سب سے پہلے کہانی پڑھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ عبدل جیسے گھٹیا اور درندہ صفت انسان کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے۔ظلم اور ہوس کی انتہا تو تب ہوئی جب اس نے اپنی ہی سن بلوغ کو پہنچی ہوئی بچی کو بھی ہوس بھری نگاہ سے دیکھا اور اسے پہلا نوالہ کہا ۔لا حول ولا قوۃالا باللہ!
تہنیت پر تشدد کرنا ، اس کے گھر میں اسی کے سامنے غیر عورتوں کو بد فعلی کے لیے لانا، اپنی ہی بچی پر غلط نگاہ ڈالنے سے روکنے پر اس کی چوٹی پکڑ کر گھسیٹتے ہوئےگھرسے باہر کر دینا؛ یہ تو ظلم کی انتہا ہے۔ ایسے لوگ کڑی سے کڑی سزا کے مستحق ہیں ،لیکن تہنیت ایک ماں ہوتے ہوئے بھی بچوں کو ایک ایسے درندہ صفت آدمی کے حوالے کر کے درگاہ میں پناہ لینے چلی گئی، جو آدمی بچوں کے ساتھ کچھ بھی غلط کر سکتا تھا ۔
بیٹی کو کوٹھے پر بیچ دیتا ،یا بدکاری کے لیے اکساتا،یا پھر ہاتھ پیر توڑ کربھیک منگواتا وغیرہ۔ وہ جہاں جا رہی تھی بچوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاتی ۔۔کہیں نہ کہیں اللہ کی مدد ضرور مل جاتی۔ جیسے تمہیں درگاہ کا آسرا مل گیا اس آفس کا پتہ مل گیا۔تہنیت کا کہنا ہے کہ اس نے دروازہ بند کر لیا تھا ۔ارے بھائی! کبھی تو اس کا نشہ اترتا ،کبھی تو وہ دروازہ کھولتا ۔
ماں کے لیے اولاد کبھی بوجھ نہیں ہوتی ۔ایک کہاوت ہے’’ پگڑی والا باپ مرے ، جھولی والی ماں جیے‘‘ یعنی باپ اگر حکمران بھی ہے تو اس کے سامنے ایک بھکارن ماں کو ترجیح دی گئی ہے ۔ میری نظر میں باپ تو ظالم اور گنہگار ہے ہی ، اور اس کے گناہ قابل معافی نہیں ہیں ،مگر تہنیت کا یہ قدم بھی قابل قبول نہیں ہے ۔میں رفیعہ نوشین صاحبہ کے کار خیر کے لیےمبارکباد دیتی ہوں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢