’کشمیر فائلز‘ حقائق سے دور فلم
گزشتہ تیس برسوں میں کشمیری پنڈتوں کے کسی بھی قاتل کو سزا کیوں نہیں ہوئی؟ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ لوگ عدالت کیوں نہیں گئے؟ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ عسکریت پسند تنظیم کے ایک کارکن جس نے یونیورسٹی کے ایک لیکچرر کو مارا تھا اس کی عصمت دری کی تھی، اس معاملے کو یہ لوگ بہت اچھالتے ہیں اور بعد میں یہی کارکن بی ایس ایف کا حصہ بن گیا اور اس نے سوپور میں حالات کافی خراب کروائے۔ اس نے نہ جانے کتنے لوگوں کو انکاؤنٹر میں مروادیا۔ بعد میں اسی شخص نے ایک ایسی سیاسی پارٹی جوائن کی جس کی بی جے پی حمایت کرتی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس شخص نے تیس لوگوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا اس کے خلاف بھی کبھی چارج شیٹ داخل نہیں ہوئی۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟
یہ سوالات مشہور سینئر جرنلسٹ افتخار گیلانی نے ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خاص بات چیت میں اٹھائے ہیں۔ جناب افتخار گیلانی ان دنوں ترکی کے انادولو ایجنسی میں انٹرنیشنل ڈپارٹمنٹ کے ایڈیٹر ہیں۔ اس سے قبل وہ DNA/WION میں تھے، جہاں انہوں نے بطور ایڈیٹر (اسٹریٹجک افیئرس) اپنی خدمات انجام دیں۔انہوں نے تہلکہ، کشمیرٹائمس سمیت متعدد اشاعتوں کے لیے بھی کام کیا ہے۔ ان کا تعلق کشمیر کے ضلع سوپور سے ہے۔ وہ 1990 ءکے آس پاس کشمیری پنڈتوں پر ہونے والے مظالم کے چشم دید گواہ بھی ہیں۔
تیس برسوں میں صرف ایک ہی شخص کو سزا
نمائندہ ہفت روزہ دعوت کے ساتھ خصوصی گفتگو میں افتخار گیلانی نے بتایا کہ گزشتہ تیس برسوں میں اب تک صرف ایک معاملے میں ایک شخص کو سزا ہوئی ہے۔ یہ کیس ایچ این وانگچو کا تھا، وہ ٹریڈ یونین لیڈر تھے۔ اس کیس میں جو سب سے اہم گواہ تھا، وہ مسلمان ہی تھا، اور مسلمانوں کی گواہی کی وجہ سے ہی سزا مل پائی تھی۔وہ مزید بتاتے ہیں کہ ہردئے ناتھ وانگچو کا قتل 6 دسمبر 1992 ءکے آس پاس ہوا تھا۔ اس وقت جہاں پورے ہندوستان کے مسلمان بابری مسجد کی شہادت پر آنسو بہا رہے تھے، کشمیر کے مسلمان وانگچو کے قتل پر آنسو بہا رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ان کے قاتلوں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیر کے مسلمانوں نے پورے چار دنوں تک ہڑتال کی تھی۔
افتخار گیلانی کہتے ہیں کہ ٹاڈا کورٹ جموں میں تھا، اس لیے یہ کہنا بھی غلط ہو گا کہ سرینگر میں کوئی گواہی دینے نہیں آ سکتا تھا۔ ٹاڈا کورٹ جموں میں بنایا ہی اس لیے گیا تھا کہ بلا کسی خوف وخطر کے کوئی بھی گواہی دینے کے لیے آسکے۔ لیکن اس کے باوجود بھی کچھ نہیں ہوا۔ دراصل نہ حکومتوں نے اور نہ ہی کشمیری پنڈتوں نے عدالت میں کوئی دلچسپی دکھائی۔
پنڈتوں کو جموں کیوں لے جایا گیا؟
ایک طویل گفتگو میں افتخار گیلانی کہتے ہیں کہ 1990 ءکے آس پاس کشمیر میں جو حالات پیدا ہوئے، اس کے بارے میں میرا یہی کہنا ہے کہ یہ حالات پیدا کروائے گئے۔ اگر یہ مان لیں کہ جگموہن اس میں براہ راست شامل نہ تھے پھر بھی یہ ایک بڑی انتظامی ناکامی تھی۔ سوپور میں پندرہ سو گھر تھے، اگر وہاں کوئی مسئلہ تھا تو قریب ہی آرمی کا ڈویژنل ہیڈکوارٹر تھا، سی آر پی ایف کا کیمپ تھا، وہاں ان کو رکھ سکتے تھے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ غور طلب بات ہے کہ گجرات فسادات میں جب دو ہزار لوگ مارے گئے تو کیا اس کے بعد وہاں کے مسلمانوں کو لے جا کر دہلی یا کسی دوسرے صوبے میں بسایا گیا؟ نہیں! ان کو وہیں کیمپوں میں رکھا گیا۔ اسی طرح کشمیری پنڈتوں کو بھی حالات کے قابو میں آنے تک کیمپوں میں رکھا جا سکتا تھا۔ وہاں سے انہیں تین چار سو کلومیٹر دور جموں کیوں لے جایا گیا؟
وہ مزید بتاتے ہیں کہ 1989 ءمیں گورنر کے طور پر جگموہن نے کشمیر آتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ جو لوگ حالات کو سنبھال سکتے تھے، کنٹرول کر سکتے تھے، ان کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا۔ کسی کو جودھپور تو کسی کو الہ آباد اور نہ جانے کہاں کہاں بھیج دیا گیا۔ اگر یہ باہر ہوتے تو یقیناً حالات کو سنبھال سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر میں گورنر جگموہن نے حالات ہی ایسے پیدا کر دیے کہ ہر حساس شخص محفوظ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور تھا۔ ہم کشمیری لوگ ہمیشہ سے یہ مانتے ہوئے آئے ہیں کہ اکثریتی برادری کا فرض نہیں بلکہ ڈیوٹی ہے کہ وہ اقلیتوں کی حفاظت کرے، لیکن کشمیر کی اکثریتی کمیونٹی کو تو خود کی زندگی پر ہی کوئی اختیار نہیں ہے۔
’’ہمارے مسلمان پڑوسی ہی ہماری سکیورٹی ہیں‘‘
افتخار گیلانی اس وقت کے حالات کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ 1989 ءمیں گورنر جگموہن کے آتے ہی افواہوں کا بازار گرم ہو گیا تھا کہ ’’آبادیوں پر بمباری ہونے والی ہے‘‘۔ یاد رہے کہ سردیوں کے آتے ہی دارالحکومت سری نگر سے جموں منتقل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس بار بھی سردیوں میں جونہی دارالحکومت جموں منتقل ہوا، میرے محلے کے اطراف کے آسودہ حال ہندو بھی معمول کے مطابق جموں چلے گئے۔ مگر صوفی حمام کے ہندو وہیں مقیم رہے۔ ایک دن آئی ٹی بی پی یعنی ’انڈیا تبت بارڈر پولیس‘ کے ایک کمانڈنٹ مقامی پولیس افسروں کے ساتھ محلے میں آئے اور پنڈتوں کی سیکیورٹی کا جائزہ لیا۔ مقامی مسجد میں محلہ کے ذی عزت افراد اور پنڈتوں کے نمائندوں کو بلایا گیا۔ کشمیری پنڈتوں نے صاف طور پر کمانڈنٹ سے کہا کہ ’’ہماری سیکیورٹی کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، ہمارے مسلمان پڑوسی ہی ہماری سیکیورٹی ہیں‘‘۔ محلے کے مقتدر افراد نے بھی افسروں کو یقین دلایا کہ ’’اقلیتی افراد کی حفاظت کرنا ان کا فرض ہے اور وہ یہ فرض نبھائیں گے‘‘۔ مگر دو دن بعد ہی آدھی رات کے لگ بھگ اماوس کی رات، جب بجلی بھی بند تھی، لاؤڈ اسپیکروں سے کرفیو کا اعلان کیا گیا۔ سڑک پر فوجی بوٹوں کے ٹاپوں اور ٹرکوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ پنڈتوں کے مکانوں سے بھی چیخ وپکار کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ گھپ اندھیرے میں پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شاید فوجی آپریشن شروع ہو گیا ہے۔
اس رات کو یاد کرتے ہوئے افتخار گیلانی کہتے ہیں کہ اس رات ہمارے دروازے پر بھی دستک ہوئی۔ میرے والد صاحب نے جب دروازہ کھولا تو سامنے ان کے دیرینہ بے تکلف پنڈت دوست اور آفس کے ساتھی امرناتھ بھٹ تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ’’نیم فوجی تنظیم کا افسر پورے لاؤ لشکر اور ٹرکوں کے ساتھ وارد ہوا ہے اور سبھی پنڈت برادری کو جموں لے جا رہا ہے۔ وہ ہم سے کہہ رہے ہیں کہ اگلے چند روز کے اندر کوئی بڑا آپریشن ہونے والا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہوائی بمباری بھی ہو۔’’ امرناتھ انکل بضد تھے کہ ہم بھی ان کے ساتھ منتقل ہو جائیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے اس سلسلے میں افسر سے بات کی ہے‘‘۔ جب میرے والد نے انکار کیا تو امرناتھ انکل نے میرا ہاتھ پکڑ کر میرے والد سے فریاد کی کہ ’’اگر تمہیں مرنا ہی ہے، تو کم از کم اپنے بیٹے کو ہمارے ساتھ روانہ کردو، اسے تو زندہ رہنے دو۔‘‘مگر میرے والد کے مسلسل انکار کے بعد وہ روتے ہوئے تاریکی میں گم ہو گئے۔ اگلے دن صبح یہ عقدہ کھلا کہ پوری پنڈت برادری کو ٹرکوں میں ساز وسامان کے ساتھ زبردستی بٹھا کر جموں کے پناہ گزیں کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں وہ ابھی تک مقیم تھے۔ جب یہ لوگ گئے تھے تو اگلی صبح پورے محلے کے لوگ رو رہے تھے کہ یہ لوگ کہاں چلے گئے۔ میں اپنے گھر کی حالت تو بتا بھی نہیں سکتا۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ امرناتھ انکل کے گھر سے ہمارے گھریلو رشتے تھے۔ میرے والد اور وہ ایک ہی ڈپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔ میرے والد جب بھی دہلی آتے تھے تو سب سے پہلے ان کے گھر ادھم پور جاتے تھے، وہاں امرناتھ انکل کے گھر میں رکتے تھے۔ امرناتھ انکل کا بیٹا کرنال میں تھا۔ میرے والد ادھم پور سے اس سے ملنے پہلے کرنال جاتے اور اس کے گھر رکتے۔ اس کے بعد وہ دہلی میرے گھر آتے تھے۔ واپسی میں بھی میرے والد ان سے مل کر ہی گھر واپس ہوتے تھے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢