قرآن کی دعوت ہر انسان اورہر گروہ اور قوم کے لیے ہے، مگر امّت مسلمہ کے لیے’’رجوع الی القرآن‘‘آج آب حیات کی طرح ضروری ہے۔ کیونکہ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ اللہ پر ایمان رکھنے والوں کی کامیابی کا دارومدار صرف اللہ کی مکملّ فرمانبرداری پر ہی موقوف ہے۔ اللہ کی یہ سنّت ہے کہ وہ اس دنیا میں غیر مسلموں کو تو صرف مادّی طریقوں کے اپنانے سے دنیوی کامیابی عطا فرمادیتا ہے، مگر مسلمان اس کی کامل اطاعت کیے بنا اس دنیا میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتے‌۔ آخر قرآن کی طرف پلٹنے یا لوٹنے سے مراد کیا ہے؟ قرآن سے تو تعلقّ ہر مسلمان کا ہے ۔سب کے گھروں میں قرآن ہے، روزانہ لوگ نماز میں اور اس کے علاوہ بھی قرآن پڑھتے ہیں۔ ظاہر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ قرآن کو سمجھیں اور پھر اس پر عمل کریں، اپنی زندگی کو اس کی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیں۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ قرآن کی حیثیت تو یہ ہے کہ وہ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کی کتاب ہے، اور لوگ اسے بغیر سمجھے بوجھے پڑھتے ہیں‌۔ دنیا میں آخر ایسی کون سی کتاب ہے جسے لوگ بغیر سمجھے پڑھتے ہوں؟ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ لوگ حالات سے باخبر رہنے اور معلومات کے لیے اخبار پڑھتے ہیں ،تو ظاہر ہے یا تو اپنی زبان میں پڑھتے ہیں یا اگر دوسری زبان میں پڑھتے ہیں تو اس زبان کو سیکھنے کے بعد پڑھتے ہیں۔ قرآن کو بغیر سمجھے پڑھنے کے معاملہ میں بڑا قصور مذہبی رہنماؤں کا رہا ہے، جنہوں نے عوام کو ان کی اصل حیثیت سے واقف نہیں کروایا اور اس کوبغیر سمجھے پڑھنے پر ثواب بتانے تک محدود کردیا۔ اصل میں اس کو پڑھنے پر حدیث میں جو ثواب بتایا گیا ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ اسے پڑھنے پر آمادہ ہوں، جس سے اس ہدایت، قانون اور طریقۂ زندگی سے واقف ہوسکیں جو اللہ نے ان کے لیے اتارا ہے۔ ثواب اپنے آپ میں مقصد نہیں ہے ،بلکہ مقصد پر ابھارنے کا ایک ذریعہ ہے۔ کچھ لوگوں نے تو یہ غضب کیا کہ عوام کو بتایا کہ قرآن عام لوگوں کے سمجھنے کی کتاب نہیں ہے، بلکہ اسے عالم ہی سمجھ سکتے ہیں اور اسے سمجھنے کے لیے کئی طرح کے علوم کا ماہر ہونا ضروری ہے، اور یہ کہ جن لوگوں نے بھی سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کی، ان کو باقاعدہ روکا گیا، لعن طعن کی گئی، حالانکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے : ’’ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے۔،تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟‘‘ اصل میں لوگ دو چیزوں میں فرق نہیں سمجھتے۔ ایک تو یہ کہ انسان کو اور کائنات کو کس نے پیدا کیا؟ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اسے مر کے کہاں جانا ہے؟ اس کی زندگی کے لیے غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہے؟ان سب باتوں کو جاننے کے لیے قرآن بہت آسان ہے۔دوسری چیز جو عام انسان کے لیے مشکل ہے وہ قرآن سے زندگی کے لیے قانون، اصول اور طریقے اخذ اور مرتّب کرنا ہے، جسے صرف عالم ہی کرسکتے ہیں۔ لہٰذا، اب تک جو ہوا سو ہوا، اب ملّت کی پستی، ذلّت اور بےکسی کا واحد علاج یہی ہے کہ ہم اللہ کی کتاب یعنی رہنمائی کی طرف پلٹیں، اس کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لیں۔ قرآن کی جو حیثیت ہے، اس کے مدّنظر تو عربی سیکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے،مگر جو نہیں سیکھ سکا، اسے ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھنا اور سمجھنا ہر حال میں واجب ہے۔ ہم میں سے ہر ایک یہ عہد کرے کہ وہ روزانہ قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھےگا یا سنےگا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالےگا، اسی میں مسلمانوں کی عزّت و کامیابی کا راز چھپا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ اگر وہ تورات و انجیل اور ان کتابوں کی پیروی پر قائم رہتے، جو ان کے پاس بھیجی گئی تھیں تو ان پر آسمان سے رزق برستا اور زمین سے رزق ابلتا۔‘‘ (سورۃ المائدہ: 66)

ویڈیو :

video link

آڈیو:

audio link

1 Comment

  1. رابعہ بانو

    بیشک ،اللہ ہم سبکو توفیق عطا کرے آمین

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢