سوال:
اگر کسی بھائی نے اپنے سگے بھائی کی ہی بچی کوگود لے لیا ہو تو نام و نسب کےتحت کون سے شرائط اس پر لازمی ہوںگے؟
جواب:
مذکورہ سوال میں لے پالک یا متبنیٰ، منہ بولے بیٹے کے تعلق سے استفسار کیا گیا ہے ۔انسانی تمدن میں ہمیشہ دوسروں کے بچوں کو گود لینے کا رواج رہا ہے۔ اس کے مختلف اسباب ہوتے ہیں مثلاً زوجین کا اولاد سے محروم ہونا، یتیموں اور لا وارث بچوں کی کفالت و پرورش اور سرپرستی وغیرہ ۔معصوم بچوں کو بغرض پرورش اپنی سرپرستی فراہم کرنا مستحسن اقدام ہے ،البتہ انہیں اپنی اولاد کے طور پر گود لینے اور متبنیٰ بنانے کے ذیل میں ہمیں شرعی احکام کو قرآن وسنت کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے ۔
عربوں میں بھی اسلام سے قبل رواجوں میں سے ایک منہ بولے بیٹے (متبنیٰ) کی رسم تھی، وہاں پر لے پالک کو حقیقی بیٹا سمجھ لیا جاتا اور اسے حقیقی بیٹے کے حقوق واختیارات حاصل ہو جاتے، اسلام نے منہ بولے بیٹے کو اس کے اصل باپ کی نسبت سے بلانے پکارنے کا حکم دیا ہے۔
قال اللہ تعالی:ادعوھم لآبائھم ھو أقسط عند اللہ
(سورۂ احزاب ، آیت5 🙂
(اور انہیں(لے پالکوں کو ان کے حقیقی باپوں کی نسبت ہی سے پکارو، یہی خدا کے نزدیک زیادہ عدل والی بات ہے ۔)
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم:من ادعی إلی غیر أبیہ فعلیہ لعنة اللہ والملائکة والناس أجمعین، لا یقبل منہ صرف ولاعدل
(مشکوة شریف، ص: 239، بحوالہ: صحیحین )
(جس شخص نے اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کو اپنے باپ بنانے کا دعویٰ کیا اس پر اللہ کی ،فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اس کا کوئی تبادلۂ زریا معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا ۔)
لہٰذا، اسلام کی رو سے متبنیٰ حقیقی بیٹا نہیں بنے گا اور حقیقی بیٹے والے احکام بھی جاری نہیں ہوں گے۔یعنی:
(1)ولدیت کی جگہ پر اصل باپ ہی کا نام بولا اور لکھا جائے گا۔گود لینے والے کا نہیں۔
(2) متبنیٰ، گود لینے والے کا وارث نہیں بن سکتا ،اگر یہ اپنی مرضی جائداد یا رقم متبنیٰ کے نام لگانا چاہتا ہے تو بطور ہبہ لگ جائےگی۔
(3)گود لینے والا، متبنی کے لیے اپنے کل مال میں سے ایک تہائی مال کی وصیت کر سکتا ہے۔
(4) متبنیٰ، گود لینے والے کی بیوی کا ہمیشہ غیر محرم رہے گا۔ اگر متبنیٰ نے اس بیوی کا یا اس بیوی کی بہن کا اڑھائی سال کی عمر میں دودھ نہیں پیا۔ اگر پی لیا تو محرم بن جائے گا، رضاعی رشتہ بن جائے گا۔
(5)متبنیٰ، گود لینے والے کے لیے غیر محرم رہے گی ۔اگر اس کی بیوی یا ماں بہن بیٹی کا دودھ نہ پیا ہو۔
(6)متبنیٰ،متبنیہ کا غیر محرم و محرمہ سے پردہ کرنا ضروری ہے۔
(7) گود لینے والا، متبنی کی طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کر سکتا ہے۔

مذکورہ بالا سوال میں استفسار بطورِ خاص حقیقی بھائی کی اولاد کے بارے میں دریافت کیاگیا ہے یہ متبنی / متبنیہ چاچا کے لئے محرم رشتہ ہوگا۔نام و نسب و وراثت کے ضمن میں تمام احکام حسب ضابطہ مذکورہ ہوں گے ۔

 

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢