غزل

لوٹ آئے عشق زلیخا کی نشانی بن کر
حسن بے پردہ ہوا دشمن جانی بن کر

شب کی خاموشی فضائے جو امیدیں باندھی
صبح بے ساختہ آئی ہے سہانی بن کر

ایک بھی خواب کی تعبیر نہیں مل پائی
رہ گئی زندگی خوابوں کی کہانی بن کر

شہر کے کوچہ و بازار میں ہے ذکر میرا
شعر مہکے ہیں میرے ’’رات کی رانی ‘‘بن کر

دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی آواز جوتھی
دور تک بہے گئ دریا کی روانی بن کر

عشق کیا ہے یہ اگر جاننا چاہے کوئی
آپ جل جائے بنے راکھ ، بہے پانی بن کر

وہ جو سنتے تھے کبھی کان لگا کر باتیں
بیٹھے ہیں بت کی طرح پیکر فانی بن کر

1 Comment

  1. محمد اسلم غازی

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    اس غزل کے بعض اشعار ناموزوں ہیں۔
    پوری غزل غیر معیاری ہے

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢