر وہ خاتون تعلیم یافتہ ہوتی ،یا سلائی وغیرہ جانتی تو شرابی بدکردار شوہر کا ظلم سہنے پر یوں مجبور ہوتی؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ کہیں جاب کر کے ، لوگوں کے کپڑے سی کرہی کیوں نہ ہو، اپنے بچوں کا اوراپناپیٹ پالنے کے قابل اور خودمختار ہوتی۔ غریب و بے کس خواتین جو اس طرح کے ظلم سہنے پر مجبور ہیں ہمت سے کام لینا ہوگا ،اور وہ بچیاں جو والدین کے آنگن میں بیٹھی بےکار وقت گزاری ،موبائل ،ٹی وی اور پڑوسیوں سے لایعنی گفتگو میں کھوئی اپنے قیمتی وقت کو ضائع کررہی ہیں،انہیںکچھ سبق حاصل کرنا ہوگا ۔
لڑکیاں اور خواتین ؛محلے کی کسی پڑھی لکھی خاتون سے مدد و رہنمائی حاصل کر کے سیکھنے سکھانے کا عمل جاری رکھیں،تاکہ زنگ آلود زندگیاں متحرک ہوکر ایک کامیاب روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوں۔
کیس اسٹڈی کی اس کہانی میں عبدل ؛گٹکا، سگریٹ اور شراب کا عادی تھا۔یہ باتیں تو ان پڑھ لوگوں کے لیے عام ہیں۔جب انسان حلال حرام کی تمیز بھول جائے گا تو یہ چیزیں تو اس کی زندگی میں لازمی آنی ہی آنی ہیں۔علم کی کمی ،شعورِ دینی فقدان خود بخود اس کے قدم گناہ کی دلدل میں پھنستے چلے جائیں گے ،اور وہ حرام کاموں کو آسان جان کر اس کاعادی بن جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ عبدل جیسے نوجوانوں کو ایسی کریہہ عادات اور گناہوں کے دلدل کے حوالے کس نے کیا؟یہ سوال اپنی تمام تر شدت سے سر اٹھائے، قاری کے ذہنوں کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ایک اچھی تربیت سے جب انسان محروم رہ جاتا ہے تو دنیا میں اس طرح کے فتنے ابھرآتے ہیں۔ ہم غفلت کی نیند میں ڈوبے ہیں،بچوں کی تربیت کی جانب ہماری کوئی توجہ ہی نہیں،بچہ جھوٹ بولتا رہا،بچہ اسکول سے پنسل اوردوسری چیزیں چوری کرکے لاتا رہا، بچہ سات سال کی عمر کو پہنچا،لیکن اسے نماز کی تلقین اور چھوڑنے پر تنبیہ نہیں کی گئی۔وہ نوسال کا ہوا ، نماز اس پر فرض ہونے کا احساس نہیں دلایا گیا۔بس اولاد دنیا میں لانے کا شوق تھا،پورا ہوا وقتی خوشی میسر ہوئی ۔
ماؤں! اس قیمتی دولت کی قدر کرنا سیکھو،ان کی تربیت کا اہتمام کرو،کیونکہ بچے کی پہلی درسگاہ تو ماں کی گود ہوتی ہے ۔کتنے افسوس کی بات ہے! اپنے ہی آشیانے میں اپنے ہی باپ کے سائے تلے لڑکیاں محفوظ نہیں ،تو آخر وہ جائیں تو کہاں جائیں؟ وہ کہاں محفوظ رہ سکتی ہیں؟ کون ان معصوموں کی عصمت کو عقیدت کی بلندی پر بٹھائے گا؟میری عدالت اگر ہوتی، جہاں صرف میرا حکم چلتا تو میں ایسے بدکردار باپ کی گردن قلم کردینے کا حکم جاری کردیتی۔مجھ سے اور لکھا نہیں جارہا…

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢