فاطمہ پیمان کو 20 جون 2022 ءکو لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کے لیےپرٹھ، ویسٹ آسٹریلیا سے منتخب کیا گیا ۔
فاطمہ پیمان 1995 ءمیں کابل، افغانستان میں پیدا ہوئیں، وہ اپنی دو بہنوں اور دو بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔فاطمہ کے والد عبد الوکیل 1999ءمیں افغانستان سے پاکستان چلے گئے تھے ، لیکن پاکستان میں کچھ ماہ رہنے کے بعد انہیں اندازہ ہواکہ یہاں رہتے ہوئے ہم بچوں کو اچھا مستقبل نہیں دے سکتے، چنانچہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیےانہوں نے کسی اور ملک میں رہائش اختیار کرنےکا فیصلہ کیا اور پھر ایک دن پاکستان سے کشتی کے ذریعے 11 دن کی طویل اور تکلیف دہ مسافت طے کرنے کے بعد آسٹریلیا پہنچ گئے اور وہاں پر رفیوجی کیمپ میں رہنے لگے، قانونی کارروائی کے بعد ایک تارک وطن کی حیثیت سے آسٹریلیا میں کام کرنا شروع کردیا، چونکہ فیملی پاکستان چھوڑ آئے تھے،اور انہیں بچوں کو بہت جلد آسٹریلیا لانے کی فکر تھی، اس لیے وہ وہاں بڑی محنت کرتے تھے، بچوں کو وہاں بلانے کے لیے ہر طرح کے کام کیے، سیکورٹی کا کام کیا، ہوٹل میں کام کیا، ٹیکسی چلائی۔ یہ بات فاطمہ نے ارکان پارلیمنٹ کو اپنی پہلی اسپیچ میں بتائی ۔
فاطمہ کے والد آسٹریلیا پہنچ تو گئے تھے، لیکن گھر کے افراد بہت پریشان تھے، کیوں کہ انہیں کچھ نہیں پتہ تھا کہ وہ آسٹریلیا پہنچے یا نہیں، بچوں کو چار ماہ بعد پتہ چلا کہ وہ خیریت سے آسٹریلیا پہنچ گئے ہیں۔
فاطمہ کے والد بچوں کی تعلیم اور ان کے مستقبل کے لئے بڑے پریشان رہتے تھے، لیکن بچوں کو آسٹریلیا بلانا اور انہیں وہاں شفٹ کرنا بہت آسان کام نہیں تھا، اس کے لیے بہت سارے پیسوں کی ضرورت تھی، ان پیسوں کو جٹانے کے لیے فاطمہ کے والد دن و رات محنت کیا کرتے تھے ، بالآخر تقریبا ًچار سال کی انتھک محنت کے بعد 2003 ءمیں وہ اپنے بچوں اور اہلیہ کو آسٹریلیا بلا نے میں کامیاب ہوگئے۔
اس وقت فاطمہ کی عمر تقریباً آٹھ سال تھی، فاطمہ کا ایڈمیشن آسٹریلیا کے ایک اسلامی کالج میں ہوگیا۔انہوںنےوہاں ہر اعتبار سے اپنے آپ کو ایک ہونہار اور ذہین طالبہ ثابت کیا، تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ اسکول کی دیگر ایکٹیویٹیز میں بھی وہ حصہ لیا کرتیں ،ان کی ذہانت اور کالج کی بچیوں کے ساتھ بہترین میل جول اور ان کے ساتھ اچھے سلوک کی وجہ سےفاطمہ کو لڑکیوں کا ہیڈ بنا دیا گیا۔
ایک بار دوران تعلیم کالج کے کسی اسٹوڈنٹ نے ان کے حجاب پر انہیں کچھ کہا ، جس پر فاطمہ نے اس دن جو جواب دیا تھا ،اسی جواب نے فاطمہ کے مستقبل کو طے کر دیا تھا
Hijab is my choice. I am young. I am progressive and my family were born overseas. I am representative of modern Australia.
(حجاب میری پسند ہے، میں جوان ہوں، میں ترقی پسند ہوں اور میرا خاندان بیرون ملک میں پیدا ہوا ہے، میں جدید آسٹریلیا کی نمائندہ ہوں۔ )
فاطمہ کا تعلیمی سفر ابھی جاری ہی تھا کہ اسی بیچ ان کے گھر ایک بڑا حادثہ پیش آگیا، فاطمہ کے والد کا خون کے کینسر کی وجہ سے اچانک انتقال ہوگیا۔یہ حادثہ 2018 ءمیں پیش آیا۔
فاطمہ کے سامنے اچانک بڑا مشکل وقت آگیا، لیکن فاطمہ نے اپنے والد کو محنت کرتے ہوئے ، جد و جہد کرتے ہوئے ، ہمت اور صبر سے کام لیتے ہوئے دیکھا تھا۔فاطمہ نے اس کے بعد بہت سارے کام کیے، دسویں کلاس کے بچوں کو پڑھایا، این جی اوز میں کام کیا، چیریٹی اداروں میں کام کیا،تارکین وطن اور مائنارٹیز کے مسائل اور مشکلات کو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں رکھااور انہیں حل کروایا۔ این جی اوز وغیرہ میں کام کرتے وقت ، تارکین وطن اور اقلیتوں کے مسائل و مشکلات کو حل کروانے کے دوران فاطمہ کی ملاقات جہاں مختلف ڈیپارٹمنٹ کے آفیسروں سے ہوا کرتی تھی، وہیں بڑے اور اہم سماجی اور سیاسی رہنماؤں سے بھی ہوا کرتی تھی۔
فاطمہ نے ان سے بہت کچھ سیکھا، بہت سارے تجربات حاصل کیے۔فاطمہ نے دیکھا اور سوچا کہ بہت سے ملکوں سے آئے ہوئے تارکین وطن، رفیوجیوں اور مائنارٹیز کے بہت سارے مسائل اور ایشوز ہیں، جنہیں ہم باہر رہ کر بآسانی حل نہیں کرا سکتے، بلکہ مجھے سرکار میں، سسٹم میں جگہ بنانی پڑے گی۔ پھر فاطمہ نے اس پر فوکس کیا، بڑی محنت کی، یونین میں کام کیا، اور پھر ایک دن لیبر پارٹی سے سینیٹر کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ھوگئی اور 20 جون 2022 ءکو 27 سالہ فاطمہ پیمان آسٹریلین پارلیمنٹ کے لئے ( پرتھ ویسٹرن آسٹریلیا سے) منتخب ہوگئیں۔
فاطمہ، جو کہ ایک حجابی اور سب سے کم عمر آسٹریلین سینیٹر ہیں،انہوں نے آسٹریلیا میں ایک تاریخ رقم کر دی ہے، ایک افغان تارک وطن کی ایک بیٹی کا اتنی کم عمری میں سینیٹر کے لئے منتخب ہوجانا آسان اور معمولی واقعہ نہیں۔ یقیناً اس کے پیچھے فاطمہ کی کئی سالوں کی جد وجہد کا ہاتھ ہے، وہاں کی کمیونٹی کے لئے شب و روز محنت کیا تھا ، تب کہیں جاکر فاطمہ کو یہ کامیابی حاصل ہوئی۔ فاطمہ کے دادا بھی طالبان حکومت سے قبل افغان پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔فاطمہ پیمان ،پرتھ ویسٹ آسٹریلیا-جہاں سے وہ منتخب ہوئی ہیں -وہاں کی ضروتوں اور وہاں کے لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے زبردست محنت کر رہی ہیں۔کئی گھنٹے تک کام کرتی ہیں۔
ہمیں امیدہے کہ مزید کامیابیاں اور ترقیاں فاطمہ کے قدموں کو چومیں گی۔فاطمہ ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اپنی والدہ، ایک بہن اوردو بھائیوں کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتی ہیں۔ فاطمہ آسٹریلین اسلامک اسکول بورڈ کی ممبر بھی ہیں۔فاطمہ کے پاس وکالت کی ڈگری ہے،اس کے علاوہ فاطمہ کئی چیزوںمیں ڈپلومہ بھی کی ہوئی ہیں۔ میڈیسن میں بھی فاطمہ کی دلچسپی رہی ہے، وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں لیکن قسمت نے انہیں ایک سیاست داں بنا دیا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢