ہر روز کی طرح آج بھی شاذیہ کی آنکھوں میں آنسوؤں کی لڑی تھی، اور رات کی خاموشیاں اس کا منہ چڑھارہی تھیں ،فطری طور پر فضا معطر تھی ، پوری عالم انسانیت ’’نومکم سباتا ‘‘کی مکمل تصویر بنی ہوئی تھی، لیکن نہیں، نہ جانے کتنے والدین اور دوشیزاؤں سے نیند کوسوں دور تھی ، اپنے لخت جگر کے روشن و تابناک مستقبل کی فکر میں والد ین کو اپنے خواب بکھر تے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ والدین اپنے جگر کے ٹکڑوں کے سامنے اپنے اصلی چہروں کولبادہ اوڑھا کر ان کو خوابوں کی بھول بھلیوں کی سیر کراتے ہیں، تو دوسری جانب آنکھوں میں مایوسی ، حسرت وکرب قہقہہ لگارہی ہوتی ہیں۔
نہ جانے انہوں نے کتنی آرزؤں کو زندہ درگور کر دیا، کتنی امنگوں کا گلا گھونٹ دیا، بیٹیوں کی زندگی کی نیا پار کرنے کے لیےکتنی خاردار جھاڑیوں اور پر بیچ راہ گزاروں اور شاہراہوں سے گزرتے ہوئے ان کے دامن لہولہان ہوئے ہوں گے اور ان کے دلوں میں ایسے زخم لگے ہوں گے جو بھی مندمل نہیں ہو سکتے۔
شاذیہ انہیں سوچوں میں گم تھی اور سماج کے نا گفتہ بہ حالات کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے رشحات قلم کے ذریعہ اس کی عکاسی کر رہی تھی کہ اچانک پڑوس والے انکل کی گذشتہ دنوں میں کی گئی اسپیچ کے کچھ جملے اس کی سماعتوں کے دریچوں کو وا کر تے ہوئے ہتھوڑے برسانے لگے:
’’اقامت دین کے بلند نصب العین کے لیےکتاب الٰہی کے پیغام کو عام کرنے کے لیےہر ایک بستی میں اسلام کے پیغام کو عام کرنا ہوگا ، ہم دنیا و آخرت کی سرخ روئی کے ذریعہ ہی اپنے رب کی چاہتوں کے مستحق بن سکتے ہیں ، انہی پیغامات میں سے ایک پیغام نکاح کو آسان کرنا ہے ، اسلام ایک فلسفہ ٔحیات ہے جو زندگی کے ہر گوشے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ۔‘‘
دوسری طرف جب شاذیہ کی ذہن کی اسکرین نے انکل کی عملی زندگی کے پردے کو چاک کیا، تو اس نے دیکھا کہ انکل کی اولاد بڑی بڑی یو نیورسٹیز کا رخ کرتی ہے، مولانا انکل ان کی ڈگریوں کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے رطب اللسان رہتے ہیں، وہ امراء کی پریوں کے لیےاپنے بچوں کو طشت میں سجا کر پیش کر دیتے ہیں اور رشتۂ ازدواج کو منسلک کر کے اپنے سر کو فخر سے بلند کرتے ہوئے چادروں کو گھسیٹتے ہوئے چلتے ہیں۔ جب ان کے سامنے غریب سماج لب وا کر تا ہے تو ان کولوری سنا کر تھپکی دے کر سلا دیتے ہیں کہ اسلام نے حسب ونسب میں کفو ملحوظ رکھنے کی بات کی ہے ،خوبصورت لڑکیوں سے شادی کرنے کی بات کی ہے ۔شاذیہ یہ سوچنے لگتی ہے کہ اسلام نے تو دینداری کو ترجیح دینے کی بات کی ہے ،اور پھر اپنے حالات کا جائزہ لینے لگتی ہے تو اس کا دل حسرتوں کا پروانہ پیش کر دیتا ہے کہ تم امراء کا مقابلہ کرتی ہو؟ کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی؟
شاذیہ کوبھی دیکھنے کے لیے کئی ٹولیاں الگ الگ دنوں میں آ چکی تھیں ،ان کے سامنے دستر خوان سجائے جاتے، جو مختلف لوازمات سے لبالب ہوتے تھے ۔لوگ اشیاء خوردونوش کےمختلف النوع ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے۔پھر یہ کہہ کر چلے جاتے کہ ہم سوچ سمجھ کر بتائیں گے ۔پھر دوسرے دن فون کی گھنٹی بجتی، اورنفی کامنحوس پرندہ منڈلانے لگتا۔ گھر کے ہر گوشے میں خاموشی اور غم کی کیفیت اپنا مسکن بنالیتی ۔
لمحۂ فکر یہ ہے کہ لڑ کی کوئی بازار کے شوروم کی چپل تو نہیں کہ فٹ بیٹھے تو خرید لیں، ورنہ بازار میں واپس کردیں ۔ آخر شاذیہ کے والدین ایک دن نڈھال ہوتے ہوئے یوں مخاطب ہوئے:
’’ بیٹی ! یہ دنیا ایک صحرا کے مانند ہے، اس کے اہالیان سنگ افگن ہیں، ہماری زندگی خاردار جھاڑیوں کے بیچ ہچکولے کھاتے ہوئے گزررہی ہے ،اب ہمت بھی جواب دیتے ہوئے منھ چڑا رہی ہے، ہم با اخلاق ہوتے ہوئے بھی با اخلاق نہیں ہیں، کیوں کہ عصرحاضر میں بااخلاق اور اعلیٰ اخلاق کی مہر اور اپنے نام کے ٹھپے لگوانے کے لئے سر مایہ کا ہونا ضروری ہے ، سرمایہ سے ضروریات کو خریدا جاسکتا ہے اور تہذیب سے آرزؤںکو ۔دونوں میں بڑا تضاد ہے، لیکن کامیابی کا تمغہ دولت مند کے گلے میں پڑتا ہے اور غریبی اپنے ساتھ عیوب لے کر آتی ہے۔
بیٹی! تم سمجھوتہ کرلو، یہی میں تمہارا مقدر ہے، کیوں کہ یہ سفید پوش اعلیٰ ڈگریوں کا قلادہ بصورت تمغہ اپنے گلے میں پہننے والی پر یوں کے متلاشی ہوتے ہیں۔ دولت کے پجاری و محب ہوتے ہیں، تم ہمارے لیے پری ہو،لیکن سماج کے لیے نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ رک گئے ۔
شاذیہ شاید اپنے لب وا کرتی ،لیکن اس کی زبان گنگ ہوگئی تھی ، خواب بکھر گئے، ارمان جل گئے ، آرزؤں نے دم توڑ دیا ، اس کو اپنا وجود بکھرتا ہوا نظر آیا ، ایسا لگا جیسے اس کا خون کر دیا گیا ہو، اس کی زبان سے صرف ایک جملہ نکلا: ’’مت قبل هذا وكنت نسيا منسيا.‘‘
جب نسیان کی گھڑی اپنے لب وا کرتی ہے اور یادوں کے در پیچے اپنا پنکھ پھیلا دیتے ہیں تو پڑوس والی آنٹی کی باتیں اس کے دل پر رقص کرنے لگتی ہیں:
’’ آپ کی شاذیہ خوبصورت تو نہیں کہ کوئی اعلیٰ ڈگری اور جاب والا شہزادہ ملے گا، کیوں کہ یہ چیزیں خوبصورتی اور دولت کی مرہون منت ہیں ۔ اس لیے کہا تھاکہ بیٹی کوتعلیم مت دلاؤ، کوئی اعلیٰ خاندان گھاس نہیں ڈالے گا ۔‘‘ شاذیہ یہ سوچنےلگی کہ تعلیم تو جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے ،تعلیم حاصل کر نا تو فرض ہے، پھر ایسا کیوں؟ اس کے آگے وہ کچھ نہیں سوچ سکی، کیوں کہ اس کا ذہن مفلوج ہو نے لگا۔
یہ شاذ یہ ہی کانہیں، نہ جانے کتنے لخت ہائے جگر کا قصہ ہے، جو گمنامی کے صحرا میں آنسو بہاتی نظر آتی ہیں، اور نتیجۃً یہ سماج ان کے ہاتھ میں خودکشی کا لڈو تھمادیتا ہے ، کیوں کہ بدصورتی اور غربت اپنے نام کے ٹھپے ان پر ثبت کر چکی ہوتی ہیں، اور سماج کے اعلیٰ طبقات میں تو صرف اور صرف دولت ، شہرت، حسن اپنے جھنڈے گاڑے ہوئےہیں۔
کون ان کا درد بٹورے؟ کون ان کی فریاد سنے؟ تہذیب کے دوراہے پرشاذیہ کے والدین یا اس طرح کی بچیوں کے والدین تو جھوٹ ، فریب ، دھوکے بازی ،عیاری جیسی مذموم صفات سے متصف تو ہوتے نہیں ہیں ، وہ تو صدق مجسم کے پیکر ہوتے ہیں ،حقیقت حال سے واقف کرادینا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں ۔ دوسری طرف خاندان کی باتیں کچوکے لگاتی ہیں ۔
نام نہاداونچے اور بڑے لوگ جو تعلیم اور ڈگریوں کے نام پر ایک بدنما داغ ہوتے ہیں ،سماج کے لئے ناسور ہوتے ہیں ،ان کی بڑی ڈیمانڈ ہوتی ہے، یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے ، یہ تو ایک سفر ہے، پھر دولت کے پجاریوں کو اتنی ہوس کیوں؟ تعلیم تو انسان کو درد دل کا آئینہ بناتی ہے، لیکن آج معاملہ اس کے برعکس ہے ،کیوں کہ آج ڈگریاں خریدی جاتی ہیں، تا کہ انسان پیسے کمانے کی مشین بن جائے ۔
ذرا سوچیں! خوب سیرت ہونا خوبصورت ہونے سے بہتر ہے، ذہین ہونا حسین ہونے سے بہتر ہے ،مگر کیا کیجیے کہ:
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

شاذیہ کوبھی دیکھنے کے لیے کئی ٹولیاں الگ الگ دنوں میں آ چکی تھیں ،ان کے سامنے دستر خوان سجائے جاتے، جو مختلف لوازمات سے لبالب ہوتے تھے ۔لوگ اشیاء خوردونوش کےمختلف النوع ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے۔پھر یہ کہہ کر چلے جاتے کہ ہم سوچ سمجھ کر بتائیں گے ۔پھر دوسرے دن فون کی گھنٹی بجتی، اورنفی کامنحوس پرندہ منڈلانے لگتا۔ گھر کے ہر گوشے میں خاموشی اور غم کی کیفیت اپنا مسکن بنالیتی ۔

1 Comment

  1. صدف الماس

    شاذیہ جیسی کہانی ہمارے سماج میں روز ہوتا ہے آخر کب تک معصوم پڑھی لکھی بیٹیاں سسکتی رہینگی 😰

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢